توانائی کا شعبہ ملکی معیشت کے استحکام میں بڑی رکاوٹ ہے

توانائی کا شعبہ ملکی معیشت کے استحکام میں بڑی رکاوٹ ہے

کراچی ( اکنامک رپورٹر)پاکستان بزنس مین اینڈ انٹلیکچولز فور م وآل کراچی انڈسٹریل الائنس کے صدر،ایف پی سی سی آئی کے گروپ بزنس مین پینل کے اول نائب صدراور سابق صوبائی وزیر میاں زاہد حسین نے کہا ہے کہ پاور سیکٹر میں اصلاحات کی رفتار انتہائی سست ہے۔ اس شعبہ کی اصلاح کئے بغیرصنعت و تجارت کی ترقی اور ملکی معیشت کو اپنے پیروں پر کھڑا کرنا ناممکن ہے۔ توانائی کے شعبہ کی کمزوری کا سرمایہ کاروں کے اعتماد اورملکی و غیر ملکی سرمایہ کاری سے براہ راست تعلق کو سمجھا جائے۔ 2014-15 میں توانائی کے شعبہ کے نقصانات کو کم نہیں کیا جا سکا ، گردشی قرضہ جی ڈی پی کے دو فیصد تک پہنچ کر چھ سو ارب روپے ہو گیا جبکہ بقایاجات کی وصولیوں میں ایک فیصد کمی آئی۔اس شعبہ کی کمزوری کی سزا ملک و قوم کو مل رہی ہے۔۔ میاں زاہد حسین نے یہاں جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا کہ آئی ایم ایف کو بجلی کا ٹیرف بڑھانے، سرچارج ہر صورت میں برقرار رکھنے ، نقصانات میں کمی لانے اور بلوں کی سو فیصد وصولی کی یقین دہا نی کروا دی ہے تاہم اس سلسلہ میں اقدامات کا سلسلہ ابھی شروع نہیں ہوا۔ توانائی بحران کی وجہ سے پہلے عشرے میں محاصل کی وصولی میں چالیس ارب کی کمی ہوئی ہے ۔ پاکستان آئی ایم کے دئیے گئے اہداف میں سے تین حاصل نہیں کر سکا ہے مگر اسکے باوجود اگلے ماہ 502 ملین ڈالر کی قسط جاری کر دی جائے گی جبکہ عالمی بینک اور ایشیائی ترقیاتی بینک نومبر میں مجموعی طور پر 900 ملین ڈالر قرضہ دینگے جس سے معاشی صورتحال پر مثبت اثرات پڑینگے۔انھوں نے کہا کہ ٹیکس مکینزم، سرکاری اداروں کی نجکاری اور سرمایہ کاری کی فضاء بہتر بنانے کیلئے مزید اقدامات کی ضرورت ہے۔انھوں نے کہا کہ محاصل میں کمی کیلئے موجودہ ٹیکس گزاروں پر چالیس ارب کا بوجھ ڈالنے کے بجائے ٹیکس نیٹ کو توسیع دی جائے جو ملکی مفاد میں ہے۔پاکستان میں ٹیکس کی شرح خطہ کے تمام ممالک سے زیادہ ہے اسلئے ایک فیصد عوام بھی ٹیکس ادا کرنے کو تیار نہیں جس سے زیر زمین معیشت کی شرح تیزی سے بڑھ رہی ہے۔

مزید : کامرس