شاہ محمود قریشی ....خورشید شاہ کے گھرپہنچ گئے....

شاہ محمود قریشی ....خورشید شاہ کے گھرپہنچ گئے....
شاہ محمود قریشی ....خورشید شاہ کے گھرپہنچ گئے....

  

سیاست کی سب سے خوبصورت بات یہی ہے کہ اس میں کوئی بات حتمی نہیں ہوتی۔ کسی بھی وقت کچھ بھی ہو سکتا ہے۔ دوست دشمن بھی بن جاتے ہیں اور دشمن دوست بھی۔ کہتے ہیں کہ اسی کو سیاست کہتے ہیں۔ کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ سیاست میں کوئی اصول و ضابطے نہیں ہیں۔ سب مفاد کا کھیل ہے یا اس کا یہ مطلب ہے کہ سیاست ذہین لوگوں کا کھیل ہے جو بدلتے حالات وواقعات کے مطابق فیصلہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

چیف الیکشن کمشنر کی تعیناتی پر مشاورت کے لئے تحریک انصاف کے وائس چیئر مین شاہ محمود قریشی قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف خورشید شاہ کے گھر گئے اور تفصیلی مشاورت کی۔ اس مشاورت کے بعد دونوں رہنماﺅں نے میڈیا سے مشترکہ طور پر بات بھی کی۔ شاہ محمود قریشی جب خورشید شاہ کے گھر پہنچے تو شاید انہیں یہ یاد نہیں تھا کہ یہ وہی خورشید شاہ صاحب ہیں جنہیں تحریک انصاف کی قیادت دھرنے کے کنٹینر سے وزیر اعظم کا چپڑاسی کہ کر پکارتی تھی۔ یہ وہی خورشید شاہ ہیں جو دھرنے کے موقع پر تحریک انصاف کی قیادت سے رابطے کی کوشش کرتے رہے اور کسی نے ان کا فون تک سننا مناسب نہیں سمجھا۔ جب انہوں نے تحریک انصاف کی قیادت سے ملنے کی خواہش کا اظہار کیا تو صاف انکار کر دیا گیا۔ یہ وہی خورشید شاہ ہیں جن کے بارے میں تحریک انصاف نے اعلان کیا تھا کہ ان سے بات نہیں ہو گی بلکہ اگر پیپلز پارٹی تحریک انصاف سے بات کرنا چاہتی ہے تو خورشید شاہ کی بجائے دیگر قیادت رابطہ کرے۔ جس کے جواب میں پیپلزپارٹی نے اعلان کیا تھاکہ اگر تحریک انصاف نے بات کرنی ہے تو خورشید شاہ سے ہی کرنی ہو گی۔ یہ وہی خورشید شاہ ہیں جن کی کرپشن کے قصے تحریک انصاف کی قیادت دھرنے کے کنٹینر سے روز سناتی تھی اور یہ وہی خورشید شاہ ہیں جن کے گھر چل کر خود شاہ محمود قریشی گئے اور چیف الیکشن کمشنر کی تعیناتی پر مشاورت کی۔

دھرنے کا ماحول بہت جذباتی تھا ۔ تحریک انصاف بہت پر امید تھی۔ ہر روز امپائر کی انگلی اٹھنے کا اعلان تھا ۔ ایسے میں انہیں خورشید شاہ وزیراعظم کے چپڑاسی ہی نظر آرہے تھے لیکن شکر ہے کہ تحریک انصاف واپس حقیقت کی دنیامیں آگئی ہے اور انہیں اس بات کا احساس ہو گیا ہے کہ خورشید شاہ قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف ہیں اور اس حوالے سے ان کا ایک آئینی کردار ہے۔

سپریم کورٹ نے چیف الیکشن کمشنر کی تعیناتی کے لئے ڈیڈ لائن میں توسیع کرنے سے انکار کردیاہے جس پر وزیر اعظم اور قائد حزب اختلاف کے درمیان مشاورت کا عمل شروع ہو گیا۔ مختلف نام سامنے آنا شروع ہو گئے۔ تاہم مشاورت کا عمل دیگر جماعتوں تک بڑھانے کا بھی فیصلہ ہوا جو سیاسی طور پر ایک درست فیصلہ تھا۔ اب تحریک انصاف کے پاس دو ہی راستے تھے ۔ پہلا یہ کہ وہ مشاورت کے اس عمل میں حکومت کے ذریعے شامل ہو جائے اور دوسرا یہ کہ وہ مشاورت کے اس عمل میں قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ کے ذریعے شامل ہو ۔ تحریک انصاف کے لئے دونوںہی کڑوی گولیاں تھیں۔ ایک طرف وہ وزیر اعظم جس کو وہ دھاندلی کی پیدوار سمجھتے ہیں دوسری طرف وہ قائد حزب اختلاف جس کو وزیر اعظم کا چپڑاسی کہتے ہیں۔ اس لئے کم تر کڑوی گولی کھاتے ہوئے تحریک انصاف نے قائد حزب اختلاف خورشید شاہ کے ذریعے مشاورت کے عمل میں شامل ہونے کا فیصلہ کیا۔ یہ سیاست کا حسن ہے اور اسی کو سیاست کہتے ہیں۔

 سیاست میں ٹائمنگ بھی نہایت اہم ہوتی ہے۔ یہ ضروری نہیں کہ آپ کو ہر چیز ہر وقت دستیاب ہو۔ ایک وقت تھا کہ حکومت دھاندلی کی تحقیقات سپریم کورٹ سے کروانے کے لئے تیار تھی۔ وزیر اعظم نے چیف جسٹس سپریم کورٹ کو خط بھی لکھ دیا لیکن اس وقت تحریک انصاف استعفیٰ سے کم بات نہیں کرنا چاہتی تھی اور حکومت استعفیٰ کے سوا سب ماننے کے لئے تیار تھی اور آج تحریک انصاف دھاندلی کی تحقیقات پر بات کرنا چاہتی ہے تو شاید حکومت اس کے لئے تیار نہیں۔ جو کچھ تحریک انصاف کو دھرنے کے ابتدائی دنوں میں میسر تھا وہ آج نہیں ہے۔

اس لئے شاید شاہ محمود قریشی کو علم تھا کہ اگر چیف الیکشن کمشنر والی ٹرین بھی مس کر دی تو نقصان تحریک انصاف کاہی ہو گا۔ تحریک انصاف اس وقت اس پوزیشن میں نہیں ہے کہ اس کے مشاورت کے عمل میں شریک نہ ہونے سے کوئی عمل ہی رک جائے۔ اس لئے شاہ محمود قریشی نے خورشید شاہ کے گھر جانے میں ہی عافیت سمجھی۔

چیف الیکشن کمشنر کون بنتا ہے یہ زیادہ اہم بات نہیں ہے۔ زیادہ اہم بات یہ ہے کہ اس کی تعیناتی کا عمل شفاف ہونا چاہئے جس پر تمام سیاسی جماعتوں کو اعتماد ہو۔ بالکل اسی طرح جیسے کئی بار انصاف ہونے سے زیادہ انصاف ہو تا نظر آنا زیادہ اہم ہو تا ہے۔ مشاورت کا عمل خوش آئند ہے۔ اگر اس میں کسی ایک نام پر مکمل اتفاق ہوجائے تو بہت اچھا ورنہ جس نام پر زیاد ہ سے ز یادہ اتفاق ہو جائے وہ بھی ٹھیک ہے۔ حکومت بھی مشاورت کر رہی ہے اور اپوزیشن بھی مشاورت کر رہی ہے۔یہی جمہوریت کا حسن ہے کہ اس میں دوست دشمن بھی بن جاتے ہیں اور دشمن دوست بھی بن جاتے ہیں۔ اسی لئے شاہ محمود قریشی خورشید شاہ کے گھر چلے گئے۔

مزید : کالم