کورونا وائرس کے بعد کارٹون سمپسنز میں کی جانے والی ایک اور پیشنگوئی سچ ثابت ہوگئی، پوری دنیا حیران پریشان رہ گئی

کورونا وائرس کے بعد کارٹون سمپسنز میں کی جانے والی ایک اور پیشنگوئی سچ ثابت ...
کورونا وائرس کے بعد کارٹون سمپسنز میں کی جانے والی ایک اور پیشنگوئی سچ ثابت ہوگئی، پوری دنیا حیران پریشان رہ گئی

  

نیویارک(مانیٹرنگ ڈیسک) مشہور زمانہ کارٹون سمپسنز کا مقصد اگرچہ لوگوں کے چہروں پر مسکراہٹیں بکھیرنا تھا لیکن دہائیوں پہلے ان کارٹونز میں دکھائی گئیں کچھ چیزیں ایسے حیران کن طریقے سے درست ثابت ہوئیں کہ دنیا دنگ رہ گئی۔ ان کارٹونز میں ڈونلڈٹرمپ کا امریکہ کا صدر بننا، ڈزنی کا فوکس سٹوڈیو خریدنا اور ایبولا وائرس کا پھیلنا وغیرہ جیسی کئی پیش گوئیاں کی گئیں جو دہائیوں بعد من و عن درست ثابت ہوئیں۔ اب کورونا وائرس کے متعلق بھی منکشف ہوا ہے کہ اس کی بھی سمپسنز کارٹونز میں پیش گوئی کی گئی تھی جو اب درست ثابت ہو چکی ہے۔ میل آن لائن کے مطابق سمپسنز کی یہ قسط 1993ءمیں نشر کی گئی تھی جس میں کورونا وائرس کی پیش گوئی کی گئی تھی۔

اس قسط کا نام Margie in chains تھا جس میں دکھایا گیا تھا کہ جاپان کے شہر سپرنگ فیلڈ سے ’اوساکا فلو‘ نام کی ایک وباءپھوٹتی ہے جو دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے۔ اگرچہ کورونا وائرس کی وباءجاپان کی بجائے چین سے پھوٹی ہے لیکن اس قسط میں ’اوساکا فلو‘ سے متعلق جو صورتحال دکھائی گئی ہے وہ آج کورونا وائرس کی صورتحال سے حیران کن حد تک مشابہہ ہے۔ اس قسط میں اوساکا فلو کی وجہ سے بھی وہی خوف و ہراس اور افراتفری دکھائی جاتی ہے جو آج کورونا وائرس کی وجہ سے دنیا میں پھیلی ہوئی ہے۔

اس ویڈیو میں لوگ اس فلو نامی وباءکی دوا مانگ رہے ہوتے ہیں اور بہت مشتعل ہوتے ہیں۔ وہ ایک ٹرک کے اوپر چڑھ جاتے ہیں جس میں شہد کی مکھیوں کے چھتے موجود ہوتے ہیں۔ جب وہ ان میں سے ایک ڈبے کے اندر دیکھتے ہیں تو اس میں شہد کی مکھیوں کی بجائے ایک اور خطرناک کیڑا ہوتا ہے جو شہد کی مکھیوں سے چار گنا بڑا ہوتا ہے۔ انٹرنیٹ صارفین اس کیڑے کو آج کل امریکہ میں پھیلے ہوئے خطرناک کیڑے’Murder hornets‘ سے تشبیہ دے رہے ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ ایک طرف کورونا کی وباءسے پریشان لوگ ویکسین کی تیاری کے لیے سائنسدانوں کی طرف دیکھ رہے ہیں اور دوسری طرف امریکہ میں کورونا کے ساتھ یہ قاتل جرثومہ پھیلا ہوا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ امریکہ میں لاک ڈاﺅن کے خلاف ہونے والے احتجاج کو بھی اس قسط میں ہونے والے احتجاج سے جوڑا جا رہا ہے اور نتیجہ یہ اخذ کیا جا رہا ہے کہ اس قسط میں آج کے حالات کی پیش گوئی کی گئی تھی جو من و عن درست ثابت ہو رہی ہے۔

ایک صارف نے ٹوئٹر پر 1993ءمیں نشر کی گئی اس قسط کا ویڈیو کلپ شیئر کیا اور کہا کہ ’سمپسنز کی ایک اور پیش گوئی درست ثابت ہوئی۔‘ صارف کی اس ٹویٹ پر سمپسنز کے مصنف بِل اوکلے نے جوابی ٹویٹ کیا جس میں انہوں نے لکھا کہ ”اچھا! میرے خیال میں ہم نے ایک بار پھر یہ کر دکھایا۔“اس ویڈیو کی موجودہ صورتحال سے انتہائی مشابہت نے انٹرنیٹ صارفین کو اس قدر حیرت میں مبتلا کر رکھا ہے کہ یہ لوگ جوابی ٹویٹس میں لکھ رہے ہیں کہ اب وہ سمپسنز کارٹون کو شروع سے آخر تک دیکھیں گے اور معلوم کرنے کی کوشش کریں گے کہ ان میں اور کیا کیا پیش گوئیاں کی گئی ہیں۔

مزید :

ڈیلی بائیٹس -