سندر انڈسٹریل ایریا ؛ 700فیکٹری مالکان کو نقشے جمع کروانے کا نوٹس

سندر انڈسٹریل ایریا ؛ 700فیکٹری مالکان کو نقشے جمع کروانے کا نوٹس

  

 لاہور( جاوید اقبال) سندرانڈسٹریل اسٹیٹ میں قیامت صغریٰ برپا ہونے کے واقعہ کے بعد پنجاب انڈسٹریل اسٹیٹ مینجمنٹ ’’ایکشن‘‘ میں آ گئی ہے اور مینجمنٹ نے سندر انڈسٹریل ایریا میں موجود 7 سو فیکٹریوں کے مالکان کو نوٹسز جاری کر دئیے ہیں جس کی تصدیق پی آئی ایس ایم کے چیف ایگزیکٹو آفیسر نوید گل نے کر دی ہے۔ جنہوں نے تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ سندر انڈسٹریل اسٹیٹ میں اس وقت 7 سو سے زائد فیکٹریاں موجود ہیں جن کو مینجمنٹ نے نوٹسز جاری کیے ہیں جن میں کہا گیا ہے کہ وہ تمام مالکان اپنی فیکٹریوں کی عمارتوں کے منظور شدہ نقشہ جات بلڈنگ پلان، عمارتوں کے موجودہ سٹرکچر کی صورتحال جمع کروائیں جس کے لئے تمام فیکٹریوں کے مالکان کو ایک ہفتہ کی ڈیڈ لائن دی گئی ہے ۔ اس کیلئے مینجمنٹ نے سول اور سٹرکچر انجینئروں پر مشتمل ٹیمیں بھی تشکیل دے دی ہیں۔ ذرائع نے بتایا ہے کہ پنجاب انڈسٹریل اسٹیٹ مینجمنٹ نے راجپوت کے مالک حاجی اشرف رانا سمیت 50 سے زائد مزدوروں کی عمارت کے ملبے تلے دب جانے سے ہلاکت کے بعد سندر انڈسٹریل ایریا میں واقع عمارتوں کے ڈھانچہ کی جانچ پڑتال کا آغاز کر دیا ہے جس کے لئے اس ایریا میں 7 سو سے زائد فیکٹریوں کے مالکان کو نوٹسز جاری کیے ہیں جن میں کہا گیا ہے کہ تمام فیکٹریوں کے مالکان اپنی اپنی فیکٹریوں کے بلڈنگ سٹرکچر کی موجودہ حالت، نقشہ جات بلڈنگ پلان، مزدوروں کی تعداد سمیت ہر طرح کی معلومات مینجمنٹ کو ایک ہفتہ کیاندر جمع کر ائیں ورنہ ان کی فیکٹریاں سیل کر دی جائیں گی۔ نوٹسز میں کہا گیا ہے کہ نقشہ کے مطابق ان کی بلڈنگ کی ہائیٹ 60 فٹ سے زائد نہیں ہونی چاہئیں۔ مزید کہا گیا ہے کہ جو سرٹیفکیٹ بمع نقشہ جات جمع کرائے جائیں ان کی تصدیق کی سول انجینئرز منظور شدہ بلڈوز پلاننگ سے ہونی چاہئیں۔ اس حوالے سے مینجمنٹ کے چیف ایگزیکٹو نوید گل سے بات کی گئی تو انہوں نے کہا کہ ہم نے کارروائی کا آغاز کر دیا ہے، سندر انڈسٹریل سمیت تمام انڈسٹریل ایریا سے فیکٹریوں کے مالکان کو نوٹس جاری کیے ہیں کہ ایک ہفتہ کیاندر اپنی اپنی فیکٹری کی عمارتوں کے نقشہ جات جمع کروائیں جس میں کسی ماہر انجینئر فرم سے تصدیق تشدہ سرٹیفکیٹ بھی جمع کرایا جائے کہ ان کی عمارت موجودہ کن حالات میں ہیں اور ان کی کتنی منزلیں ہیں اور سٹرکچر پلان کیا ہے، ان کی مضبوطی کا سرٹیفکیٹ بھی دیا جائے۔

مزید :

میٹروپولیٹن 1 -