وہ آدمی جسے اپنے غرور بھرے جملوں کی فوری سزا مل گئی

وہ آدمی جسے اپنے غرور بھرے جملوں کی فوری سزا مل گئی
وہ آدمی جسے اپنے غرور بھرے جملوں کی فوری سزا مل گئی

  

نیویارک(نیوز ڈیسک)ہر غروراور تکبر کرنے والے کے لئے آخر کار وہ دن آن پہنچتا ہے کہ جب اس کا تکبر یوں خاک میں ملتا ہے کہ کمزور سے کمزور انسا ن بھی اس کی حالت کو قابل ترس سمجھنے لگتاہے ۔مشہور امریکی مصنف اور بزنس مین جیروم روڈ یل کے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی ہوا۔

جیروم کو اپنی نہایت قابل رشک صحت اور جسمانی طاقت پر بڑا غرور تھا اور وہ ہر محفل میں اس کا ذکر ضرور کیا کرتا تھا۔وہ اکثر اپنے دوستوں ،ملنے والوں اور مداحوں کو کہاکرتا تھا کہ میں نے فیصلہ کیا ہے کہ میں کم از کم 100سال تو ضرور جیو ںگا اگر کسی نشے میں دھت ٹیکسی والے نے مجھے کچل نا دیا تو۔ایک دن جیروم مشہور ٹی وی پروگرام The Dick Cavett Showمیں شریک تھا اور حسب معمول اپنی غیرمعمولی صحت کا تذکرہ کر رہا تھا۔اس نے میزبان کو بتایا کہ کل میں سیڑھیوں سے گرا اور لڑھکتا ہوا اوپر سے نیچے تک آیا لیکن اس دوران میں چیخنے چلانے کی بجائے قہقہے لگا رہا تھا۔جیروم نے تمام شو کے دوران بھی خوب قہقہے لگائے او ر حاضرین کو ایک بار پھر بتایا کہ اس کا 100سالسے پہلے مرنے کاکوئی ارادہ نہیں ۔اب شو کا تقریباً اختتام ہو چکا تھالیکن کیمرے ابھی بھی چل رہے تھے کہ اچانک غیر معمولی طور پر صحت مند نظر آنے والے جیروم کا رنگ پیلا پڑنے لگا اور وہ سینے پر ہاتھ رکھے زمین کی طرف لڑھکتا چلا گیا۔حاضرین میں دو ڈاکٹر بھی موجود تھے جو فوری طور پر بھاگ کر سٹیج پر آئے اور جیروم کو ابتدائی طبی امداد دینا شروع کر دی۔اسے فوری طور پر اٹھا کر ہسپتال لے جایا گیا جہاں ڈاکٹروں نے بتایا کہ اسے ہارٹ اٹیک ہو اتھا لیکن کوئی بھی ڈاکٹر یہ بات نہیں سمجھ پا رہا تھا کہ مشین اس کے دل کو مسلسل دھڑکتا دکھا رہی تھی اور اس کے باوجود اس کا جسم بے جان ہو چکا تھا ۔ڈاکٹروں نے بتایا کہ اس کا دل اور باقی جسم مکمل طور پر صحت مند نظر آرہے تھے لیکن غیر معمولی جسمانی صحت کے باوجود وہ ایک لاش بن چکاتھا ۔با لآخر کچھ وقت کے بعد ڈاکٹروں نے اسے مکمل مردہ قرار دے دیا اور یوں 100سال جینے کا دعویٰ کرنے والا ہزاروں حاضرین و ناضرین کی آنکھوں کے سامنے انتہائی بے بسی کی موت مر گیا۔

مزید : ڈیلی بائیٹس