بجلی کی فی یونٹ قیمت میں 52پیسے کا اضافہ سمجھ سے بالاتر ہے‘ صدر راولپنڈی چیمبر

بجلی کی فی یونٹ قیمت میں 52پیسے کا اضافہ سمجھ سے بالاتر ہے‘ صدر راولپنڈی چیمبر

راولپنڈی (نیٹ نیوز)راولپنڈی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر سید اسد مشہدی نے کہا ہے کہ پٹرول کی قیمتوں میں کمی کے بعد بجلی کی فی یونٹ قیمت میں 52پیسے کا اضافہ سمجھ سے بالاتر ہے ،صنعت پہلے ہی مسائل کا شکار ہے گیس کی عدم دستیابی کے بعد تمام تر انحصار بجلی پر ہے حالیہ اقدام سے مہنگائی میں اضافہ ہو گا ، پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کے ثمرات عام آدمی تک پہنچانے میں حکومت ناکام رہی ہے اور اب بجلی کی قیمت میں اضافہ عوام کی مشکلات کو بڑھائے گا،حکومت عالمی مالیاتی اداروں کی منشا پر فیصلے نہ کرے بلکہ زمینی حقائق کو مد نظر رکھتے ہوئے عوامی امنگوں کےمطابق فیصلے کرے،انہوں نے مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ حکومت گزشتہ ڈیڑھ سال کے دوران بجلی کی قیمتوںمیں ہوش ربا اضافہ کر چکی ہے اگر اس بار اضافہ واپس نہ لیا گیا تو کاروباری برادری احتجاج کی راہ اپنائے گی ان خیالات کا اظہار انہوں نے چیمبرمیں تاجروں و صنعتکاروںسے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔

اس موقع پر سینئر نائب صدر میاں ہمایوں پرویز اور نائب صدر صبور ملک بھی موجود تھے۔

اسدمشہدی نے کہا کہ نیپرا نے پہلے کم سے کم یونٹ کی حد 350 سے کم کر کے پہلے 200یونٹ کی گئی اور اب 50یونٹ کر دی گئی ہے جو سراسر ظلم کے مترادف ہے،حکومت حالیہ فیصلے کو واپس لے اور یونٹ کی کم سے کم حد350یونٹ کو بحال کرے کیونکہ نئے فارمولے سے غریب اور کم آمدنی والے افراد سب سے زیادہ متاثر ہوں گے، راولپنڈی چیمبر حکومت سے مطالبہ کرتا ہے کہ اضافے کا اطلاق 350یونٹ سے زیادہ استعمال کرنے والے صارفین پر ہونا چاہیے ،حکومت غربت مکاﺅ وعدے کی پاسداری کی بجائے غریب مکاﺅ پالیسی پر گامزن ہے

،اگر حالات کی نزاکت کو نہ سمجھا گیا تو حکومت کی مشکلات میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے اور اسکی تمام تر ذمہ داری بھی حکومت پر عائد ہو گی۔

صدر آر سی سی آئی نے کہا کہ کاروباری برادری کسی بھی بحران کے خاتمے کے لیے حکومت کی مدد کو تیا رہے مگر حکومت بھی سنجیدگی سے عوامی مسائل پر توجہ دے اور سیاسی مقاصد کو پس پشت ڈال کر ملکی ترقی میں کاروباری طبقہ کا ساتھ دے کاروباری طبقہ ملکی معاشی ترقی میں اہم کر دار کرتا ہے موجودہ حالات میں کاروباری سرگرمیوں کا فروغ ناممکن ہے۔

مزید : کامرس