سوئس حکام کے نام خط ،حکومت پاکستان صدر کے حق استثناءسے دستبردارنہیں ہوئی

سوئس حکام کے نام خط ،حکومت پاکستان صدر کے حق استثناءسے دستبردارنہیں ہوئی
سوئس حکام کے نام خط ،حکومت پاکستان صدر کے حق استثناءسے دستبردارنہیں ہوئی

  

سپریم کورٹ کی ہدایت پر بالآخر وفاقی حکومت نے سوئس حکام کو خط لکھ دیا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق اس خط کا متن وہی ہے جو سپریم کورٹ نے 10 اکتوبر 2012ءکو منظور کیا تھا۔ اس خط میں کہا گیا ہے کہ یہ خط 22 مئی 2008ءکو اس وقت کے اٹارنی جنرل پاکستان ملک محمد قیوم کے اس خط کے تناظر میں لکھا جا رہا ہے جو انہوں نے سوئس اٹارنی جنرل کے نام لکھا تھا۔ خط کے دوسرے پیراگراف میں کہا گیا ہے کہ یہ خط سپریم کورٹ کے حکم کی روشنی میں لکھا جا رہا ہے۔ اب ملک محمد قیوم کی طرف سے لکھا جانے والا خط واپس لیا جا رہا ہے۔ یہی تصور کیا جائے کہ مذکورہ خط کبھی لکھا ہی نہیں گیا اس لئے سوئس مقدمات کے حوالے سے ہماری سابقہ درخواستوں، حیثیت اور دعویٰ جات کو بحال کیا جائے۔ خط کے آخری پیراگراف میں کہا گیا ہے کہ اوپر جو کچھ تحریر کیا گیا ہے وہ صدر / ریاستی سربراہ کے قانونی حقوق اور دفاع کو متاثر نہیں کرے گا۔ یہ وہ حقوق ہیں جو انہیں قانون، آئین اور بین الاقوامی قانون نے تفویض کئے ہیں۔

اس خط کے تیسرے پیراگراف سے واضح ہوتا ہے کہ حکومت پاکستان اپنے ریاستی سربراہ یعنی صدر مملکت آصف علی زرداری کے استثنا کے حق سے دستبردار نہیں ہوئی ہے۔ آئین کے آرٹیکل 248 کے تحت صدر مملکت کے خلاف کسی عدالت میں کوئی فوجداری مقدمہ چل سکتا ہے اور نہ ہی انہیںکوئی عدالت سزا دے سکتی ہے۔ اسی طرح اگر پہلے سے ان کے خلاف کوئی مقدمہ زیر سماعت ہو تو اسے بھی روک دیا جائے گا۔ صدر کو یہ استحقاق اس وقت تک کے لئے حاصل ہے جب تک کہ وہ اس عہدے پر فائز ہیں۔ اسی طرح بین الاقوامی قوانین کے تحت بھی کسی ریاست کے سربراہ کے خلاف کسی دوسرے ملک میں مقدمہ نہیں چلایا جا سکتا۔ سوئٹزرلینڈ اور پاکستان دونوں نے ان کنونشنز پر دستخط کر رکھے ہیں جن سے ریاست کے سربراہ کے استثناءکا بین الاقوامی قانون ماخوذ ہے۔ ان حالات میں یہ ممکن نظر نہیں آتا کہ صدر آصف علی زرداری کے خلاف سوئس مقدمات فوری طور پر دوبارہ کھل جائیں گے۔ اب یہ سوئس حکومت پر منحصر ہے کہ اس خط میں کی گئی درخواست کا وہ کس انداز میں جائزہ لیتی ہے۔ بین الاقوامی قانون کے تحت متعلقہ کنونشن پر دستخط کرنے والے وہ تمام ممالک اس میوچل لیگل اسسٹنس (باہمی قانونی معاونت) کی درخواست کو قبول کرنے کے پابند ہیں جو وہ ایک دوسرے سے کریں گے۔ بے نظیر بھٹو، بیگم نصرت بھٹو اور آصف علی زرداری سمیت منی لانڈرنگ کے مقدمہ کے دیگر ملزموں کے خلاف سوئس حکام نے 1998ءمیں باہمی قانونی معاونت سے متعلق پاکستان کی درخواست منظور کی تھی جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ ملزموں کے خلاف جس کالے دھن کا مقدمہ زیر سماعت ہے، وہ رقم پاکستانی عوام کی ہے اور اگر یہ رقم بلیک منی ثابت ہو جائے تو اسے پاکستان کو لوٹایا جائے۔ سپریم کورٹ کے حکم کی روشنی میں اب جو خط لکھا گیا ہے اس میں 1998ءکی باہمی قانونی معاونت کی درخواست کو تمام مندرجات سمیت بحال کرنے کے لئے کہا گیا ہے۔

آئینی، قانونی اور بین الاقوامی قوانین کے تحت جب تک آصف علی زرداری صدر پاکستان ہیں، سوئس حکام ان کے خلاف منی لانڈرنگ کا مذکورہ مقدمہ ری اوپن کرکے ان کے خلاف کارروائی نہیں کر سکتے، تاہم یہ بات خارج از امکان نہیں ہے کہ مقدمہ ری اوپن کرکے اس پر مزید کارروائی اس وقت تک کے لئے مو¿خر کر دی جائے جب تک کہ آصف علی زرداری صدر کے عہدہ سے الگ نہیں ہو جاتے۔ پاکستان کے نئے خط جو سوئس حکام کو مبینہ طور پر سیکرٹری قانون جسٹس (ر) یاسمین عباسی کے دستخطوں سے بھجوایا گیا ہے، کی حیثیت اس ایف آئی آر جیسی ہے، جسے درج کرنے کے بعد ”سیل“ کر دیاگیا ہو۔

ایک تاثر یہ ہے کہ ستمبر کے آخر میں منی لانڈرنگ کیس کی 15 سال کی معیاد ختم ہو چکی ہے اور سوئس قوانین کے تحت یہ مقدمہ ری اوپن نہیں ہو سکتا۔ اس حوالے سے بے نظیر بھٹو کے سابق وکیل بیرسٹر افتخار احمد واضح کر چکے ہیں کہ سوئٹزرلینڈ کی انتظامی اکائیوں میں معیاد کے مختلف قوانین رائج تھے جنہیں قانون سازی کے ذریعے ایک ہی قانون میں بدل دیا گیا۔ اس قانون کی رو سے صرف وہی مقدمات 15 سال کے بعد ختم ہو سکتے ہیں جو ابھی ابتدائی مرحلہ پر ہوں۔ آصف علی زرداری کے خلاف منی لانڈرنگ کیس ابتدائی مرحلہ سے گزر چکا ہے۔ ملک محمد قیوم نے جس وقت سوئس اٹارنی جنرل کو خط لکھا تھا یہ کیس اپیل کے مرحلہ پر تھا۔ ملک محمد قیوم نے 22 مئی 2008ءکو خط لکھا تھا جبکہ یہ کیس 2003ءمیں ابتدائی مرحلہ پار کر گیا تھا جب سوئس حکومت کے جج ڈیوو نے محترمہ بے نظیر بھٹو اور آصف علی زرداری کو 6، 6 ماہ قید اور 12 ملین ڈالر جرمانہ کی سزا سنائی تھی۔ اس فیصلے کے خلاف آصف علی زرداری اور دیگر ملزموں نے اپیلیں دائر کی تھیں جبکہ سوئس پراسیکیوشن نے بھی ایک اپیل دائر کی تھی جس میں سزا میں اضافہ کی استدعا کی گئی تھی۔ یہ سزائیں ابھی معلق تھیں اور اپیلیں زیر سماعت تھیں کہ اس وقت کے اٹارنی جنرل نے پاکستانی حکومت کی باہمی قانونی معاونت واپس لے لی۔ ان حالات میں کیس کے ری اوپن ہونے یا نہ ہونے کا انحصار کسی حد تک سوئس حکومت کی صوابدید پر بھی ہے، جو مقدمہ کی موجودہ حیثیت پر بھی غور کرے گی۔ بین الاقوامی قانون کے تحت وہ باہمی قانونی معاونت قبول کرنے کے پابند ہیں لیکن یہاں معاملہ اس معاونت کی بحالی کا ہے جو تقریباً ساڑھے چار سال قبل ختم کر دی گئی تھی۔ اب پلوں کے نیچے سے بہت سا پانی گزر چکا ہے حتیٰ کہ متنازع رقم بھی متعلقہ بینکوں سے نکلوائی جا چکی ہے۔ ان حالات میں منی لانڈرنگ کیس کی بحالی کے لئے حکومت پاکستان کو جدوجہد کرنا پڑے گی اور سوئس حکام کو قائل کرنا پڑے گا کہ یہ مقدمہ دوبارہ کھولا جانا ضروری ہے، محض ایک خط سے شاید اس کے مقاصد حاصل نہ ہو سکیں تاہم بین الاقوامی قانون اور متعلقہ کنونشن پر دستخط کرنے کی بناءپر سوئس حکومت اس خط کو آسانی سے نظرانداز نہیں کر سکتی۔

مزید :

تجزیہ -