سائنس میلے میں دانش سکولوں کی کارکردگی

سائنس میلے میں دانش سکولوں کی کارکردگی
سائنس میلے میں دانش سکولوں کی کارکردگی

  

سائنس اور انجینئرنگ کی تعلیم کا براہ راست تعلق قوموں کی اقتصادی ترقی سے ہے ،کیونکہ ان مضامین کی مؤثر تعلیم ملک کو وہ افرادی قوت فراہم کرتی ہے ، جو ملک میں موجود معدنی اور زرعی وسائل کو استعمال کرکے اقتصادی ترقی کی ضمانت فراہم کرتی ہے ،اسی لئے تمام ترقی یافتہ اور ترقی پذیر ملک سکول کی سطح پر سائنس اور ریاضی کی تعلیم کو بہت اہمیت دیتے ہیں۔ امریکہ جو دنیا کی تسلیم شدہ بڑی طاقت ہے ،اس کے سکولوں اور جامعات کی تعلیم کو اعلیٰ معیار کی تعلیم تسلیم کیا جاتا ہے۔ اس کے باوجود امریکی صدر باراک اوباما نے اپنے دوسرے دور صدارت میں STEM ،یعنی سائنس، ٹیکنالوجی ، انجینئرنگ اور ریاضی کی تعلیم کو ایک بار پھر ازسر نو مرتب کرنے اور اس پر اضافی توجہ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ بدقسمتی سے پاکستان میں سائنس اور ریاضی کی تعلیم کی وہ اہمیت تسلیم نہیں کی گئی جس کی وہ متقاضی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج بھی پورے پاکستان، بشمول پنجاب کے سکولوں میں سائنس اور ریاضی کے اساتذہ کا تناسب بہت کم ہے۔ اس پر مستزادیہ کہ سکولوں میں سائنس اور ریاضی کی تدریس کے لئے ایک بہت ہی غیر مؤثر انداز اختیار کیاجاتا ہے۔ سائنس کی تدریس میں عملی کام کو وہ اہمیت نہیں دی جاتی جو اس کے لئے ضروری ہے، حالانکہ ماہرین تعلیم یہ کہتے ہیں کہ سائنس کی تدریس میں تجربہ گاہ کی وہی اہمیت ہے جوگھر میں باورچی خانے کی ہوتی ہے۔

سائنس کی تدریس میں جب تک طلباء کو عملی مہارتیں نہ سکھائی جائیں، تب تک ان میں سائنسی موضوعات اور تصورات کی تفہیم پیدا نہیں ہوتی۔جب طلباء کو سائنس کے منصوبہ جات مکمل کرنے کا کام تفویض کیا جاتا ہے، اس وقت ان کے ذہن میں اچھوتے خیالات جنم لیتے ہیں اور وہ مستقبل میں نئے منصوبہ جات کو سوچتے اور ان کو عملی جامہ پہنانے کی صلاحیت حاصل کرتے ہیں۔ ماضی میں سرکاری اور نجی سکولوں کے طلباء کے لئے سائنسی میلہ جات منعقد کئے جاتے تھے، جن میں طلباء اپنے مختلف سائنسی منصوبے پیش کرتے تھے اور بہترین منصوبہ جات پیش کرنے والے طلباء کو انعامات سے نوازا جاتا تھا۔ سرکاری سکولوں میں ایسے میلہ جات کا انعقاد اب منعقد ہوچکا ہے، لیکن نجی سکولوں میں یہ رحجان اب بھی کسی حدتک جاری ہے۔

حال ہی میں کمپیوٹر پروسیسر بنانے والے ادارے اینٹل نے صوبائی اور قومی سطح پر سائنسی میلہ جات کے انعقاد کا احیاکیا ہے جس میں اینٹل کو پاکستان سائنس فاؤنڈیشن اور دیگر اداروں کا تعاون حاصل ہے۔ قومی سطح پر کامیاب ہونے والے طلبا ء کو امریکہ میں منعقد ہونے والے سائنسی میلے میں شرکت کا موقع فراہم کیا جاتا ہے۔ یہ بات انتہائی خوش آئند ہے کہ ان مقابلوں میں حال ہی میں قائم کئے گئے ، دانش سکولوں کے طلباء بھی باقاعدگی سے حصہ لے رہے ہیں۔ یہی نہیں بلکہ اس سال مئی میں امریکی ریاست کیلی فورنیا میں منعقد ہونے والے بین الاقوامی سائنسی میلے میں دانش سکول حاصل پور کے طلبہ نے نہ صرف حصہ لیا، بلکہ وہ پانچویں نمبر کے انعام کے بھی حق دار ٹھہرے۔

ابھی 29اکتوبر کو لاہور میں صوبائی مقابلہ منعقد کیا گیا، جس میں راقم کو شرکت کا موقعہ ملا ۔ اس صوبائی مقابلے میں جہاں لاہور کے بڑے بڑے مشہور سکولوں نے حصہ لیا، وہیں دانش سکول حاصل پور اور دانش سکول چشتیاں کی طالبات نے بھی حصہ لیا۔ یہ بات راقم کے لئے حیران کن اور باعث مسرت تھی کہ اگرچہ ان دانش سکولوں کے قیام کو زیادہ عرصہ نہیں گزرا، پھر بھی ان دونوں سکولوں کے طلباء نے چار چار انعامات حاصل کئے۔ جب دانش سکولوں کا قیام عمل میں آیا تو اس پر بعض حلقوں کی جانب سے اعتراضات اٹھائے گئے۔

ایک اعتراض یہ تھاکہ پورے نظام تعلیم کو بہتر بنانے کی بجائے صرف چند سکولوں کوبہتر بنانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ دوسرا اعتراض یہ تھا کہ عام سرکاری سکولوں کی نسبت دانش سکولوں پر اٹھنے والے اخراجات کہیں زیادہ ہیں۔ عام سکولوں میں اوسطاً فی طالب علم تقریباً 600/- روپے خرچہ ہوتا ہے، جبکہ دانش سکول میں یہی خرجہ تقریباً 7000/- روپے ہے، لیکن قومی اور بین الاقوامی سطح پر منعقد ہونے والے سائنسی میلے میں دوسال قبل قائم ہونے والے دانش سکولوں کے طلباء کی شرکت اور کامیابی نے دو باتیں ثابت کردی ہیں۔ اول تو یہ کہ ان اداروں پر اٹھنے والے اخراجات رائیگاں نہیں گئے۔ دانش سکولوں کے بہتر ماحول نے طلباء کی صلاحیتوں کو نکھارا ہے۔ دوسری بات یہ کہ ذہانت صرف امیروں کی میراث نہیں اور نہ ہی ذہانت صرف شہری علاقوں تک محدود ہے ، بلکہ اگر وسائل مہیا کئے جائیں تو پسماندہ اور دیہی علاقوں کے طلباء بھی اعلیٰ کارکردگی کا مظاہرہ کرسکتے ہیں۔

آخر میں سرکاری سکولوں کے معیار تعلیم کے حوالے سے ایک بات کہنا بہت مناسب معلوم ہوتی ہے۔ اس وقت ان سکولوں میں معیار تعلیم کی جو صورت حال ہے، اس سے ہم بخوبی آگاہ ہیں، سرکاری سکولوں میں غریب طبقے کے بچے تعلیم حاصل کرتے ہیں، اگر ان سکولوں کا معیار تعلیم بہتر ہوجائے تو یہ غریب بچے بھی اچھی تعلیم حاصل کرکے کسی حدتک اپنی غربت کا مداوا کرسکتے ہیں، دانش سکولوں کے تجربے نے یہ بات ثابت کردی ہے کہ اگر باقی سرکاری سکولوں پر مناسب توجہ دی جائے، ان کا ماحول بہتر بنایا اور ان کو بھی مناسب رقوم فراہم کی جائیں تو ان کا معیار تعلیم بھی بلند کیا جاسکتا ہے۔ اگر کمی ہے تو سیاسی سطح پر مصمم ارادے اور مناسب اقدام کی۔

مزید : کالم