علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کے اساتذہ کی پڑھانے سے معذرت

علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کے اساتذہ کی پڑھانے سے معذرت

                                        لاہور(ذکاءاللہ ملک)علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کے اساتذہ نے گزشتہ 6ماہ سے معاوضے کی عدم ادائیگی اور بلوں میں شرع ٹیکس کی کٹوتی میں 4فیصد اضافہ کرنے پرآئندہ سمسٹرز میں پڑھانے سے معذوری ظاہر کر دی۔تفصیلات کے مطابق اوپن یونیورسٹی کے ریجنل دفاتر گوجرانوالہ،فیصل آباد، ساہیوال، ملتان، بہالپور، راولپنڈی، ڈیرہ غازی خان لاہور سمیت صوبہ خیبر پختون خوا،سندھ، بلوچستان اور آزاد کشمیر کے ہزاروں ٹیوزٹر گزشتہ 6ماہ سے معاوضے سے محروم ہیں جبکہ یونیورسٹی انتظامیہ کی طرف سے کوئی پیش رفت نہیں کی گئی۔اوپن یونیورسٹی ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ قبل ازیں بلوں میں یونیورسٹی انتظامیہ 7فیصد کٹوتی کرتی تھی اور اسی تناسب سے ملک بھر کے تمام ریجنل دفاتر سے ٹیوٹرز کے بلوں کو ہیڈ آفس میں بھجوا دیا جاتا تھا ۔ذرائع نے بتایا ہے کہ بلوں کی ادائیگی میں تاخیر یونیورسٹی انتظامیہ کی طرف سے شرع ٹیکس کی کٹوتی میں 4فیصد اضافے کی منظوری دینے کے بعد بلوں کو تمام ریجنل دفاتر میں کل 10فیصد کٹوتی کرنے اور بلوں کو دوبارہ بنانے کےلئے بھیج دیا گیا ہے۔ذرائع کے مطابق یونیورسٹی کے اس فیصلے پر ملک بھر کے ہزاروں ٹیوٹرز میں مایوسی پھیل گئی اور متاثرہ اساتذہ نے آئیندہ سمسٹرز میں بلوں کی بروقت ادائیگی نہ ہونے اور ٹیکس کی شرع میں اضافے کے باعث درس وتدریس کی سرگرمیاں سر انجام دینے سے معذوری ظاہر کر دی ہے جس سے لاکھوں طلباءکا مستقبل داﺅ پر لگ گیا۔اس سلسلے میں رابطہ کرنے پر ترجمان اوپن یونیورسٹی عبید اللہ کا کہنا ہے بلوں کی ادائیگی کے معاملات اور ٹیکس کٹوتی کے ایشوز کی ذمہ داری ریجنل دفاتر پر عائد ہوتی ہے۔جبکہ اس حوالے سے وائس چانسلر علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی شاہد صدیقی سے معتدد بار رابطہ کیا گیا مگر انکے سٹاف کا کہنا تھا کہ صاحب میٹنگ میں ہیں۔

مزید : علاقائی


loading...