عوام کی مشکلات کیسے حل ہوں گی؟

عوام کی مشکلات کیسے حل ہوں گی؟
عوام کی مشکلات کیسے حل ہوں گی؟

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


ہر شخص اپنے دماغ سے سوچتا ہے، اپنی عقل سے فیصلے کرتا ہے،مگر اپنے اردگرد کے ماحول سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا،کہتے ہیں ایک اکیلا دو گیارہ۔ اجتماعی ماحول اور اجتماعی زندگیاں نہ صرف ہمیں مشکل ماحول سے بچاتی ہیں،بلکہ ہمیں ایک دوسرے کا دوست بھی بناتی ہیں۔ ہم آپس میں رشتے دار ہوں نہ ہوں، چاہے خونی رشتے ہوں یا نہ ہوں سادہ سی زندگی بے تحاشا الجھنوں میں گرفتار ہو کر ایک ایسا تماشہ بن گئی ہے  جس کو پوری دنیا دیکھ سکتی ہے، اپنی خود غرضی، مفاد پرستی کے لئے تمام حدیں پار کر لیتے ہیں، نہ خدا کا خوف نہ دنیا کا ڈر، بس طاقت کا گھمنڈ، دوسروں کو زیر کرنے کے لئے دماغ کا زیادہ استعمال کرتے ہیں،سنی سنائی باتوں پر بغیر تحقیق کے ایکشن لیتے ہیں، جس کو پوری دنیا دیکھ سکتی ہے۔ جدید سائنس اور جدید ضروریات نے ہم انسانوں کو ایک ایسے جال میں الجھا دیا ہے کہ صرف طاقت اور طاقت کا کھیل نظر آتی ہے۔ایک ایسے بے حسی، لاپرواہی، کم علمی، دکھاوے کا شوق ہمیں جہالت کی بلندیوں پر لے جا رہا ہے اور ہم بے خبری میں زندہ ہیں، مگر یہ بے خبری کب تک؟ کہاں چلے جاتے ہیں وہ پیارے جن کے بغیر زندگی گزارنا مشکل ہوتا ہے، ہمیں اپنی سوچ کو تبدیل کرنا ہو گا۔ یہ دنیا اللہ نے انسان کے لئے ایک امتحان کے طور پر بنائی ہے،اشرف المخلوقات کی بھلائی کے لئے انسان کو پیدا کیا، اس کی اپنی عبادت کے لئے فرشتے بہت تھے، اللہ کے احکامات کی پیروی ضرور کریں، عبادات کرنا افضل فریضہ ہے۔


نہ جانے کب تک  ہم سازشوں کی نذر ہوتے رہیں گے، اپنی آنے والی نسلوں کو کیا ہم بربادی، جہالت کے سمندروں کے سپرد کریں گے، کیا ہم نے اتنی تباہی کے بعد بھی کچھ نہیں سیکھا؟ بڑے بڑے کرپشن کے کیس بے نقاب ہوئے، بڑی دھوم دھام سے کہانیاں سٹوریاں چلیں، ٹی وی چینلوں نے بال کی کھال نکالی۔ کروڑوں اربوں کی کرپشن سننے والوں کے منہ کھلے رہ گئے، پھر وہی ہوا جو ہوتا ہے، بات آئی گئی ہو گئی، کہانیاں دھندلی پڑ گئیں، بندے ملک چھوڑ کر عزت سے دوسرے ملکوں میں چلے گئے اور پیچھے آنے والوں کے لئے اپنی مثالیں چھوڑ گئے، ایک کیس ہے جو چلے جا رہا ہے، عام شہری وہی دکھائی دے رہے ہیں، نہ تعلیمی نظام ٹھیک ہوا ہے، نہ صحت، نہ پینے کے لئے پانی وہی پرانی مشکلات برقرار ہیں، البتہ چہرے بدل گئے۔ بڑے بڑے لوگوں کے جرائم، فراڈ کی کہانیاں،دولت جمع کرنے کے فراڈ کی کہانیاں،عدالتوں میں تاریخیں وی آئی پی پروٹوکول کے ساتھ پیشیاں، عوام روزانہ سڑکوں پر دھکے کھاتے ہیں۔ عوام متحد ہو جائیں اور پرانے چکر باز مفاد پرست لوگوں سے ہوشیار رہیں جو اپنے مفاد کے لئے عوام کو استعمال کرتے ہیں۔قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے اپنا احتجاج کریں ملک کو لوٹنے والوں کے جھانسے میں نہ آئیں مطالبہ کریں کہ احتساب کا دائرہ کار سب کے لئے اور سزا کا دائرہ کار بھی سب کے لئے یکساں ہو۔

ملک میں تعلیم کی کمی کی وجہ سے بھی بے شمار مشکلات ہیں۔ تعلیم کا حصول اور تعلیم کا معیار جگہ جگہ الگ ہوگا تو انسانیت یکساں کیسے ہو گی؟ لیکن حکومت کے ذمہ داروں کو عوام کے لئے پہلے سے بہتر حالات پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔ ہمارے ملک میں سیاست نے سب کچھ بدل کر رکھ دیا ہے ملک میں 70/80 پارٹیاں ہیں، صوبوں کی سطح پر بھی،شہر شہر اپنی اپنی ذاتی سیاسی پارٹیاں اور گروپ ہیں۔ حیران کن بات ہے کہ ان پارٹیوں کے 15/20کرتا دھرتا بھی ایک رائے نہیں رکھتے، ایک دوسرے کے خلاف سیاسی اور ذاتی الزامات لگاتے ہیں اور عوام کو اپنی اپنی مرضی کے مطابق چلانے کی کوشش کرتے ہیں، گویا قول و فعل اور کردار کی کوئی قدر ہی نہیں جو دل چاہے کہے جاؤ۔اب عوام کس کس کی باتوں پر افسوس کریں۔  ذاتی مشکلات ہی اتنی ہیں عوام کی بے بسی کا یہ عالم ہے کہ گندگی، غلاظت، مہنگائی کے پہاڑ، بدمعاشیاں، قتل و غارت سب کچھ برداشت کئے جا رہے ہیں۔


 ناجائز تجاوزات، نا جائز پارکنگ اور سب سے بڑی کم بختی ہے کہ عوام بے حس ہو جائیں۔ یہ عوام پر ظلم اور زیادتیاں ہیں، یہ ان کے حقوق سلب کرنے کے مترادف ہے، لیکن خاموش ہیں کہ یہ بھی حکومتی لوگ، بلدیاتی ادارے کریں، وہ کیوں کریں۔ ان کی آمدن کا ذریعہ ہے، زندگی اگر کہیں پڑے رہنے کا نام ہے تو زندگی کا کیا حاصل۔ اس میں شک نہیں کہ شیطان اور فرشتے ہمارے اردگرد ہمیشہ ہیں، بس جب سمجھ بوجھ ختم ہو جائے، پہچاننے کی صلاحیت ہی دم توڑ جائے تو کیا کیا جائے، ہر شعبے کو چابی کا گڈا بنا دیا گیا ہے تو انصاف کہاں سے ملے گا،کہاں سے آئے گا؟ قانون اندھا ہے۔ معاملات کو روپے پیسے کے پہیئے لگا دیں اور پھر تماشا دیکھیں، ایسا نہیں ہے کہ ملک میں نایاب ہیرے موجود نہیں، بلکہ یہ تو وہ ملک ہے کہ جہاں کی مٹی بھی سونا ہے۔ بلوچستان جیسے صوبے میں سونے، ہیرے جواہرات کی کانیں موجود، سوئی گیس جیسی نعمت موجود ہے، خوبصورتی سے مالا مال زیارت جیسا خوبصورت مقام لیکن افسوس کہ یہ صوبہ بھی محرومیوں کا شکار ہے۔ اتنا عالی شان یہ ملک اور اتنے ہی محنتی لوگ ایک اچھی مخلص قیادت اس ملک کو کہاں سے کہاں پہنچا سکتی ہے، اس کا اندازہ لگانا مشکل نہیں،لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ ملک ایٹمی طاقت ہے، یہ کوئی معمولی بات نہیں، مگر خدا کے واسطے اس ملک کو روشن اور تابندہ کیجئے، کھنڈر نہ بنائیں۔ مختلف نعروں کے ساتھ مختلف سیاسی پارٹیاں خود کو مضبوط کرنے کی کوشش کر رہی ہیں کہ کسی نہ کسی طرح اقتدار حاصل کریں، الیکشنوں تک ملک میں امن و امان رہنے دیں، جب الیکشن آئیں گے تو اپنی اپنی طاقت کا مظاہرہ کریں، ابھی ملک کو امن و امان کی ضرورت ہے، عوام بے شمار مشکلات کے شکار ہیں۔

مزید :

رائے -کالم -