ایس پی ہیڈ کوارٹر کے ناروا سلوک سے دلبرداشتہ ہو کر 48سالہ کانسٹیبل نے خودکشی کر لی

ایس پی ہیڈ کوارٹر کے ناروا سلوک سے دلبرداشتہ ہو کر 48سالہ کانسٹیبل نے خودکشی ...

لا ہور (کرا ئم سیل )پولیس لائن قلعہ گجر سنگھ میں ایس پی ہیڈ کوارٹر کے مبینہ ناروا سلوک اور باربار معطلی سے دلبر داشتہ ہو کر 48 سالہ کانسٹیبل نے ساتھی اہلکار سے سرکاری رائفل چھین کر گولی مار کر زندگی کا خاتمہ کر ڈالا ۔ڈی آئی جی آپریشن ڈاکٹر حیدر اشرف نے واقعہ کا علم ہونے پر واقعہ کی رپورٹ طلب کر لی ہے ۔بتایا گیا ہے کہ ننکانہ صاحب کا رہائشی پولیس کانسٹیبل محمد طارق C-19599محکمہ پولیس میں بطور کانسٹیبل 13-05-1988کو بھرتی ہوا تھا ۔کانسٹیبل کے 6بچے ہیں جبکہ کچھ عرصہ قبل اس کی بیوی فوت ہو گئی اور وہ اپنی بیوی کی فوتگی کی وجہ سے پریشان رہنے لگا ۔ کانسٹیبل محمد طارق پولیس لائن قلعہ گجر سنگھ میں ہی رہائش پذیر تھا جبکہ اس کے بچے ننکانہ صاحب میں ہی رہائش پذیر ہیں بچوں کے اکیلے ہونے کی وجہ سے اوربیوی کی فوتگی کی وجہ سے محمد طارق پریشان رہتا تھا ۔بچوں کی دیکھ بھال کے لئے اس نے ایس پی ہیڈ کوارٹر سے چھٹی مانگی مگر محکمہ کی جانب سے اس کو چھٹی نہ ملی جس پروہ نوکری سے بھی مسلسل غیر خاضر رہنے لگا۔ 22-03-2013 کو ایس پی ہیڈ کوارٹر نے اس کو نوکری سے برخاست کر دیا گیا ۔ایک سال کے عرصہ کے بعد 18-01-2014 کو اعلی افسران نے اس کو بحال کر دیا مگر اس نے نوکری آمد نہ کی جس پر ایس پی ہیڈ کوارٹر عمر سعید ملک نے 01-09-2014کو محمد طارق کو ایک بار پھر برخاست کر دیا جس پر وہ دلبر داشتہ ہو گیا ۔گزشتہ روز محمد طارق ایس پی ہیڈ کوارٹر کے پاس پیش ہونے کے لئے گیا مگر ایس پی ہیڈ کوارٹر نے اس کو ملنے سے انکار کر دیا جس پر اس نے دلبر داشتہ ہو کر ساتھی کانسٹیبل منیر احمد سے سرکاری رائفل چھین کر خود کو گولی مار کر زندگی کا خاتمہ کر ڈالا ۔پولیس نے لاش قبضہ میں لیکر پوسٹ مارٹم کے لئے مردہ خانے جمع کروا دی ہے ۔ڈی آئی جی آپریشن لاہور ڈاکٹر حیدر اشرف کا کہنا ہے کہ واقعہ خود کشی کا ہے مگر اس واقعہ کی انکوائری کروا رہے ہیں تاکہ اصل حقائق معلوم کئے جا سکیں ۔

مزید : علاقائی


loading...