کورونا کے سامنے کون ڈھال بنا؟

کورونا کے سامنے کون ڈھال بنا؟
کورونا کے سامنے کون ڈھال بنا؟

  

عالمی وبا قرار دیے جانے والے کورونا وائرس سے پوری دنیا میں متاثرہ افراد کی تعداد انتالیس لاکھ سولہ ہزار سے زائد ہو گئی ہے۔ کورونا وائرس نامی اس مہلک وبا کے باعث اب تک جہان فانی سے دو لاکھ ستر ہزار سے زائد افراد کوچ کر چکے ہیں۔ پوری دنیا میں اب تک اپنے یقین، مضبوط قوت ارادی اور طاقتور مدافعتی نظام کی بدولت تیرہ لاکھ تینتالیس ہزار سے زائد افراد کورونا کو شکست بھی دے چکے ہیں۔ جو ایک خوش آئند بات ہے۔

وبائی امراض کی فوری تشخیص کرنا، وبائی امراض کے پھیلاؤ کی روک تھام کرنا اور اس کا شکار ہونے والے افراد کے علاج کا طریقہ کار دریافت نہایت مشکل امور ہیں۔ چین دنیا کا وہ پہلا ملک ہے جس نے ان تمام امور میں نہ صرف خاطر خواہ کامیابی حاصل کی بلکہ دنیا کے ساتھ اس حوالے سے اپنے تجربات کا تبادلہ بھی کر رہا ہے۔

چین کی ان کامیابیوں کا راز جاننے کے لئے دنیا بھر میں آزادانہ تحقیقات جاری ہیں۔ ایسی ایک تحقیق حالیہ دنوں معروف تحقیقی جریدے " نیچر" میں شائع ہوئی۔ چار مئی کو ، اس اعلیٰ شہرت کے حامل بین الاقوامی علمی جریدے "نیچر" نے اپنی ویب سائٹ پر برطانیہ ، چین اور امریکہ کے ماہرین پر مشتمل کثیرالملکی تحقیقی ٹیم کی جانب سے تیار کردہ ایک رپورٹ شائع کی۔ اس تحقیق میں مرتب کئے گئے اعدادو شمار اور جائزے سے یہ پتہ چلتا ہے کہ چین میں وبا کی روک تھام کے لئے تین "غیر فارماسیوٹیکل رکاوٹوں" نے اہم کردار ادا کیا ہے۔ ان رکاٹوں کی وجہ سے نہ صرف چین میں نوول کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکا گیا بلکہ دنیا کو وبا کے خلاف تیاری کے لئے قیمتی وقت فراہم کیا گیا۔مطالعہ میں نشاندہی کی گئی ہے کہ اگر یہ مضبوط" غیر فارماسیوٹیکل "رکاوٹیں اختیار نہ کی جاتیں تو ، چین میں کووڈ-۱۹ کے کیسوں کی تعداد میں 67 گنا تک اضافہ ہوسکتا تھا۔

یہ تحقیق برطانیہ کی ساؤتھ ایمپٹن یونیورسٹی ، چین کی فوڈان یونیورسٹی ، ووہان سی ڈی سی سنٹر ،امریکہ کی ہاورڈ یونیورسٹی اور جان ہاپکنز یونیورسٹی سے تعلق رکھنے والی ریسرچ ٹیموں نے تیار کی ہے۔چین میں اختیار کی جانے والی تین اہم" غیر فارماسیوٹیکل" رکاوٹوں میں، شہروں کے مابین سفری پابندی، متاثرہ مریضوں کی ابتدائی شناخت اور صحت مند افراد سے علیحدگی اور سماجی فاصلے کو یقینی بنانا شامل ہیں۔

متعدد دانشوروں اور تجزیہ نگاروں کے مطابق چینی کمیونسٹ پارٹی کی رہنمائی چین میں وبا کو شکست دینے کے راز وں میں سے ایک ہے۔اس سے دوبارہ ثابت ہوا ہے کہ چینی کمیونسٹ پارٹی کی رہنمائی چین میں ملک کے نظام اور طرز حکمرانی کی سب سے نمایاں خوبیوں میں سے ایک ہے۔تجزیہ نگاروں نے کہا کہ چین میں چھوٹے عرصے میں وبا کے خلاف کامیابی کے حصول کی وجہ "اہم معاملات کو اولین ترجیح دیتے ہوئے تمام وسائل کو ایک جگہ یکجا کرنا " ہے۔یہ نظام کی خوبی ہے۔وبا کے پھیلاؤ کے تناظر میں ہر ملک کو طبی وسائل کی کمی کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔ تاہم چین نے مضبوط معاشرتی نظام اور تنظیمی صلاحیتوں کے ساتھ مذکورہ مشکلات کو دور کر کے وبا کے پھیلاؤ کو روکا۔

عالمی برادری کو متحد ہوکرپختہ عزم کے ساتھ وبا کا مقابلہ کرنا چاہیئے ۔ اب بھی بہت کچھ ہو سکتا ہے عالمی تعاون کو مضبوط بناتے ہوئے انسان اور وائرس کے درمیان جنگ میں فتح کے لیے کوشش کرنی چاہیئے ۔

دو ہزار آٹھ میں جب دنیا کو مالیاتی بحران کا سامنا کرنا پڑا تھا تو اس وقت جی ٹونٹی سربراہان واشنگٹن میں جمع ہوئے تھے اور مالیاتی بحران کا مقابلہ کرنے کے لیے سلسلہ وار اقدامات پر اتفاق کیا تھا۔اسی سال چین نے معیشت کی بہتری کیلئے حوصلہ افزا پالیسیاں جاری کیں جن کی مدد سے عالمی معیشت بحران سے نکل آئی۔ اب بھی اسی اتحاد کی ضرورت ہے۔

چین کووڈ-۱۹ سے کافی متاثر ہوا ہے اور چین نے وبا سے لڑنے کے دوران بڑی قربانیاں دی ہیں ،تاہم وائرس کے مقابلے کے دوران گراں قدر تجربات بھی حاصل کیے ہیں ۔چین یہ تجربات آج پوری دنیا کے ساتھ بانٹ رہا ہے۔

وائرس انسانوں کا مشترکہ دشمن ہے جس کے سامنے کوئی ملک محفوظ نہیں ہے۔ اس وقت عالمی برادری کو وباکے مقابلے کیلئے اتحاد اور تعاون کی زیادہ ضرورت ہے۔ذاتی مفادات کےحصول کیلئے دوسروں پرالزام تراشی بند کرنے کی ضرورت ہے ۔

چین نے اپنے انہی تجربات کی بدولت اس وبا کو شکست دی ہے۔ چین میں معمولات زندگی بحال ہیں لیکن احتیاط کا دامن اب نہیں چھوڑا گیا۔ پاکستان میں لاک ڈاؤ ن کھلنے کے بعد  شہریوں بنیادی احتیاطی تدابیر پر  ضرور عمل پیرا  رہنا چاہیے  تاکہ زندگی کو معمول پر لانے کی حکومتی کوششیں کارگر ثابت ہوں اور عوام بغیر کسی نقصان کے مستفید ہو۔

۔

 نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ۔

۔

اگرآپ بھی ڈیلی پاکستان کیساتھ بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو اپنی تحاریر ای میل ایڈریس ’zubair@dailypakistan.com.pk‘ یا واٹس ایپ "03009194327" پر بھیج دیں۔

مزید :

بلاگ -