امریکی وزارتِ دفاع کی تازہ ہرزہ سرائی!

امریکی وزارتِ دفاع کی تازہ ہرزہ سرائی!
امریکی وزارتِ دفاع کی تازہ ہرزہ سرائی!

  

امریکہ کی وزارتِ دفاع اپنی پارلیمنٹ (کانگریس) کو دفاع اور سلامتی وغیرہ کے امور پر ایک ششماہی رپورٹ بھی ارسال کرتی ہے جو مختلف ذیلی عنوانات کے تحت بھیجی جاتی ہے۔ان ذیلی عنوانات میں سے ایک عنوان یہ ہے: ’’افغانستان میں سیکیورٹی اور استحکام کی صورتِ حال‘‘ ۔۔۔ ابھی دو تین روز پہلے جو رپورٹ بھیجی گئی، اس کے دومندرجات درج ذیل ہیں:

*۔۔۔ پاکستان، افغانستان میں اپنے کم ہوتے ہوئے اثرورسوخ کو سہارا دینے کے لئے پراکسی فورسز استعمال کررہا ہے۔

*۔۔۔ اس سے پاکستان کا مقصود یہ ہے کہ انڈیا کی برتر (Superior) دفاعی افواج کو کاؤنٹر کرے۔

یہ رپورٹ دیکھ کر جتنا اطمینانِ قلب، عمران خان صاحب کو نصیب ہوا ہوگا، شائد ہی پاکستان کے کسی دوسرے سیاستدان کوہوگا۔خان صاحب تو شروع دن سے وہی کچھ کہہ رہے ہیں کہ جو غالب اس شعر میں کہہ گیا ہے:

لو وہ بھی کہہ رہے ہیں ’’یہ بے ننگ و نام ہے‘‘

یہ جانتا اگر تو لٹاتا نہ گھر کو میں

امریکی وزارتِ دفاع جب یہ رپورٹ تیار کرتی ہے تو اس سلسلے میں اپنے جن اداروں سے Input لیتی ہے ان میں وزارت خارجہ، سی آئی اے اور یو ایس ایڈ وغیرہ شامل ہیں! قارئین محترم یہ پہلی بار ایسا نہیں ہوا کہ اس رپورٹ میں ایسی باتیں کہی گئی ہیں۔ہر چھ ماہ بعد جب یہ رپورٹ کانگریس کو جاتی ہے تو پاکستان کے بارے میں ایسی ہی گُل افشانی کی جاتی ہے۔البتہ اس بار جو نئے گل کھلائے گئے ہیں وہ ’’پراکسی فورسز‘‘ اور ’’بھارت کی سُپیرئیر ملٹری‘‘ جیسے گلدستے ہیں۔ایک عام قاری کو سمجھانے کے لئے ’’پراکسی فورسز‘‘ کی تشریح یہ ہوگی کہ پاکستان اگرچہ اپنی فورسز افغانستان میں بھیج کر وہاں جنگ و جدل کا بازار گرم نہیں کرتا لیکن یہ گرم بازاری ء جنگ وہ لوگ کر تے ہیں جو پاکستان کے آلہء کار ہیں۔امریکہ ایک عرصے سے ’’حقانی گروپ‘‘ کا حوالہ دیتا آیا ہے اور کہتا ہے کہ اب بھی آپریشن ضرب عضب میں پاکستان، ’’حقانیوں‘‘ کو کچھ نہیں کہہ رہا۔ حقانی شمالی وزیرستان میں ویسے ہی دندناتے پھرتے ہیں جیسے اس آپریشن سے پہلے تھے۔وہ آئے روز ماضی میں بھی سرحد پار کرکے (افغانستان میں) دہشت گردانہ کارروائیاں کرتے تھے اور اب بھی وہی کارروائیاں ہو رہی ہیں۔ان کے علاوہ لشکر طیبہ بھی کشمیر میں در انداز بھیج کر وہاں امن و امان کے قیام میں خلل ڈال رہا ہے۔

دوسری نئی بات جو پینٹاگون نے اس رپورٹ میں منکشف کی ہے وہ بھارت کی ’’برتر ملٹری قوت‘‘ ہے۔ کوئی امریکی وزارتِ دفاع والوں سے یہ پوچھے کہ آپ کو کس نے یہ خبر دی ہے کہ بھارت کی ملٹری، پاک افواج سے برتر ہے۔۔۔ہاں اگر برتری کا مطلب تعداد کی برتری ہے تو اس میں کوئی شک نہیں کہ بھارت کی افواج بمقابلہ پاکستانی افواج، تعداد میں زیادہ ہیں۔ان کا بھاری اور ہلکا اسلحہ اور سازوسامانِ جنگ بھی تعداد میں زیادہ ہے ۔لیکن کیا تاریخِ جنگ ایسے واقعات سے بھری نہیں پڑی کہ کم تعداد فورس نے کثیر تعداد فورس کو شکستِ فاش دی اور کم تعداد اسلحہ نے کثیر تعداد اسلحہ کو سرنگوں کرکے رکھ دیا ؟ اسلام کی تو ابتداء ہی 313 بمقابلہ 1000 سے تھی! ۔۔۔اگر عہدِ حاضر کی بات کی جائے تو ویت نام سے لے کر افغانستان تک اس کے شواہد جا بجا دیکھے جا سکتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ افغانستان کی یہ 13سالہ جنگ، اوراقِ تاریخ میں ہمیشہ ایک ایسی جنگ کے طور پر یاد رکھی جائے گی جس میں پھٹے پرانے کپڑے پہننے والوں نے زرق برق لباس زیبِ کمر کرنے والوں کو ننگا کرکے اپنے کوہ و دمن سے بھگا دیا۔اقبال نے اپنی ایک لافانی نظم ’’محراب گل افغان کے افکار‘‘ میں ایک صدی قبل جو یہ دو شعر کہے تھے اس کی عملی تفسیر کی تکمیل 31دسمبر 2014ء کو افغانستان میں جگہ جگہ دیکھی جا سکے گی:

باز نہ ہوگا کبھی بندہء کبک و حمام

حفظِ بدن کے لئے روح کو کر دوں ہلاک؟

اے مرے فقرِ غیور، فیصلہ تیرا ہے کیا؟

خلعتِ انگریز یا پیرہنِ چاک چاک؟

پاکستان کی وزارتِ خارجہ میں امریکی سفیر کو طلب کرکے اس سے اس رپورٹ پر شدید احتجاج کیا گیا ہے۔ لیکن امریکیوں ایسی ڈھیٹ اور بے ننگ و نام قوم کو ان احتجاجات کی کیا پرواہ؟۔۔۔ مست ہاتھی کو ہانکنے کے لئے چابک نہیں آنکس درکار ہوتا ہے جو آج کسی بھی فیلبان کے پاس نہیں اس لئے ہاتھی پھرے گراں گراں جس کا ہاتھی اس کا ناں!

آپ کو یاد ہوگا امریکی صدور اور افغانستان کے حامد کرزئی اپنی عسکری ناکامیوں کو پاکستان کے کھاتے میں ڈالا کرتے تھے۔وہ رسم بند نہیں ہوئی، آج بھی جاری ہے۔افغانستان میں اب اشرف غنی صاحب بطورِ صدر تشریف لا چکے ہیں اور ہمارے آرمی چیف ابھی کل ہی ان سے ملاقات کرکے واپس آئے ہیں۔خبروں میں بتایا گیا ہے کہ انہوں نے افغان صدر کو ہر قسم کے تعاون کا یقین دلایا ہے۔افغان نیشنل آرمی (ANA)کے وہ بریگیڈ اور ڈویژن جن کو امریکی (اور بھارتی) انسٹرکٹر ٹریننگ دے رہے ہیں، ان کا ذکر ایک طرف رکھتے ہوئے جناب اشرف غنی کو پیش کش کی گئی ہے کہ پاکستان، افغان ٹروپس کو اپنے ہاں فوجی ٹریننگ دینے کے لئے تیار ہے اور ساتھ یہ بھی کہا ہے کہ نہ صرف ہم ٹریننگ دیں گے بلکہ ایک پورے انفنٹری بریگیڈ کو Train کرکے اس کو پاکستانی اسلحہ سے لیس کرنے کے لئے بھی تیار ہیں۔لیکن پاکستان اس نوع کی پیشکشیں افغانستان کو پہلے بھی کرتا رہا ہے جن کا کوئی نتیجہ نہیں نکلا۔ اب افغانستان میں دو تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں۔ ایک تو ’’پاکستان دشمن‘‘ کرزئی صاحب رختِ سفر باندھ کر جا چکے ہیں اور دوسرے انکل سام بھی روسی ریچھ کی طرح، افغانوں کے دشت و جبل سے نکل رہا ہے۔ یہ ایک نئی صورتِ حال ہے۔پاکستان کو دیکھنا یہ ہے کہ وہ اس صورتِ حال میں افغانستان کے اربابِ اختیار کو یہ یقین کیسے دلائے کہ افغانستان میں جو کچھ ہو رہا ہے اور 13برس سے ہوتا چلا آ رہا ہے، وہ انکل سام کی دین تھا جس نے ہمارے فاٹا کے اندر محفوظ پناہ گاہوں کی اوٹ میں اپنی عسکری ناکامیوں کو چھپایا ہوا تھا۔

پاکستان تو ایک عرصے سے کہہ رہا ہے کہ فاٹا نہیں بلکہ افغانستان کے مشرقی صوبے، ایسے دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہیں ہیں جو وہاں بھارتی انسٹرکٹروں سے ٹریننگ پا کر اور بھارتی اسلحہ سے لیس ہو کر پاکستان آتے اور جگہ جگہ خودکش دھماکے کرتے ہیں۔ افغانستان کو سوچنا ہوگا کہ حقانی نیٹ ورک کا آسیب خیالی ہے یا ملا فضل اللہ پاکستانی کا نیٹ ورک حقیقی ہے؟

ہمارے آرمی چیف نے پورا ایک دن کابل میں جو گزارا ہے اس میں اشرف غنی صاحب سے ملاقات کے علاوہ CEO جناب عبداللہ عبداللہ سے بھی گفتگو کی ہے۔ علاوہ ازیں عسکری بساط پر افغان وزیر دفاع جنرل بسم اللہ محمدی اور سی جی ایس جنرل شیر محمد کریمی سے بھی مذاکرات کئے ہیں۔یہ ملاقات نہایت اہم بتائی جا رہی ہے اور اس میں کوئی شک بھی نہیں کہ ایک ڈیڑھ ماہ بعد جب وہاں سے امریکی افواج نکل جائیں گی تو ان کے جانے کے بعد عسکری قوت کا جو خلاء پیدا ہوگا اس میں بے سروپا افواہوں کا بازار گرم ہو سکتا ہے۔پاکستان کو اس کے لئے تیار رہنا ہوگا ۔ میرا خیال ہے کہ اس اندیشے ہی کے پیش نظر، جنرل راحیل شریف کا یہ یک روزہ دورہ نہایت اہمیت کا حامل کہا جا رہا ہے ۔اس کا مطلب یہ بھی ہے کہ مستقبل قریب میں افغانستان کے استحکام کے لئے سیاسی بساط نہیں بلکہ عسکری بساط کے مہرے بچھانے اور چلانے کی زیادہ ضرورت ہوگی۔

افغانستان میں امریکی فورسز کی یلغار کا پیمانہ بعد از جنگ عظیم دوم، کس سکیل کا تھا، اس کا فیصلہ مستقبل کا مورخ ہی کر سکے گا۔۔۔ ہم ویت نام کی مثال تو دیتے ہیں لیکن شائد یہ بھول جاتے ہیں کہ ویت نامیوں کی پشت پر چینیوں اور روسیوں کا مکمل ہاتھ تھا۔ویت کانگ گوریلاؤں کی ٹریننگ اور ان کا سازوسامانِ جنگ، سب کچھ روس اور چین سے آتا تھا۔۔۔ لیکن اس افغانستان میں کیا تھا؟

افغانستان میں نہ چین کی مدد تھی اور نہ روس کی۔یہ 13سالہ جنگ، دورانیئے (Duration) کے اعتبار سے ویت نام کی جنگ سے دوگنی طویل تھی۔اگر ویت نام کی جنگ میں امریکی فورسز کی تعداد (زیادہ سے زیادہ) 5,40,000تھی تو افغانستان میں بھی ناٹو اور ایساف کی کل تعداد ملا کر 2,00,000 سے اوپر نکل گئی تھی۔علاوہ ازیں امریکہ ایک سپریم عسکری قوت تھا اور افغان محض درویشِ خدامست قوم تھی۔ اگر یہ باور کر لیا جائے کہ ان کو پاکستان سے کوئی امداد ملتی تھی تو پھر امریکہ کو تسلیم کرنا پڑے گا کہ پاکستان کی وزارتِ دفاع، چین اور سوویت وزارت ہائے دفاع سے زیادہ موثر ہے۔ اور پاکستان کی ISI، روس کی KGB سے زیادہ کارگر ہے۔( میں یہ بات محض بحث برائے بحث لکھ رہا ہوں) اور ایک اور فیکٹر جو ویت نام کی جنگ کے مقابلے میں افغانستان کی اس جنگ میں ناٹو کا زیادہ طرفدار تھا وہ اس کی الٹرا ماڈرن ملٹری ٹیکنالوجی اور ڈرون تھے جو ویت نام کی جنگ میں ناپید تھے۔ چنانچہ امریکہ اس جنگِ افغانستان سے یہ سبق لے کر نکل رہا ہے کہ آئندہ کوئی قوم ’’افغانستان دوزخ‘‘ جیسی بھٹی میں کودنے سے احتراز کرے!

مجھے معلوم نہیں یہ امریکی کس مٹی سے بنے ہوئے لوگ ہیں کہ ایک طرف ان کی وزارت دفاع وہ رپورٹ کانگریس کو بھیجتی ہے جس کا ذکر اس کالم کا عنوان ہے اور دوسری طرف افغانستان میں ایساف کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل جوئے اینڈرسن (Joe Anderson) پینٹاگون کو پرسوں (6نومبر2014ء)کابل سے ایک وڈیو کانفرنس کے ذریعے یہ بریفنگ دیتا ہے کہ : ’’پاکستان کے آپریشن ضربِ عضب نے شمالی وزیرستان میں حقانیوں کی کمر توڑ دی ہے اور وہ طالبان کی مانند اب مارے مارے پھر رہے ہیں۔یہ سب کچھ اس موسم گرما (2014ء) میں پاکستانی افواج کے آپریشن کی وجہ سے ممکن ہوا ہے۔ اب یہ حقانی لوگ کابل میں کسی زور دار اور موثر جارحانہ کارروائی کرنے کے اہل نہیں رہے‘‘۔

ذرا غور فرمایئے جنرل اینڈرسن کیا کہہ رہا ہے اور امریکی وزارتِ دفاع کی ششماہی رپورٹ کیا فرما رہی ہے۔۔۔ کوئی اور ملک ہوتا تو یا تو جنرل اینڈرسن کو سیک کر دیتا یا پینٹاگون کے ان ’’بابوؤں‘‘ کو دھکے دے کر نکال باہر کرتا جو پاکستان کے خلاف اس قسم کی جھوٹی ششماہی ہرزہ سرائی تیار کرکے کانگریس کو بھجواتے رہتے ہیں۔۔۔!

مزید : کالم