چینی ویکسین کی ڈبلیو ایچ او سے توثیق

چینی ویکسین کی ڈبلیو ایچ او سے توثیق
چینی ویکسین کی ڈبلیو ایچ او سے توثیق

  

عالمی ادارہ صحت نے حال ہی میں چینی ادارے سائنو فارم کی تیارکردہ کووڈ۔19ویکسین کے گلوبل سطح پر ہنگامی استعمال کی توثیق کر دی ہے۔اس طرح چین وہ پہلا غیر مغربی ملک ہے جس کی تیارکردہ ویکسین ڈبلیو ایچ او کے تحت دنیا میں وسیع پیمانے پر استعمال کی جائے گی۔اس اہم پیش رفت اور ویکسین پیداوار کے شعبے میں چین کی کمال مہارت کا ایک فائدہ یہ بھی ہو گاکہ محدود اور درمیانی آمدنی والے ممالک میں ویکسی نیشن کی کوششوں میں تیزی آئے گی۔  ڈبلیو ایچ او  کی کووڈ۔19ویکسین کے ہنگامی استعمال کی فہرست میں یہ چھٹی ویکسین شامل ہوئی ہے جس میں عالمی ادارے کی جانب سے تحفظ ، افادیت اور معیار کے پیمانے مدنظر رکھتے ہوئے توثیق کی گئی ہے۔ ڈبلیو ایچ او  اس سے قبل فائزر ، آسٹرا زینیکا ، آکسفورڈ ، جانسن  اور موڈرنا کی تیار کردہ ویکسینز کے ہنگامی استعمال کی منظوری دے چکی ہے۔ 

اس پیش رفت سے ایسی ویکسین کا دائرہ کار وسیع ہوجائے گا جو ڈبلیو ایچ او کے تحت  ویکسین تعاون کے عالمی منصوبے "کووایکس" تحت خریدی جاسکتی ہیں۔"کووایکس" ایک ایسا عالمی اتحاد ہے جو دنیا بھر میں ویکسین کی منصفانہ اور مساوی رسائی کو یقینی بنانے کے لئے کام کرتا ہے۔ڈبلیو ایچ او کی فہرست میں شامل ہونے والی اس نئی ویکسین سے مختلف ممالک میں ویکسین کی منظوری کے عمل میں تیزی آئے گی ،لوگوں کاا عتماد بڑھے گا اور ویکسین کی برآمد سے دنیا بھر میں  ویکسی نیشن کو فروغ ملے گا۔

بلاشبہ وبا کے خلاف جاری جنگ میں ویکسین ایک اہم وسیلہ بنی ہوئی ہے لیکن دنیا بھر میں ویکسین کی تعداد اور تقسیم ناکافی ہے اور دنیا کے کئی ممالک نے ویکسین کی غیر منصفانہ تقسیم پر شدید تشویش ظاہر کی ہے۔مغربی ممالک وسائل کے بل بوتے پر ویکسین زخیرہ کیے ہوئے ہیں اور ملکی سطح پر ویکسی نیشن کو تیزی سے آگے بڑھا رہے ہیں جبکہ دوسری جانب محدود وسائل کے حامل ممالک ابھی تک ویکسین کی عدم دستیابی کا رونا رو رہے ہیں۔ دنیا میں ویکسین کی دستیابی کا زکر کیا جائے تو عالمی سطح پر اس وقت تک 1.1 بلین سے زائد کووڈ ۔19 ویکسین کی خوراکیں دی جا چکی ہیں ، لیکن ان میں 80 فیصد سے زیادہ بلند آمدنی یا وسائل سے مالا مال ممالک میں دی گئی ہیں  جبکہ کم آمدنی والے ممالک میں یہ شرح صرف 0.3 فیصد کی خطرناک سطح پر ہے۔چین نے ایک بڑے ذمہ دار ملک کے طور پرترقی پذیر ممالک کی فوری ضروریات کو پورا کرنے کے لئے "کووایکس" کے تحت دس ملین ویکسین فراہم کرنے کا فیصلہ کیا ہے ، جو چین کی جانب سے ویکسین کو عالمی سطح پر "عوامی شے" کا درجہ دینے کے اپنے  وعدے کی تکمیل کے لیے ایک ٹھوس اقدام ہے۔

جہاں تک ویکسین کے حوالے سے چین کی پیداواری صلاحیت کا تعلق ہے تو  سائنو فارم بائیوٹیک کے چیئرمین  یانگ ژاؤومنگ نے بتایا کہ دنیا میں ویکسین کی بڑھتی ہوئی طلب کو مدنظر رکھتے ہوئے پیداوار  کو بڑھایا جا رہا ہے۔ یہ امر  باعث حیرت ہے کہ سائنو فارم کی جانب سے 03 ارب خوراکیں تیار کرنے کا منصوبہ آخری مرحلے میں ہے۔اس دوران  نئی فیکٹریوں کی تعمیر اور پیکیجنگ سمیت دوسرے ممالک کے ساتھ معاہدوں پر اتفاق بھی شامل ہے۔

100 سے زیادہ ممالک پہلے ہی کمپنی سے ویکسین کی فراہمی کے معاہدوں پر اتفاق کر چکے ہیں۔

وبا  کی روک تھام اور کنٹرول کے شعبے میں چین کی یہ ایک اہم کامیابی ہے۔ چین دنیا میں وہ پہلا ملک ہے جس نے وبا کو شکست دی ہے اور دنیا کی ابتدائی ویکسین بھی کامیابی کے ساتھ تیار کی ہے۔صحت کے حوالے سے انسانیت کے مشترکہ مستقبل کے تصور کی پاسداری کرتے ہوئے چین اب تک 80 سے زائد ممالک اور تین بین الاقوامی تنظیموں کو امدادی ویکسین فراہم کر چکا ہے  ،چین کی جانب سے 40 سے زائد ممالک کو ویکسین برآمد کی گئی ہے ، اور ویکسین تحقیق ، ترقی اور پیداوار میں دس سے زیادہ ممالک کے ساتھ باہمی تعاون  پر عمل پیرا ہے۔ 

کہا جا سکتا ہے کہ چینی ویکسین کی توثیق ، ملک میں اعلیٰ ترین ٹیکنالوجی اور صحت عامہ کے شعبے میں بلند تحقیقی معیار و ترقی کا نتیجہ ہے۔اس سے "میڈ ان چائنا" لیبل کی عالمی ساکھ کو نئی تقویت ملی ہے۔

۔

 نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

۔

 اگرآپ بھی ڈیلی پاکستان کیساتھ بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو اپنی تحاریر ای میل ایڈریس ’zubair@dailypakistan.com.pk‘ یا واٹس ایپ "03009194327" پر بھیج دیں.   ‎

مزید :

بلاگ -