کورونا وائرس کے خلاف اب تک کی سب سے موثر دوا، بنانے کا خرچ صرف 1500 روپے لیکن مریضوں سے لاکھوں روپے لیے جائیں گے

کورونا وائرس کے خلاف اب تک کی سب سے موثر دوا، بنانے کا خرچ صرف 1500 روپے لیکن ...
کورونا وائرس کے خلاف اب تک کی سب سے موثر دوا، بنانے کا خرچ صرف 1500 روپے لیکن مریضوں سے لاکھوں روپے لیے جائیں گے

  

نیویارک(مانیٹرنگ ڈیسک) مختلف ممالک کے میں کورونا وائرس کے خلاف پہلے سے موجود کئی ادویات کے تجربات کیے گئے لیکن سب ناکام ہوئے۔ صرف ایک دوا کورونا وائرس پر مو¿ثر ثابت ہو رہی ہے جس کا نام ’Remdesivir‘ ہے اور امریکی ادارے ’فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن‘ (ایف ڈی اے)نے اس دوا سے مریضوں کا علاج کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ تاہم اب اس کی قیمت کے متعلق ایسا دعویٰ سامنے آ گیا ہے کہ سن کر ہی لوگوں کے ہوش اڑ جائیں گے۔ میل آن لائن کے مطابق اگرچہ اس دوا کے 10دن کے کورس کی تیاری پر صرف 9.32ڈالر (تقریباً 1ہزار 484روپے) ہے لیکن کمپنی دوا کے کورونا وائر س پر مو¿ثر ثابت ہونے کے بعد اس کی قیمت میں کئی گنا اضافہ کر سکتی ہے۔ عالمی مارکیٹ میں قیمتوں کی نگرانی کرنے والی ایک تنظیم نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ یہ دوا بنانے والی کمپنی ’جیلیڈ‘ (Gilead)ممکنہ طور پر اس دوا کی قیمت فی ٹریٹمنٹ ساڑھے 4ہزار ڈالر (تقریباً 7لاکھ 16ہزار روپے) تک بڑھا سکتی ہے۔

تنظیم نے یہ دعویٰ کمپنی کے ماضی کے ریکارڈ کو دیکھتے ہوئے کیا ہے۔ 2013ءمیں اسی کمپنی کی ہیپاٹائٹس سی کی دوا اس مرض کے خلاف بہت موثر ثابت ہوئی تھی جس کے بعد کمپنی نے اس دوا کی ایک گولی کی قیمت حیران کن طور پر1ہزار ڈالر (تقریباً 1لاکھ 59ہزار روپے)کر دی تھی۔ اس وقت بھی اس حرکت پر کمپنی کو عالمی سطح پر کڑی تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا چنانچہ مختلف تنظیمیں اب بھی دعویٰ کر رہی ہیں کہ جیلیڈ اپنی دوا ’remdesivir‘ کی قیمت بھی اسی طرح حیران کن حد تک بڑھا دے گی۔ کئی کنزیومر ایڈووکیٹس کا بھی کہنا ہے کہ ”غالب امکان ہے کہ کمپنی اپنی اس دوا کی قیمت بھی بہت زیادہ بڑھائے گی لیکن بین الاقوامی وباءکے دنوں میں دوا کی قیمت 10ڈالر فی ٹریٹمنٹ سے زیادہ بڑھانا غیرمنصفانہ ہو گا۔“

مزید :

کورونا وائرس -