خوشگوار عاجزی کا پیکر : زمرد ملک (4)

خوشگوار عاجزی کا پیکر : زمرد ملک (4)

سیالکوٹ میں ہمارے بی اے کے امتحان سے لے کر لاہور میں زمرد ملک کے انتقال تک کوئی ساڑھے چار سال کا وقفہ ہے ۔ اس دوران ان سے میری ملاقاتوں کی تعداد بھی سا ڑھے چار ہی بنتی ہے ۔ وہ یوں کہ 1975میں آخری ملاقات جب ہم فیروز سنز راولپنڈی میں کھڑے کھڑے ملے ، ادھوری سی تھی ۔ ملک صاحب کے سا تھ اس وقت ان کے ایک نہایت قریبی دوست بھی تھے ، پیپلز پارٹی والے حسن خورشید میر کے بھائی طالب خورشید ۔ مسکراہٹوں کا تبادلہ ہوا ، ہا ئے ہیلو کے انداز میں سرسری حال چال پوچھا گیا ۔ برطانوی سفارتخانہ میں میری اولین ملازمت کا سن کر خوش ہوئے ۔ پھر یوں لگا جیسے وہ جلد ہی کہیں پہنچنے کے پابند ہوں ۔ چنانچہ دونوں دوست مجھ سے ہاتھ ملا کر ایک سفید رنگ کی فوکسی میں حیدر روڈ کی طرف چل دئے ۔ آپ کہیں گے کہ آخری برسوں میں ملاقاتیں اتنی کم کیوں ؟ وجہ یہ کہ ایم اے انگریزی کرنے کے لئے جب میں گورنمنٹ کالج لاہور پہنچا تو استاد محترم ابھی تک جناح اسلامیہ کالج سیالکوٹ میں تھے ۔ سال بھر گزرا ہوگا کہ میرا رخ گورڈن کالج پنڈی کی طرف ہو گیا اور پھر کچھ ہی عرصہ میں تعلیمی اداروں کے قومیائے جانے پر وہ لاہور میں ’سرخوں ‘ کے قائم کردہ شاہ حسین کالج کے وائس پرنسپل ہوگئے ۔ اس بیچ میں دو ویک اینڈ ایسے ہیں جب شہر اقبال میں ہم دونوں کا کئی گھنٹے ساتھ رہا ۔ ایک جب نیشنل عوامی پارٹی پنجاب کے جنرل سیکرٹری پروفیسر امین مغل تنظیم کے مقامی دفتر کا افتتاح کرنے آئے اور حبیب جالب کی نظموں نے سماں باندھ دیا ۔ دوسرے وہ دن جب اس وقت کے صدر ذوالفقار علی بھٹو نے ایک عوامی تقریر میں بقول شخصے ’کوثر و تسنیم میں دھلی ہوئی زبان‘ استعمال کی ، جو ریڈیو پہ نشر ہو گئی ۔

پھر بھی الوداعی ملاقات کی رواروی میری سمجھ میں نہیں آتی ۔ کیا پتا یہ کسی سطح پہ آئندہ چند ماہ کے اندر حدود وقت کو پار کر جانے کا اشارہ ہو ۔ وگرنہ ملک صاحب کے عمومی ٹھہراؤ کا یہ عالم تھا کہ کسی دفتر میں کام ہے ۔ پہنچے تو پتا چلا کہ متعلقہ اہلکار موجود نہیں ۔ سن کر مجال ہے جو منہ بنایا ہو ۔ بس منٹ دو منٹ کمرے کے اندر رکے اور پھر انتظار کے لئے آرام سے باہر برآمدہ میں رکھے ہوئے بینچ پہ جا بیٹھے ۔ ساتھ ہی بریف کیس میں سے فکشن کی کوئی نئی کتاب نکل آتی ۔ یہ عادت بھی تھی کہ ایک کم قیمت ناول خریدا اور کتاب کو توڑ پھوڑ سے بچانے اور بریف کیس کو ہلکا رکھنے کے لئے کل صفحات الگ الگ کر کے ان کی پانچ چھ گڈیاں بنالیں تاکہ ایک وقت میں ایک ہی گڈی گھر سے نکلے ۔ کتاب ختم ہوتے ہی اس کی جلد بندھوا لیتے اور پیپر بیک ہارڈ باؤنڈ کتاب میں بدل جاتی۔ روزانہ ملاقات کا تسلسل ٹوٹ جانے پہ بھی زمرد ملک سے خطوط کا تبادلہ گاہے گاہے ہوتا رہا ۔ بطور طالب علم لاہور سے راولپنڈی آ جانے پر میں نے جو چٹھی لکھی وہ گورمکھی میں تھی اور اس کا جواب اسی رسم الخط میں بلا تاخیر ملا ۔ انگریزی اور اردو تحریر کی طرح اس میں بھی ان کے حروف کی بناوٹ اور جڑت ایسی کہ آدمی دیکھتا ہی رہ جائے ۔ ابتدائی جملہ تھا ’مینوں وڈی خوشی اے کہ تونہہ اجے تک گورمکھی دا کھیڑا نہیں چھڈیا‘ ۔ آگے چل کر منفرد سوچ رکھنے والے میرے دوست خرم قادر کا ذکر تھا جو شاہ حسین کالج کے قومیائے جانے پر شاہ حسین ہی سے موسوم پرائیویٹ انسٹی ٹیوٹ میں تدریس سے وابستہ ہو گئے تھے ۔ ’یار ، مینوں ایہہ بندہ پسند آیا اے ، پر ایہہ لاہور اے جتھے کسے نوں ملن لئی ٹائم کڈھنا پیندا اے ، کوئی سیالکوٹ نئیں کہ کسے چوک وچ جا نکلو ، اگوں اعجاز بٹ آؤندا ملے گا‘ ۔

ڈاکٹر خرم قادر کے لئے پسندیدگی پروفیسر زمرد ملک کی جوہر شناسی کا اشارہ ہے ، اس لئے کہ خرم قادر جلد ہی اکنامکس کے مضمون سے تائب ہوکرنئے سرے سے تاریخ میں فارغ التحصیل ہوئے اور پھر اسی مضمون کے معتبر و مستند استاد قرار پائے ۔ پر میرے لئے اس حوالے کی اہمیت اس پہلو سے ہے کہ جب زمرد ملک چھیالیس سال کی عمر میں اچانک دنیا سے رخصت ہوئے تو میں نے سب سے پہلے خرم ہی کو فون کیا ، جو ان دنوں پنڈی میں تھے جبکہ میں والدین کے پاس واہ کینٹ میں ۔ آج کا دور ہوتا تو ٹی وی پہ بریکنگ نیوز چل جاتی اور ٹاک شو شروع ہو جاتا کہ مرحوم پروفیسر کو دل کا دورہ مال روڈ پر لارڈز ریستوراں میں پڑا یا مرزا بک ایجنسی کے باہر ۔ چالیس سال پہلے یہ خبر صرف لاہور کے اخبارات میں چھپی اور ہم تک نہ پہنچی ۔ چنانچہ خرم نے ذاتی رابطوں سے اس کی تصدیق حاصل کی ۔صدمہ تو گہرا تھا ، مگر کیا کرتے ۔ زمرد ملک کی اہلیہ بیگم زرینہ کو تعزیت کا خط لکھ بھیجا ۔ پھر ایک نظم کہی کہ ’وہ جی رہا تھا تو میں نے اس نے حسین رنگوں میں خواب دیکھے ، خیال سوچے‘۔یہ محض ضابطہ کی کارروائی تھی جیسے انفارمیشن ڈپارٹمنٹ سے روٹین کا پریس نوٹ جاری ہوجاتا ہے ۔ بیگم صاحبہ کا جواب ملا کہ انہیں میرے اور ان کے شوہر کے مراسم کا علم ہے ، اس لئے جب بھی سیالکوٹ آنا ہو ، بچوں کو مجھ سے مل کر خوشی ہو گی ۔ پھر ایک اور خط آیا ، جس کے ساتھ میرے متعلق زمرد ملک کے ہاتھ کی ایک تحریر تھی جو ان کے ٹائپ رائٹر سے ملی ۔ یہ ایک برطانوی یونیورسٹی کے اسکالرشپ کے لئے میری درخواست پر لکھا گیا ایک زوردار مگر دیانتدارانہ ریفرنس تھا جسے ٹائپ کرنے کی انہیں مہلت نہ ملی ۔ اب میری نالائقی کہ نہ تو سیالکوٹ گیا، نہ اتنا کیا کہ یہ قلمی نسخہ ہی سنبھال لیتا۔

زمرد ملک کے بچوں میں سے میری واقفیت صرف محمود اقبال سے تھی ، زمرد ملک کی پہلی ازدواجی اننگز میں سے پہلو ٹی کا بچہ جو ہمارے بی اے کر لینے کے اگلے سال جناح اسلامیہ کالج کی انٹرمیڈیٹ کلاس میں میرے کزن احسان کا ہم جماعت رہا ۔ دو چھوٹے بچوں میں سے امداد کو باپ کے ساتھ اسکوٹر پہ کانوینٹ اسکول آتے جاتے بارہا دیکھا ۔ عینی کے بارے میں بس اتنا علم تھا کہ سب سے چھوٹی بیٹی ہے ۔ ایک موقعے پر میری پھوپھو اختر نے بھی مجھے ڈانٹ پلائی کہ زمرد کی بیوی چچا عبدالواحد کے سسرالی رشتہ داروں میں سے ہیں اور تمہیں یاد کرتی ہیں ۔ میں سیالکوٹ کینٹ میں اس گھر سے بھی واقف تھا جہاں بیگم زرینہ نے پیپلز پارٹی کی مقامی لیڈر ہوتے ہوئے بھی بچوں کی دیکھ بھال کی اور زمرد ملک کے شعری مجموعہ کا انتخاب کیا ۔ تو سب جانتے ہوئے بھی میں نے ان کی خبر گیری کیوں نہ کی؟اب تریسٹھ سال کے گھاگ انسان کے طور پر اس دور کے تئیس سالہ لاابالی نوجوان کی مسلسل لاپروائی کا جواز فراہم کرنا چاہوں تو غیب سے آواز آئے گی ’لعنت‘ ۔ آپ بھی بے شک میرے دلائل کو نہ مانیں اور نہ میرا ارادہ آپ کو قائل کرنے کا ہے ، مگر خدا جانتا ہے کہ مجھے انسانی تعلق کو ملکیتی رشتے خیال نہ کرنے کا یہ رویہ خود استاد ہی سے ورثہ میں ملا تھا ۔ تو کیا اس کا مطلب یہ نکلتا ہے کہ انگریزی کا خوشدل پروفیسر ، کالج ٹیچرز ایسوسی ایشن کا مقبول عہدیدار اور شہرت سے بے نیاز یہ منفرد شاعر جس کے انتقال پر ’اج آکھاں وارث شاہ نوں‘ کہنے والی امرتا پریتم نے بھارتی ’دور درشن ‘ پہ یادگار پروگرام پیش کیا ، میری ہی طرح کا ایک سخت دل آدمی تھا ؟ جواب ہے ’نہیں‘ لیکن ہم دونوں کے ورلڈ ویو میں ایک نزاکت چھپی ہوئی ہے ، جسے سمجھنے کے لئے زمرد ملک کی شاعری کا سہارا لینا پڑے گا :

نیم شب تاریک گلیوں میں مرا پیچھا نہ کر

میں تو آپ اپنا ہی سایہ ہوں ، مجھے رسوا نہ کر

روشنی سے بھاگتے سائے ہیں سارے ہم سفر

راستوں میں بے سبب ہر ایک سے الجھا نہ کر

اپنی صورت آئینے میں دیکھتے رہنا عبث

تو خدا بن کر بھی پچھتائے گا ، دیکھ ایسا نہ کر

آج بیگم زرینہ زمرد ملک کو دنیا سے رخصت ہوئے پچیس سال ہونے کو ہیں ، لیکن اس وقت مجھے لگتا تھا کہ کسی کے غم میں زبر دستی برابر کا شریک ہونا خوامخواہ الجھاؤ پیدا کرنے اور آئینہ دیکھ دیکھ کر خدا بننے کا رویہ ہو گا ۔ یعنی ہم بڑی چیز ہیں اس لئے آپ کا خیال رکھتے ہیں ۔ ذرا معمول سے ہٹی ہوئی منطق ہے جس کو اپنا کر زمرد ملک کی نظم ’انجان‘ کی طرح پڑھنے وا لے کی سمجھ میں بھی یہ ازلی معمہ نہیں آتا کہ ’میں انجان کہ لوکی‘ ۔ نظم کا مرکزی کردار ذات کی نفی اور اثبات کے مرحلوں سے آگے نکل جانا چاہتا ہے ، لیکن اس کی مشکل یہ ہے کہ :

شہروں باہر کھلوتا ویکھاں

بتیاں دے لشکارے

بتیاں بجھن پر نہ بجھن

اکھیاں دے انگیارے

نظم کی کیفیتوں کے ساتھ ساتھ چلیں تو ’انجان‘ کی یہ مسافت گلی بازاروں میں سنگ زنوں کے ہجوم سے لے کر سولی سے دکھائی پڑنے والی حیران و پریشان خلق خدا تک پھیلی ہوئی ہے ۔ تو کیا نظم کے مرکزی کردار کو اس سوال کا جواب مل گیا تھا جس تک پہنچنے کے لئے استاد کی طرح شاگرد نے بھی تاحال ہاتھ پھیلا رکھے ہیں ؟ کیا پتا حاصل نظم یہی آخری ہو :

بووئے کھڑکن وچ ہنیری

بدل آون چڑھ کے

اڈدے ورق خیالاں والے

کون لیاوے پھڑ کے

مزید : کالم