قائداعظم ؒ کا پاکستان ہی سب سے بڑا انقلاب ہوگا!

قائداعظم ؒ کا پاکستان ہی سب سے بڑا انقلاب ہوگا!
قائداعظم ؒ کا پاکستان ہی سب سے بڑا انقلاب ہوگا!

  


اللہ بھلا کرے عمران خان کا جنہوں نے اپنی حمایت میں آنے والے جم غفیر کو سونامی کہنا چھوڑ دیا اور ٹھاٹھیں مارتے ہوئے سمندر سے تشبیہہ دینے لگے ہیں، جو مستقل بھی ہے اور سننے میں بھی اچھا لگتا ہے۔ سونامی سے تشبیہہ اس لئے موزوں نہیں تھی کہ سونامی ،جو تباہی کی علامت ہے، اچانک اور خاموشی سے آتا ہے ،اصل تباہی جاتے وقت مچاتا ہے ،جب اپنے ساتھ بہت کچھ بہا کر لے جاتا ہے اور پیچھے کیچڑ چھوڑ جاتا ہے۔۔۔ (ویسے پیچھے کیچڑ چھوڑنے کے لئے سونامی ضروری نہیں، وہ تو دھرنا بھی چھوڑ سکتا ہے۔ جیسا کہ عوامی تحریک کے دھرنے کے بعد ریڈ زون میں پائی گئی) ۔۔۔بات جب سونامی سے سمندر کی طرف چل نکلی ہے تو عمران خان کو مشورہ ہے کہ وہ نئے پاکستان کے بجائے قائد اعظم ؒ کے پاکستان کی بات کریں ،کیونکہ نیا پاکستان تو اس وقت بن گیا تھا جب قائد اعظم ؒ کا پاکستان دو ٹکڑے ہوا تھا اور مغربی پاکستان کا نام پاکستان رکھنا پڑا تھا، یعنی یہ کہ نیا پاکستان ایک بہت بڑے المئے کا نتیجہ تھا جسے کوئی بھی دہرانا پسند نہیں کرے گا۔ قائد اعظم ؒ کے پاکستان کی اصطلاح عمران خان کے لئے اس لحاظ سے بھی زیادہ موزوں رہے گی کہ باتیں تو وہ زیادہ تر قائداعظمؒ کے ارشادات کی روشنی میں ہی کرتے ہیں۔

قائد اعظمؒ کیسا پاکستان چاہتے تھے؟ جس میں انصاف ہو، رشوت، بدعنوانی اور تعصب کو جڑوں سے اکھاڑ پھینکا جائے، جس میں نہ کوئی پنجابی ہو، نہ سندھی ہو، نہ بلوچی اور پٹھان ہو، بلکہ سب پاکستانی ہوں۔ جس میں تمام شہریوں کو بلا تفریق رنگ و نسل و مذہب برابر کے حقوق حاصل ہوں ،جس میں سرکاری افسر قوانین کے مطابق بلا خوف و خطر اپنے فرائض انجام دیں ،جس میں عدلیہ آزاد ہو اور پارلیمینٹ اقتدار اعلیٰ کی حامل ہو۔ اگر عمران خاں ایسا پاکستان بنانے میں کامیاب ہو جائیں تو ممکن ہے بنگلہ دیش بھی بطور کنفیڈریشن ہی سہی، ہم سے تعلق بحال کرنے پر راضی ہو جائے۔ قائد اعظمؒ کے خواب کی تعبیر کو عملی شکل میں ڈھال دینا کیا واقعی نیا پاکستان بنانا ہوگا؟ دنیا میں سب سے بڑی اسلامی مملکت کی بحالی کیا نئے پاکستان کی تشکیل نہیں ہو گی؟ جب قائد اعظمؒ کے پاکستان کی بات ہوتی ہے تو سقوط ڈھاکہ کے زخم تازہ ہو جاتے ہیں اور یہ سوال خودبخود ذہن میں گونجنے لگتا ہے کہ اس عظیم المئے کی اصل وجہ کیا تھی؟

اس حوالے سے اصل ملزموں کے کردار پر پردہ ڈالنے کے لئے ذہنی انتشار پیدا کرنے کی جو کوششیں کی گئیں ،وہ بڑی حد تک کامیاب رہیں لیکن اب جبکہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ گرد بیٹھ رہی ہے اور رفتہ رفتہ حقائق منظر عام پر آتے چلے جا رہے ہیں، یہ نتیجہ اخذ کرنے میں کوئی قباحت محسوس نہیں ہوتی کہ پاکستان جمہوری عمل کے ذریعے وجود میں آیا تھا اور اس سے گریز کے نتیجے میں ٹوٹ گیا۔ قائد اعظمؒ کے پاکستان کی ڈھائی دہائیوں پر مشتمل مختصر سی تاریخ کا جائزہ بتاتا ہے کہ پہلے تو چند سر پھرے سرکاری افسروں نے اسے اپنی غرض سے چلانے کی کوشش میں اس کا حلیہ بگاڑ دیا ،بعد میں رہی سہی کسر آمریت نے پوری کر دی جو قائد اعظمؒ کی سوچ اور ان کے اصولوں کی مکمل نفی تھی۔اس کے علاوہ ہندوستان کی ریشہ دوانیوں ، جس نے ہماری کمزوریوں سے بھرپور فائدہ اٹھایا۔ مشرقی پاکستان بنگلہ دیش اس لئے بنا کر اسٹیبلشمنٹ کے اقتدار سنبھالنے کے بعد بنگالیوں کی اس میں شرکت ناممکن ہو گئی تھی کہ انگریزوں سے براہ راست جنگ کے بعد مسلمان بنگالیوں کو نہ تو فوج میں جگہ ملی تھی اور نہ ہی افسر شاہی میں، چنانچہ اس معاملے میں صفر ہونے کے باعث پاکستان میں فوج اور بیورو کریسی میں ان کی تعداد آٹے میں نمک کے برابر تھی۔ وہ آہستہ آہستہ فوج میں بھرتی ہونا اور بیورو کریسی میں آنا شروع ہوئے تھے، لیکن مغربی پاکستانیوں کے برابر آنے کے لئے انہیں سو سال کا عرصہ درکار ہوتا۔

اس پہلو کو اُجاگر کرتے ہوئے مشرقی پاکستان کے ممتاز اخبار اتفاق کے ایڈیٹر مانک میاں نے 1967ء میں گول میز کانفرنس کے ناکام ہو جانے اور دوسرا مارشل لاء آنے سے قبل اپنے ایک اداریئے میں لکھا تھا کہ مشرقی پاکستان کے عوام کے لئے اقتدار میں شرکت کا واحد راستہ جمہوریت سے ہو کر جاتا ہے، خدا کے لئے یہ راستہ بند نہ کیجئے، لیکن مانک میاں کی آواز نقار خانے میں طوطی کی صدا ثابت ہوئی ،چنانچہ جو ہونا تھا ہوا۔ افسوس تو یہ ہے کہ آدھے سے زیادہ ملک گنوا کر بھی ہم نے سبق نہیں سیکھا اور پانچ سال تک بہ مشکل جمہوریت چلی تھی کہ مارشل لاء نے پھر آ لیا۔ اس کے بعد لولی لنگڑی جمہوریت کچھ عرصہ چلی تھی کہ ایک اور مارشل لاء کا منہ دیکھنا پڑا۔۔۔جس کے اثرات بلوچستان کی صورت حال کے طور پر ہمارے سامنے ہیں، جس کے حوالے سے اکثر مشرقی پاکستان جیسی صورت حال کا تذکرہ ہوتا ہے جو اس لحاظ سے قطعی مماثلت رکھتی ہے کہ بلوچوں میں بھی بنگالیوں کی طرح فوج اور بیورو کریسی میں جانے کا رواج نہیں رہا۔ ان کے لئے بھی اقتدار میں شرکت کا وسیلہ صرف جمہوریت ہی ہے (جس کے ذریعے ہر قبیلے کے سردار کو وزیر بننے کا موقع مل جاتا ہے)

سندھیوں کی اگرچہ صوبائی سطح پر بیورو کریسی میں بھرپور شرکت موجود ہے، لیکن وفاقی سطح پر فوج یا بیورو کریسی میں ان کی خاطر خواہ نمائندگی نہیں ،چنانچہ ان کو بھی وفاقی سطح پر اقتدار میں شرکت کا موقع جمہوریت کے ذریعے ہی ملتا ہے، یعنی یہ کہ ملک کو متحد رکھنے اور قائد اعظمؒ کا پاکستان حاصل کرنے کے لئے جمہوریت لازمی شرط ہے۔ رہی بات صاف اور کھری جمہوریت کی تو بے شک یہ بھی قائداعظمؒ کے نقش قدم پر چل کر حاصل کی جا سکتی ہے۔ قائداعظمؒ خود بھی ایک شاندار کردار کے حامل تھے اور ان کے پاکستان کو وجود میں لانے والی جماعت مسلم لیگ کے لیڈر بھی بے عیب کردار کے مالک تھے۔ آپ ان کی سوچ اور خیالات سے تو اختلافات کر سکتے تھے اور ان پر نکتہ چینی کر سکتے ہیں، لیکن ان کے کردار پر انگلی نہیں اٹھا سکتے۔ لیاقت علی خان، خواجہ ناظم الدین، سردار عبدالرب نشتر، نور الامین، میاں افتخار الدین، حسین شہید سہروردی۔۔۔آپ نام لیتے چلے جائیں ،آپ کو ایک سے ایک قابل اور دیانتدار افراد ملیں گے۔

1958ء کے بعد البتہ جب پہلا مارشل لا لگا تھا، سیاستدانوں کی ایک اور کھیپ تیار ہونا شروع ہوئی جس کی پرورش میں پلاٹ اور پرمٹ کی سیاست کا بڑا عمل دخل تھا۔ تب سے سیاست کے ذریعے مال بٹورنے کا جو سلسلہ شروع ہوا ، آج تک جاری ہے اور جس کے خلاف تحریک بھی اب سیاستدان ہی چلا رہے ہیں ،جن میں عمران خان اور ڈاکٹر طاہر القادری پیش پیش دکھائی دیتے ہیں۔ ان کی یہ تحریک یقیناً دل کو چھو لیتی، اگر ان کی پشت پناہی کرنے والوں میں چودھری برادران ، جو آمریت کا ناگزیر جزو سمجھے جاتے ہیں، پیش پیش دکھائی نہ دیتے۔ ویسے بھی نئے پاکستان اور انقلاب کا نعرہ لگانے والوں میں قائد اعظم ؒ اور ان کے ساتھیوں جیسی خوبیاں کس حد تک پائی جاتی ہیں؟ اس پر کسی تبصرے کی ضرورت نہیں۔ ہاں البتہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ نوجوانوں کے جوش اور ولولے سے بھرپور یہ تحریکیں، جو اپنی کامیابی کے لئے کسی کی نظر التفات کی محتاج نظر آتی ہیں، شمال کی جانب آدھے پاکستان تک ہی محدود ہیں۔ ان میں نہ تو سندھیوں کی خاطر خواہ نمائندگی نظر آتی ہے اور نہ بلوچوں کی تو پھر یہ کس قسم کا نیا پاکستان بنائیں گی اور کس قسم کا انقلاب لے کر آئیں گی؟

مزید : کالم


loading...