عمران سمیت تمام مستعفی ،پی ٹی آئی ارکان قومی و صوبائی اسمبلی نے گوشوارے جمع کرا دیئے

عمران سمیت تمام مستعفی ،پی ٹی آئی ارکان قومی و صوبائی اسمبلی نے گوشوارے جمع ...

                       لاہور(شہباز اکمل جندران//انوسٹی گیشن سیل) عمران خان ، شاہ محمود قریشی ، اسد عمر ،عارف علوی اور تحریک انصاف کے قومی و صوبائی اسمبلیو ں کے دیگر اراکین نے استعفے دینے کے باوجود بطور ایم این اے اور ایم پی اے الیکشن کمیشن کو اثاثہ جات کی تفصیلات جمع کروائیںجو کہ ان کے اسمبلیو ں سے مستعفی ہونے کے اعلان سے متصادم ہے ۔ کیونکہ عوامی نمائندگی کے قانون مجریہ 1976 کے سیکشن 42-Aمستعفی رکن اسمبلی کو اثاثوں کی تفصیلات جمع کروانے کا پا بند نہیں کرتا۔معلوم ہواہے کہ پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے 14اگست کو آزادی مارچ کے بعد قومی و صوبائی اسمبلیوں سے مستعفی ہونے کا اعلان کیا اور ان کی جماعت کے اراکین نے مشترکہ طورپر 22اگست کو قومی اسمبلی میں جبکہ 27اگست کو پنجاب اسمبلی میں اپنے استعفے جمع کروادیئے۔ اور دونوں اسمبلیو ں کے سپیکروں اور جماعت اسلامی کی کوششوں کے باوجود تاحال تحریک انصاف کے ان اراکین نے اپنے استعفے واپس نہیں لیے ۔اور ان کا اصرار ہے کہ استعفے قبول کیئے جائیں۔ لیکن اسی کے ساتھ عمران خان، شاہ محمود قریشی ، اسد عمر ، عارف علوی اور پی ٹی آئی کے دیگر اراکین قومی و صوبائی اسمبلی نے استعفے دینے کے بعد ستمبر کے دوسرے عشرے میں بطور ایم این اے اور ایم پی اے اپنے اثاثوں کی تفصیلات الیکشن کمیشن کو جمع کروائیں ۔ جو کہ ان کے مستعفی ہونے کے اعلان اور استعفے جمع کروانے کے اقدام سے متصادم ہے۔ عوامی نمائندگی کے قانون مجریہ 1976کے سیکشن 42-Aکے تحت قومی و صوبائی اسمبلیوں کے ممبران ہر سال 30ستمبر تک گزشتہ مالی سال کے اثاثہ جات اور ذمہ داریوں کے گوشوارے جمع کروانے کے پابند ہیں۔مذکورہ قانون کے تحت صرف اراکین اسمبلی ہی الیکشن کمیشن کو گوشوارے جمع کروانے کے پابند ہوتے ہیں۔ عام آدمی یا مستعفی ہونے والے اراکین کے متعلق یہ قانون کچھ بیان نہیں کرتا۔ اورعمران خان سمیت تحریک انصاف کی طرف سے گوشوارے جمع کروانے والے اراکین نے مستعفی کی بجائے ریگولر ایم این اے اور ایم پی اےز کی حیثیت سے گوشواروں کی تفصیلات جمع کروائیں۔ یہ بھی معلوم ہواہے کہ الیکشن کمیشن کی طرف سے گزشتہ روز جاری ہونے والی تفصیلات کے مطابق قومی اسمبلی سے صرف تین اراکین نے اپنے اثاثوں کی تفصیلات جمع نہیں کروائیں اور ان تینوں کا تعلق تحریک انصاف سے ہے۔ ان میں پشاور کے ساجد نواز ، کوہا ٹ کے شہریا ر آفریدی اور ایبٹ آباد کے ڈاکٹر محمد اظہر خان جدون شامل ہیں۔ اسی طرح پنجاب اسمبلی سے اب تک گوشوارے جمع نہ کروانے والے کل 8میں سے5 ارکان تحریک انصاف سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان میں راولپنڈی سے ملک تیمور مسعود، میانوالی سے ڈاکٹر صلاح الدین، لاہور سے میاں محمد اسلم اقبال ، ساہیوال سے وحید اصغر ڈوگر اور لیہ سے عبدالمجید خان نیازی کے نام شامل ہیں۔ جبکہ گوشوارے جمع نہ کروانے والے پنجاب کے دیگر تین ایم پی ایز کا تعلق حکمران جماعت سے ہے۔اس سلسلے میں گفتگو کرتے ہوئے الیکشن کمیشن کے ترجمان کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن نے مالی سال 2013-14کے گوشوارے جمع کروانے کے لیے اراکین اسمبلی کو پہلا نوٹس 4جولائی کو جاری کیا۔ جس میں مطلع کیا گیا کہ تمام اراکین قومی و صوبائی اسمبلی 30ستمبر تک یکم جولائی 2013سے 30جون 2014تک کے اثاثہ جات اور ذمہ داریوں کی تفصیلات الیکشن کمیشن کو جمع کروائیں جس کے جواب میں پی ٹی آئی کی قیادت سمیت پارٹی کے دیگر اراکین نے سمتبر کے دوران حتمی تاریخ سے قبل ہی گوشوارے جمع کروادیئے تھے۔ ترجمان کا مزید کہنا تھا کہ عوامی نمائندگی کا قانون مستعفی ہونے والے ممبران سے اثاثہ جات کی تفصیلات طلب کرنے کے حوالے سے خاموش ہے۔

مزید : صفحہ آخر