پٹرولیم اور منافع خور!

پٹرولیم اور منافع خور!
پٹرولیم اور منافع خور!

  


عشرہ محرم پُرامن طور پر گزر جانے کے بعد حکومت کے کار پردازان سے لے کر عام آدمی تک نے سُکھ کا سانس لیا اور دُعا کی کہ اللہ تعالیٰ ملک کو ایک مرتبہ پھر اخوت اور امن کا گہوارہ بنا دے یہ اپنی جگہ اور بات بھی درست ہے، لیکن پاکستان کے عوام کے مسائل تو حل ہونے کی بجائے بڑھتے چلے جا رہے ہیں، سیاست دانوں اور سیاسی جماعتوں کے طرز عمل نے عوام میں مایوسی پھیلانا شروع کر دی ہے اور مایوس قوم سود وزیاں سے لاپرواہ ہو جایا کرتی ہے، اس کے نتیجے میں معاشرے میں پہلے سے موجود عدم توازن بڑھتا ہے اور پھر یہ بڑھتا ہوا رجحان وہی نتائج دیتا ہے جو اس کی پیداوار ہیں، آج کل تو عام لوگوں میں پٹرولیم کی قیمتوں میں کمی اور ان کے اثرات پر بحث ہو رہی ہے۔ عوام دُکھ میں مبتلا ہیں کہ پٹرولیم کی قیمتوں میں ایک فیصد اضافہ اشیاء خوردو نوش اور ضرورت کے نرخوں میں5 سے10 فیصد کے اضافے کا ذریعہ بن جاتا ہے، حیرت اس پر ہو رہی ہے کہ گزشتہ دو ماہ کے دوران مجموعی طور پر پٹرولیم کے نرخ قریباً 14روپے فی لیٹر کم ہوئے ہیں، لیکن اس کے اثرات مارکیٹ پر نہیں پڑے، مارکیٹ تو کجا ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں کمی نہیں ہونی۔

اس سلسلے میں دلچسپ ترین خبر کراچی سے آئی ہے جہاں ٹرانسپورٹ اتحاد والوں نے طویل مذاکرات کے بعد حاتم طائی کی قبر پر لات ماری ہے اور مقامی ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں ایک روپے کی ’’خطیر‘‘ کمی کر دی اور کہا ہے کہ کم از کم کرایہ10روپے ہی رہے گا۔حکومت سندھ نے انٹر سٹی کے کرایوں میں5سے 7فیصد کمی کر الی اور نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا۔ کراچی کے ٹرانسپورٹ اتحاد کی یہ منطق بھی عجیب ہے وہ کہتے ہیں، ’’ہمارے کرائے تو پہلے ہی پنجاب سے کم ہیں‘‘۔

ادھر ہمارے اس صوبے میں سارا زور ٹرانسپورٹ پر لگا دیا گیا، اگرچہ مجموعی طور پر اے سی، نان اے سی، انٹر سٹی اور لوکل ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں7فیصد کمی کی گئی، لیکن ٹرانسپورٹر حضرات نے جو نئے کرائے نامے مرتب کئے، وہ اس شرح سے مطابقت نہیں رکھتے،اس پر طرہ یہ کہ لوکل ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں تاحال کمی نہیں ہوئی، ہمارے سیر کے ایک ساتھی گلزار بٹ تعزیت کے لئے ملتان سے ہو کر آئے ہیں، ان کے مطابق انٹر سٹی والوں نے لاہور سے ملتان تک قریباً50روپے کمی کی ہے، لیکن لوکل ٹرانسپورٹ والوں نے ایک پیسہ بھی کم نہیں کیا، ان کے مطابق ملتان اُترے اور ویگن میں بیٹھے تو پرانے سفر کا پرانا کرایہ ہی وصول کیا گیا۔ اسی طرح لاہور واپس آ کر ٹھوکر نیاز بیگ اترے اور یہاں سے ملتان چونگی (منصورہ چوک) تک آئے تو ویگن والے نے30روپے وصول کئے، تکرار اور بحث بھی کسی کام نہ آئی، حالانکہ یہاں تک کا کرایہ 15روپے ہونا چاہئے تھا۔

ایک اور صاحب نے بتایا کہ ترکی اور پاکستان کے تعاون سے چلنے والی لوکل بسوں میں کرایہ کم کیا گیا، لیکن اِسی کمپنی (لاہور ٹرانسپورٹ کمپنی) کی ویگنوں نے یہ خدمت قبول نہیں کی، ان سے مسافروں کے جھگڑے ہو رہے ہیں، کمپنی کے سربراہ خواجہ حسان نے کمی کا دعویٰ کیا ہے تو ان کو پڑتال بھی کرنا چاہئے کہ کیا واقعی عمل بھی ہو رہا ہے یا خبر بنائی گئی ہے۔ اِسی طرح ٹیکسی (جہاں کہیں ہے) رکشا اور چنگ چی والوں نے بھی مسافروں کو لوٹنے کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔

اس حوالے سے ذرا بازار کا جائزہ لیں، ادویات، مشروبات اور بسکٹ، ڈبل روٹی کے نرخ کم نہیں ہوئے، نہ ہی کسی اور ضرورت کی شے کی قیمت میں کمی آئی، ہمیں خود جو اتفاق ہوا وہ سبزی اور فروٹ کا ہے۔ علامہ اقبال ٹاؤن کی سبزی منڈی میں ٹماٹر، آلوؤں، ادرک اور پیاز کے نرخ جوں کے توں ہیں۔ مٹر ایک ہی مقام پر 140سے150اور160روپے فی کلو فروخت ہو رہے ہیں، رہ گئی بات فروٹ کی تو سڑک کنارے ریڑھی والوں کا یہ عالم ہے کہ درجہ دوم کا پھل اول درجے کے نرخ میں بیچ رہے ہیں۔ سیب پہلے بھی120روپے تھا، آج بھی اُسی قیمت پر دستیاب ہے۔ کیلا 70سے 100روپے فی درجن اور انگور(سندری) 200روپے فی کلو فروخت کیا جا رہا ہے۔ یہ ریڑھی والے ایک ہی ٹوکرے میں ملاوٹ کرتے ہیں۔ سیب کے نرخ پورے لے کر مِکس سیب دیتے ہیں، بڑی دکانوں پر معیار بہتر تو نرخ ریڑھی بانوں کی نسبت دو سے ڈھائی گنا ہیں۔ ایک اور شے کا ذکر کریں۔ برائیلر انڈے گزشتہ روز107روپے درجن فروخت ہوئے۔ دو روز قبل105اور پچھلے ہفتے 100 روپے درجن تھے۔

یوں اگر حالات پر نظر ڈالیں تو دالیں، چاول اور آٹا بھی سابقہ نرخوں پر بیچا جا رہا ہے۔ وزیراعظم نے ہدایت کی ضلعی انتظامیہ کہیں نظر نہیں آتی، مجسٹریٹ کی طرف سے خبر ضرور دی جاتی ہے کہ دکان داروں کے چالان کئے گئے یہ حضرات بھی ٹریفک وارڈن بن گئے ہیں تو جناب! یہ پوچھا جا سکتا ہے کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں کم ہونے کا ثمر عوام تک کب پہنچے گا؟

مزید : کالم


loading...