قانون کے محافظ اور قاتل؟

قانون کے محافظ اور قاتل؟

گجرات کے ماڈل تھانے میں ایک اسسٹنٹ سب انسپکٹر نے ایک ملزم سے تفتیش کرتے ہوئے مشتعل ہو کر اسے قتل کر دیا، اس کے لئے پولیس والے نے کلہاڑی استعمال کی اور گردن کاٹ دی، ملزم اے ایس آئی کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کر کے اسے گرفتار اور ایس ایچ او کو معطل کر دیا گیا۔یہ اپنی نوعیت کا غیر معمولی قتل ہے اس سے قبل لوگ پولیس تشدد سے مرتے تھے، جیسے مریدکے پولیس کے ہاتھوں چوری کا ایک ملزم تشدد برداشت نہیں کر سکا اور مر گیا، لیکن گجرات کے واقعہ میں باقاعدہ کلہاڑی لا کر واردات کی گئی۔ اس وقوعہ کے بارے میں بہت کچھ کہا جا رہا ہے، حتیٰ کہ اس کے پیچھے مذہبی انتہا پسندی کا بھی ذکر کیا گیا۔ اس انتہا پسندی کا تو کوٹ رادھا کشن میں دو میاں بیوی شکار ہو گئے تھے اور اب یہ قصہ سامنے آیا ہے۔محافظ کے ہاتھوں شہری کا قتل، یہ ہے اس واردات کی روح۔اگر کسی بھی وجہ سے کسی فورس میں ایسے واقعات ہونے لگیں تو یہ جائزہ لینا ضروری ہو جاتا ہے کہ فورس میں یہ رجحانات کیسے اور کس حد تک پائے جاتے ہیں۔ ملک میں مذہبی اور مسلکی حوالے سے جو انتہا پسندی پائی جاتی ہے اس کا شکار خود یہ مذہی لوگ بھی ہوتے ہیں اور پھر یہ بھی حقیقت ہے کہ ان حضرات کی طرف سے انتہا پسندی کی مذمت کی جاتی اور غلط کام ہی کیا جاتا ہے، یہ سب واردات کے حوالے سے ہوتا ہے ضروری امر یہ ہے کہ معاشرے کو عدم برداشت والا معاشرہ بنانے کے لئے خلوص سے کی جانے والی کوشش کی ضرورت ہے اور یہ سب بھی علمائے کرام کو ہی کرنا ہے، اس کے لئے اپنی الگ الگ حیثیت استعمال کریں گے، تو اثرات مکمل طور پر نہیں نظر آئیں گے اور اگر یہ اتفاق رائے سے ہوں تو امکانی طور پر منافرت کو ختم کیا جا سکے یا نہ، لیکن اس میں معتدبہ کمی ضرور واقع ہو گی۔ علمائے کرام کو اس پر غور کرنا اور عملی اقدامات کی طرف بڑھنا چاہئے، جہاں تک گجرات اور مریدکے میں پولیس حراست میں مرنے والوں کا تعلق ہے تو اس کی تحقیق و تفتیش اپنی جگہ، اب ضروری ہو گیا ہے کہ ’’ڈسپلنڈ فورس‘‘ میں نفسیاتی جائزہ لیا جائے اور سخت گیر انتہا پسندانہ سوچ و فکر کے حامل حضرات کو تلاش کر کے ان کی تحلیل نفسی کی جائے اور پولیس ملازمین کے لئے ایسے لیکچروں کا بھی اہتمام کیا جائے کہ وہ انتہا پسندانہ اور متشدد سوچ سے باہر نکلیں۔

مزید : اداریہ