ہائیکورٹ کا فیصلہ تاخیری حربہ کے طور پر استعمال ہو گا

ہائیکورٹ کا فیصلہ تاخیری حربہ کے طور پر استعمال ہو گا

قومی اسمبلی کے اجلاس میں حکومت اور حزب اختلاف نے بلدیاتی انتخابات کے شیڈول کو مسترد کرتے ہوئے الیکشن کمیشن سے مطالبہ کیا ہے کہ عدالت عظمی سے دوبارہ رجوع کیا جائے، عجلت اور جلد بازی میں شفاف انتخابات نہیں ہوسکتے۔ بلدیاتی انتخابات کے حوالہ سے ایک دوسری اہم پیش رفت لاہور ہائیکورٹ کے ڈویژن بینچ کا فیصلہ ہے جس نے غیر جماعتی بنیادوں پر بلدیاتی انتخابات کا قانون غیر آئینی قرار دے کر کالعدم کر دیا ہے اور سیاسی جماعتوں کو بلدیاتی انتخابات میں حصہ لینے کی اجازت دے دی ہے۔ ان دونوں واقعات کے کیامضمرات ہوں گے اور بلدیاتی انتخابات کے انعقاد پر اس کے کیا اثرات مرتب ہوسکتے ہیں؟ قائد حزب اختلاف نے تو یہاں تک کہہ دیا ہے کہ الیکشن کرانا عدلیہ کا کام نہیں ہے۔ لگتا ہے کہ خورشید شاہ کو عدلیہ پر تنقید کا بہانہ چاہیئے۔ ان سیاستدانوں کو تو عدلیہ کا احسان مند ہونا چاہیئے کہ اس نے مشرف دور کے بلدیاتی ادارے (ناظمین، کونسلر وغیرہ) بحال نہیں کئے۔ الیکشن کرانا سپریم کورٹ کی ذمہ داری نہیں لیکن آئین پر عملدرآمد کرانا اور آئین کا تحفظ کرنا تو عدلیہ کے فرائض میں شامل ہے۔ مقامی حکومتوں کا نظام پرویز مشرف کے ایل ایف او اور 17 ویں آئینی ترمیم کے ذریعے آئین میں شامل کیا گیا۔ دستور کے آرٹیکل 140 (اے) کے تحت لازم ہے کہ ہر ایک صوبہ، قانون کے ذریعے مقامی حکومت کا نظام قائم کرے گا اور سیاسی انتظامات اور مالیاتی ذمہ داری اور اختیار مقامی حکومتوں کے منتخب نمائندوں کو منتقل کردے گا،اس آرٹیکل کے تحت بنائے گئے مقامی حکومتوں کے قانون کے تحت دو مرتبہ بلدیاتی الیکشن ہوئے۔

دوسری مرتبہ کے انتخابات کے نتیجہ میں قائم ہونے والے بلدیاتی اداروں کی معیاد اگست 2009ءمیں ختم ہوئی، اسی سال صوبائی حکومتوں کولوکل گورنمنٹ ایکٹ مجریہ2005ءمی ترمیم کا اختیار مل گیا۔(اس سے قبل یہ ایکٹ آئین کے شیڈول 6 میں شال تھا) اس ایکٹ میں واضح طور پر لکھا گیا تھا کہ منتخب ناظم نئے ناظم کے انتخابات تک کام کرتے رہیں گے اس کے باوجود صوبائی حکومتوں نے ناظمین کو گھر بھیج دیا کہ ان میں سے اکثریت کاتعلق مسلم لیگ (ق) سے تھا۔ حکومت کے اس اقدام کو عدالتوں میں چیلنج کیا گیا لیکن 4 سال تک ان درخواستوں کا فیصلہ نہ کیا گیا۔

اب سپریم کورٹ نے بلدیاتی الیکشن کرانے کا حکم دیا ہے۔ پنجاب حکومت اور سندھ حکومت نے خود سپریم کورٹ میں بلدیاتی انتخابات کی تاریخیں تجویز کی تھیں۔پھر بھی تمام سیاسی جماعتیں واویلا کررہی ہیں کہ اتنی جلدی بلدیاتی الیکشن نہیں ہوسکتے۔

 حقیقت یہ ہے کہ پارلیمانی سیاستدانوں نے کبھی بلدیاتی اداروں کو دل سے قبول ہی نہیں کیا۔ ذوالفقار علی بھٹو کے دور حکومت میں ایک مرتبہ بھی بلدیاتی انتخابات نہیں ہوئے۔ فوجی آمروں کے ادوار میں تواتر کے ساتھ بلدیاتی الیکشن ہوتے رہے۔ سیاسی ادوار میں اس ”شجر ممنوعہ“ کو صرف دو مرتبہ چکھا گیا۔ سمجھنے کی بات یہ ہے کہ سپریم کورٹ نے اپنے پاس سے کوئی حکم جاری نہیں کیا اور نہ ہی کوئی نیا قانون بنایا ہے بلکہ آرٹیکل 140 (اے) پر عملدرآمد کروایا جارہا ہے۔ اس آرٹیکل کے تحت تو مقامی حکومتوں کا نظام ایک مسلسل عمل کا نام ہے جسے روکا نہیں جاسکتا جبکہ ہماری حالیہ جمہوری حکومتوں نے بنیادوں جمہوریتوں کو گھاس ہی نہیں ڈالی۔ قومی اسمبلی کی قرار دادوں اور سیاستدانوں کی تقریروں کی کوئی آئینی حیثیت نہیں ہے۔ موجودہ حکومتوں کو خود آرٹیکل 140(اے ) پر عملدرآمد کا خیال کیوں نہیں آرہا؟ اگر انہیں بلدیاتی نظام پسند نہیں تو اس آرٹیکل کو آئین سے حذف کیوں نہیں کیا گیا؟ جب تک یہ آرٹیکل آئین میں موجود ہے سپریم کورٹ اس پر عملدرآمد کرانے کی پابند ہے۔

دوسری طرف لاہور ہائیکورٹ نے پنجاب میں غیر جماعتی بنیادوں پر بلدیاتی انتخابات کا قانون کالعدم کردیا ہے اور سیاسی جماعتوں کو ان انتخابات میں حصہ لینے کی اجازت دے دی ہے۔ اس عدالتی فیصلے کو پنجاب حکومت اور دیگر سیاسی جماعتیں تاخیری حربہ کے طور پر استعمال کرسکتی ہیں۔

پنجاب حکومت لاہور ہائیکورٹ کے اس فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کرے گی۔ جس کی سماعت میں کچھ وقت گزر جائے گا، اسی طرح ہائیکورٹ نے نئی بلدیاتی حلقہ بندیوں کے حوالے سے تحریک انصاف کے مو¿قف کو تسلیم نہیں کیا۔ اس عدالتی فیصلے کے خلاف تحریک انصاف سپریم کورٹ میں جائے گی۔ اس کی سماعت کے لئے بھی عدالت عظمیٰ کا وقت صرف ہوگا، پھر سیاسی جماعتیں الیکشن کمیشن سے رجوع کرسکتی ہیں کہ انہیں پنجاب میں بلدیاتی انتخابات کی تیاری کے لئے وقت درکار ہے۔ انہوں نے اپنے امیدواروں کی نامزدگیاں کرنا ہیں، اس نئی صورتحال کے پیش نظر الیکشن کمیشن نئی بنیادوں پر عدالت عظمیٰ سے رجوع کرسکتا ہے۔ ان حالات میں سپریم کورٹ اپنے حکم پر نظر ثانی بھی کرسکتی ہے، کیا ہوتا ہے اس کاحتمی جواب تو وقت دے گا تاہم بلدیاتی انتخابات کا شیڈول متاثر ہونے کا خدشہ موجود ہے۔

مزید : تجزیہ