خواتین پولیس اہلکار بھی انصاف بیچنے لگیں ،شوہر کیخلاف درخواست پرکارروائی کے لیے رشوت مانگ لی

خواتین پولیس اہلکار بھی انصاف بیچنے لگیں ،شوہر کیخلاف درخواست پرکارروائی کے ...

 لاہور(کرائم سیل)حوا کی بیٹی انصاف کے حصول کے لیے صوبائی دارالحکومت کے واحد وومن تھانہ میں دھکے کھانے پر مجبور ہو گئی،شوہر کے تشدد اور خرچہ نہ دینے پر دائر کی گئی درخواست پر 10ماہ سے وومن تھانہ گڑھی شاہومیں شنوائی نہ ہو سکی۔پنجاب پولیس کی خواتین اہلکاروں نے بھی شیر جوانوں کے نقش قدم پر چلتے ہوئے مبینہ طور پر رشوت کا مطالبہ کر دیا۔تفصیلات کے مطابق بکر منڈی کی رہائشی مسر ت بی بی کی 3 سال قبل دلاور حسین نامی شخص سے شادی ہوئی تھی جو کہ رانا ٹاؤن کا رہائشی تھا۔نمائندہ\" پاکستان\" سے گفتگو کرتے ہوئے مسر ت بی بی اور اس کی والدہ رضیہ رشید نے بتایا کہ شادی کے ایک سال کے بعد ہی اس کے شوہر نے اس پر گھریلو حالات کی وجہ سے تشدد کرنا شروع کر دیا جس کی وجہ سے مسرت بی بی اپنی والدہ کے گھر اپنے بیٹے سمیت آ کر رہنے لگی۔اس دوران دو بار بڑوں نے انکی صلح کر وائی لیکن اس کے شوہر نے اس پر تشدد کرنا نہ چھوڑا۔ جس پر اس نے 11جنوری کو تھانہ ریس کورس میں قائم وومن تھانہ میں درخواست دی جس پر کوئی عمل نہیں کیا گیا۔ متاثرہ خاتون نے الزام عائد کیا ہے کہ لیڈیز پولیس اہلکار نسیم اقبال نے اس سے شوہر کے خلاف کارروائی کرنے کے لیے 4ہزار روپے رشوت کا مطالبہ کیا جسے وہ پٹرول کا خرچ کہ رہی تھی لیکن غریب ہونے کی وجہ سے وہ پیسے نہ دے سکی جس پر اس کی درخواست پر ابھی تک کوئی عمل نہیں کیا جا رہا ہے اور وہ آج تک تھانہ کے چکر لگا رہی ہے۔اس نے مزید بتایا کہ اس کی درخواست پر پولیس کی جانب سے ڈائری نمبر نہیں دیا گیا تھا۔اب جب کہ تھانہ گڑھی شاہو میں شفٹ ہو چکا ہے پولیس اہلکار کہ رہی ہیں کہ اس کی درخواست گم ہو چکی ہے اس پر کوئی کارروائی نہیں کی جا سکتی ہے۔انہوں نے پولیس حکام سے مطالبہ کیا کہ کرپٹ لیڈیز پولیس اہلکاروں کے خلاف حکام کارروائی کریں اور اسے انصاف فراہم کیا جائے۔اس حوالے سے لیڈیز پولیس اسٹیشن میں رابطہ کیا گیا تو انہوں نے بتایا کہ ایسی کوئی درخواست ہمارے پاس نہیں آئی رشوت کے الزامات میں کوئی صداقت نہیں ہے۔

مزید : علاقائی