قومی ادارہ صحت برائے اطفال میں بجلی کی بندش سے 4 بچے جاں بحق ہو گئے، انتظامیہ اور حکومت کے متضاد بیانات

قومی ادارہ صحت برائے اطفال میں بجلی کی بندش سے 4 بچے جاں بحق ہو گئے، انتظامیہ ...
قومی ادارہ صحت برائے اطفال میں بجلی کی بندش سے 4 بچے جاں بحق ہو گئے، انتظامیہ اور حکومت کے متضاد بیانات

  


کراچی ( مانیٹرنگ ڈیسک ) قومی ادارہ برائے صحت اطفال میں بجلی کی فراہمی معطل ہونے کے باعث 4 بچے جاں بحق ہو گئے،جس کے بعد ہسپتال انتظامیہ اور وزیر صحت سندھ کے متضاد بیانات نے ان بچوں کی موت کو معمہ بنا دیا۔تفصیلات کے مطابق ادارہ برائے صحت اطفال میں بجلی کی فراہمی معطل ہونے کے باعث انکوبیٹر نے کام کرنا چھوڑ دیا جس کے باعث 4 بچوں کو آکسیجن کی فراہمی صحیح طریقے سے نہ ہو سکی اور وہ جاں بحق ہو گئے۔ڈائریکٹر این آئی سی ایچ جمال رضا کا کہنا ہے کہ میڈیا میں بے بنیاد خبر کو نشر کیا جا رہا ہے اور ہسپتال میں بجلی کی فراہمی معطل ہونے کے باعث کوئی ہلاکت نہیں ہوئی۔ان کا مزید کہنا تھا کہ ہسپتال میں صبح سے بجلی موجود ہے اور بہت تھوڑے عرصے کے لیے ہسپتال کے ایک پورشن کی بجلی معطل ہوئی تھی لیکن اس کا تعلق بچوں کی نرسری سے نہیں ہے۔انہوں نے مزید بتایا کہ انکوبیٹر پر موجود ایک بچے کی ہلاکت ہوئی ہے جو طبعی ہے اور اس کا تعلق بجلی کی معطلی سے نہیں ہے۔جبکہ وہ بچہ 20 دنوں سے زیر علاج تھا۔انہوں نے بتایا کہ ہسپتال میں 40 بچے زیر علاج ہیں اور وہ صحت مند ہیں۔

دوسری جانب وزیر صحت سندھ جان مہتاب ڈھر نے بجلی کی فراہمی کے معطل ہونے کی وجہ سے ایک بچے کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے اور انہوں نے میڈیا کو بتایا ہے کہ ہسپتال میں بیک اپ جنریٹر موجود تھا لیکن پھر بھی بجلی کی فراہمی معطل ہونا اور اس کے باعث بچے کی ہلاکت ہو جانا افسوسناک بات ہے۔انہوں نے بتایا کہ اس واقعے کی انکوائری کا حکم دے دیا گیا ہے اور کہا کہ جلد اس واقعے کی تحقیقات مکمل کر لی جائیں گی۔

جبکہ دوسری جانب ہسپتال انتظامیہ نے میڈیا کو کوریج کے لیے ہسپتال داخل ہونے سے بھی روک دیا۔

مزید : کراچی /اہم خبریں


loading...