سانحہ واہگہ بارڈر، ٹیم تعین نہ کر سکی کہ حملہ آور حساس مقام تک کیسے پہنچے

سانحہ واہگہ بارڈر، ٹیم تعین نہ کر سکی کہ حملہ آور حساس مقام تک کیسے پہنچے

لاہور(کر ا ئم سیل ) سانحہ واہگہ بارڈ ر کی تفتیش کے لئے قائم جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم کے اراکین کا گزشتہ روز انویسٹی گیشن ہیڈ کوارٹر میں دوسرا اجلاس ہوا جس میں حساس ادارے کے افسران سمیت دیگر اہلکار بھی موجود تھے ۔تاحال جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم اس بات کا ختمی تعین نہ کر سکی کہ حملہ آوروں کی تعداد کتنی تھی اور وہ انتہائی حساس مقام تک پہنچنے میں کس طرح کامیاب ہو گئے ۔ پولیس افسران کا کہنا ہے کہ زیرو پوائنٹ باب پاکستان سے 5میل کا سرکل ایریا رینجرز کی سکیورٹی میں آتا ہے اس ایریا میں پولیس کا کوئی تھانہ یا چوکی قائم نہیں ہے اس ایریا کی سکیورٹی رینجرز حکام کی ذمہ داری ہے ۔8محرم الحرام کی شام واہگہ بارڈر پر ہونے والی پرچم کشائی کی تقریب سے واپس آنے والے افراد کو دہشت گردوں نے دہشت گردی کا نشانہ بنا دیا جس میں 63افراد زندگی کی بازی ہار گئے جبکہ 100سے زائد افراد زخمی ہو گئے تھے ۔ جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم کے ذمہ دار ذرائع کا کہنا ہے کہ تفتیشی ٹیم کو تاحال جائے وقوعہ سے خود کش حملہ آور کا سر نہیں مل سکا اور نہ ہی کوئی ایسی چیز ملی ہے کہ جس سے دہشت گرد کی شناخت ممکن ہو سکے ۔مردہ خانے میں پڑی لاشوں کے ورثاءسے مبینہ خود کش حملہ آور کی ملنے والی ٹانگوں سے لئے گئے سمپل سے ڈی این اے ٹیسٹ کروانے کا فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ اس بات کا ختمی فیصلہ کیا جا سکے کہ کیا جائے وقوعہ سے ملنے والی دو ٹانگیں خود کش حملہ آور کی ہیں یا پھر کسی اور شخص کی ہیں جو خود کش دھماکے میں جاں بحق ہو گیا ہے ۔اعلیٰ پولیس افسر کا کہنا ہے کہ خود کش دھماکے میں امونیم نائیٹریٹ استعمال کیا گیا ہے ۔ جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم کے سربراہ کا کہنا ہے کہ وہ جلد ہی اس سانحہ میں ملوث اصل ملزمان تک پہنچ جائیں گے ۔

مزید : صفحہ آخر


loading...