بوری میں سوراخ، ایک ایم این اے کھل گئے، باقی تیار!

بوری میں سوراخ، ایک ایم این اے کھل گئے، باقی تیار!
بوری میں سوراخ، ایک ایم این اے کھل گئے، باقی تیار!

  

تجزیہ چودھری خادم حسین

بوری میں سوراخ ہو گیا، ایک دانہ کھلم کھلا گر گیا دو اس کے پیچھے اور ان کے بعد اور بھی ہیں یہ کس کو معلوم، تاہم دیگ میں سے تو دانہ ہی چکھا جاتا ہے۔ تحریک انصاف کی طرف سے اجتماعی استعفے دینے والوں میں سے تین اراکین اسمبلی نے رابطہ کیا اور ایک رکن نوشہرہ کے سراج خان نے سپیکر سے خفیہ ملاقات کرکے درخواست دی کہ ان کا استعفیٰ منظور نہ کیا جائے اور یہ استدعا منظور کر لی گئی اس پر تحریک انصاف کی طرف سے ہارس ٹریڈنگ کا الزام عائد کر دیا گیا اور موقف اختیار کیا گیا کہ یہ خدشہ پہلے ہی ظاہر کیا گیا تھا کہ لوگوں کو خریدا جائے گا اور یہ سچ ثابت ہوا ہے۔

یہ بہت آسان جواب ہے کہ پہلے ہی کہہ دیا تھا، اس کا ایک دوسرا رخ بھی ہے۔ جس کے بارے میں میڈیا پکار پکار کر کہہ رہا تھا کہ اجتماعی طور پر پیش ہونے اور تصدیق اکٹھے کرنے کی ضد بھی اسی لئے کی جا رہی تھی کہ قیادت کو اپنے اراکین پر اعتماد نہیں تھا، اس کا تجربہ تو عمران خان کو خیبرپختونخوا میں ہو چکا ہوا ہے، جہاں اراکین کی اکثریت نے اسمبلی تورنے اور مستعفی ہونے کی مخالفت کی تھی۔

میڈیا میں یہ خبر چھپتی رہی کہ پانچ اراکین قومی اسمبلی نے استعفے سپیکر کے نام نہیں لکھے وہ تحریک انصاف کے چیئرمین کے نام ہیں، چنانچہ تین اراکین کے کھلم کھلا پارلیمنٹ کے اجلاس میں شرکت اور مستعفی ہونے سے انکار نے یہ ثابت کر دیا تھا کہ سب اراکین مستعفی نہیں ہوں گے اور مستعفی ہونے والے بھی قیادت کے حکم کی وجہ سے مجبور ہیں، اب اگر شاہ محمود قریشی اور عمران خان نے الگ الگ تصدیق کی مخالفت کی ہے تو وہ سمجھ میں آتی ہے کہ یہ خدشہ ہر دم موجود ہے کہ اراکین مکر جائیں گے بہرحال یہ بوری کا پہلا دانہ ہے باقی بھی گرنے والے ہیں جو عمران خان کے لئے دھچکا ہے، اسی لئے تو تجویز کیا کہ عمران خان بروقت فیصلہ کریں، دھرنا ختم کریں، پارلیمنٹ میں واپس جائیں اور انتخابی اصلاحات کے ساتھ ساتھ الیکشن کمیشن کی تنظیم نو بھی کرالیں، وہ نہیں مانے تو یہ صورت حال پیش آگئی، ان کو اب سمجھ جانا چاہیے۔

عمران خان کنٹینر پر کھڑے ہو کر کہتے ہیں کہ استعفے فائنل ہیں ہم تو اس پارلیمنٹ ہی کو نہیں مانتے، لیکن ان کے نائب شاہ محمود قریشی مشترکہ تصدیق کی بات کرتے ہیں۔اس طرح استعفوں کی منظوری میں تاخیر ہو رہی ہے اور یہ سلسلہ یونہی رہا تو دانے گرتے چلے جائیں گے، تاخیر کا فائدہ حکومت کو ہوگا تحریک انصاف کو ہمت اور اعتماد کا اظہار کرنا چاہیے۔سب متفقہ طور پر جائیں اور سپیکر کے پاس اراکین کو فرداً فرداً جانے دیا جائے جو اعتماد پر پورا اتریں ان کو خوش آمدید جو نہ اتریں، ابھی سے کشتی چھوڑ دیں آگے جا کر نقصان نہیں ہوگا لیکن عمران اور شاہ محمود قریشی کو یہ منظور نہیں، ان دونوں رہنماﺅں نے اپنے اپنے کام بانٹے ہوئے ہیں۔عمران خان سیدھی اور حتمی بات کہہ دیتے ہیں۔ شاہ محمود قریشی ڈپلومیسی کا مظاہرہ کرتے اور خود کو وزارت خارجہ والی حکمت عملیوں کا ماہر بنا کر پیش کر رہے ہیں، حالانکہ سیاسی میدان میں یہ نقصان دہ ہے۔

تحریک انصاف کے سربراہ نے اب دھرنے سے جان چھڑانے کا بتدریج پروگرام بنایا ہے وہ موقف میں نرمی لا رہے ہیں اور غالباً 30نومبر کے اجتماع کی حاضری دیکھ کر کسی نئے پروگرام کا اعلان کرکے دھرنا ختم کر دیں گے کہ اب یہ حقیقتاً بہت ہلکا رہ گیا اور تماشا بن چکا ہے۔

اب ایک بار پھر مذاکرات، مذاکرات کا کھیل ہونے والا ہے۔سراج الحق کی تجویز پر دونوں طرف سے صاد کیا گیا۔وزیراعظم کی چین سے واپسی کے بعد مسلم لیگ (ن) کا وفد ایک بار پھر جہانگیر ترین کے گھر آ کر شاہ محمود قریشی کی قیادت میں تحریک انصاف کے وفد سے مذاکرات کرے گا۔دعا کرنا چاہیے کہ اب یہ کامیاب دور ہو۔

چیف الیکشن کمشنر کے حوالے سے بہت نام آ گئے خورشید شاہ سب سے مشاورت کر رہے ہیں کہ وہ خود کو بھی معتدل اور اعتدال پسند منوانا چاہتے ہیں۔وزیراعظم کی واپسی تک حکومت سے باہر کی جماعتوں کا ایک نام پر اتفاق ہو جائے گا اور پھر شاید وزیراعظم بھی مان لیں اور نیا چیف الیکشن کمشنر 13نومبر سے پہلے بن جائے گا۔شاید بھگوان داس ہوں زیادہ رجحان انہی کی طرف ہے۔

مزید : تجزیہ