تحریک انصاف کے 25ارکان قومی اسمبلی استعفیٰ دینے کو تیار نہیں،ہاشمی

تحریک انصاف کے 25ارکان قومی اسمبلی استعفیٰ دینے کو تیار نہیں،ہاشمی

ملتان (اے این این) تحریک انصاف کے سابق صدر مخدوم جاوید ہاشمی نے انکشاف کیا ہے کہ تحریک انصاف کے 21سے 25ارکان قومی اسمبلی سے استعفیٰ دینے کو تیار نہیں ،جب میں نے استعفیٰ دیا تو مجھے فارورڈ بلاک بنانے کی تجویز دی گئی ، موجودہ سیاسی ماحول میں بہت سی تبدیلیاں آنے والی ہیں،وزیراعظم نوازشریف کو عوامی مسائل کے حل پر توجہ دینی چاہیے ، 7نومبر کے بعد بحران پیدا کرنے والی قوتیں ناکام ہوگئیں۔ ملتان میں اپنی رہائش گاہ پر پریس کانفرنس میں مخدوم جاوید ہاشمی نے کہا کہ جب میں تحریک انصاف میں تھا میں نے دیانتداری سے اپنی رائے کا اظہار کرتا تھا میں اپنے نفع نقصان کی بجائے پارٹی کے نفع نقصان کو مد نظر رکھا اور عمران خان کو پارٹی آگے بڑھانے کیلئے تجاویز دیں لیکن جب استعفوں کا معاملہ آیا تو میں نے عمران خان سے کہا کہ پارٹی میں 90فی صد ارکان استعفے نہیں دیں گے اگر استعفیٰ دیں گے صرف عمران خان اور جاوید ہاشمی دیں گے انہوں نے کہا کہ میرا موقف درست ثابت ہوا ہے تحریک انصاف کی 21سے 25ارکان اسمبلی اپنے استعفوں کی سپیکر کے سامنے تصدیق کرنے کو تیار نہیں ہیں اس وقت تک تین سے چار ارکان نے سپیکر سے کہہ دیا ہے کہ وہ مستعفی نہیں ہونگے شاہ محمود قریشی نے پارٹی اجلاس میں کہا تھا کہ پنجاب میں دھاندلی نہیں ہوئی انہوں نے کہا کہ سپیکر کو چاہیے تھا کہ وہ الیکشن کمیشن کو خط نہ لکھتے اور اس وقت اس معاملے کو نہ چھیڑیں جب تک ارکان اسمبلی انکے سامنے اکیلے اکیلے پیش ہو کر استعفوں کی تصدیق نہ کریں مخدوم جاوید ہاشمی نے کہاکہ سیاسی جماعتیں انتہائی مشکل سے راستے بناتی ہیں مزید بحران پیدا کرنے کی بجائے تحریک انصاف کو تحفظ دیا جائے اور اسے طاقتوار بنایا جائے تاکہ ملک کا موجود ہ نظام چلتا رہے بلکہ نظام کو بہتر بنانے کیلئے تحریک انصاف کی سرپرستی کی جائے اس کی خامیوں کو نظر انداز کیا جائے کیونکہ پارٹیاں سیاسی نظام کی ضرورت ہوتی ہیں انہوں نے کہا کہ 7نومبر کا دن اہمیت کا حامل ہے اب ہمیں 7نومبر بعد کی صورتحال پر نظر رکھنی چاہیے تاکہ وہ قوتیں جو اپنے مقاصد کے لئے اکٹھی ہو جاتی ہیں ان کا راستہ روکا جا سکے میں نے عمران خان سے کہا تھا کہ ایسی قوتوں سے بچا جائے جن کی موجودگی میں ہم مقاصد حاصل نہیں کر سکیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ پاک فوج اور فوج کے سربراہ نے جمہوریت کے بچانے کیلئے اپنا کردار ادا کیا اور کوئی مشکلات پیدا نہیں کیں لیکن فوج سے الگ بیٹھی کچھ قوتیں ایسی ہیں جو مشکلات پیدا کر دیتی ہیں پاک فوج نے ملک کو بچانے کیلئے قربانیاں دیں اور آج بھی دے رہی ہیں لیکن چند افراد ذاتی مقاصد کے حصول کیلئے رکاوٹ بنتے ہیں انہوں نے کہا کہ 7نومبر کے بعد پاکستان میں آنے والا بحران ٹل چکا ہے لیکن کل پھر یہ بحران پیدا ہو سکتا ہے اس لئے وزیراعظم نواز شریف کو چاہیے کہ وہ عوام کے مسائل کے حل کیلئے توجہ دیں کیونکہ بڑے بڑے سیاستدانوں کے مسائل تو حل ہو جاتے ہیں مگر مہنگائی ، بے روزگاری ، خود کشی کے حوالے سے روزانہ ایک بحران پیدا ہوتا ہے مسلم لیگ ن اس وقت برسراقتدار ہے اس مسائل کے حل کی جانب توجہ دینی چاہیے کچھ لوگوں نے سپریم کورٹ استعمال کرکے سازشیں کرنے کی کوششیں کی تھیں اور پاک فوج کو بھی اپنی سازشوں کے لئے استعمال کرنا چاہا ۔

مزید : علاقائی