’’گفتارِ ظفرعلی خان‘‘ : پر ایک نظر

’’گفتارِ ظفرعلی خان‘‘ : پر ایک نظر
 ’’گفتارِ ظفرعلی خان‘‘ : پر ایک نظر

  

بابائے صحافت مولانا ظفرعلی خان ؒ نے دور غلامی میں کئی جہتوں سے اقوام ہند میں بیداری کی لہرپیدا کی۔ وہ بیک وقت قادرالکلام شاعر ، بے باک صحافی، شعلہ بیان مقرر اور زیرک سیاستدان تھے۔ جس طرح ان کے اخبار ’’زمیندار‘‘ نے عوام کے سیاسی شعور کو بیدار کیا، اسی طرح ان کی تقریروں نے بھی غلام اقوام کے خون کو گرمایا ۔ قدرت نے انہیں خطابت کی خوبی سے بھی نواز رکھا تھا۔ جس طرح ’’زمیندار‘‘ کی کوئی خبر یا ادارتی تحریر برطانوی حکمرانوں کا خون کھولادیتی تھی، اسی طرح ان کی تقریریں بھی اقتدار کے ایوانوں پر زلزلہ طاری کردیتی تھیں پروفیسر احمد سعید کا خدا بھلا کرے انہوں نے ’’زمیندار‘‘ کے اداریے مرتب کرتے کرتے مولانا کی 160تقریریں بھی مرتب ومدون کردی ہیں۔ یہ تقریریں انہیں ’’زمیندار ‘‘ کے علاوہ روزنامہ ’’پیسہ اخبار‘‘ (لاہور) ، ’’ہمدرد‘‘ (دہلی) اور ماہنامہ ’’دکن ریویو‘‘ کے فائلوں سے ملی ہیں۔ مولانا ظفر علی خان ٹرسٹ نے اس مجموعہ تقاریر کو ’’گفتار ظفرعلی خان ‘‘ کے عنوان سے شائع کرکے ایک اہم قومی خدمت انجام دی ہے۔ مولانا ظفر علی خان کی یہ تقریریں بلاشبہ نہایت اہم ہیں اور ان کے مطالعہ کے بغیر کوئی مؤرخ ملت اسلامیہ ہند کی تاریخ مرتب نہیں کرسکتا۔ ہم اس کی قیمت (1200روپے) کے بارے میں یہ عرض کئے بغیر نہیں رہ سکتے کہ وہ عام باذوق مگر کم وسائل زندگی رکھنے والے شخص کی پہنچ میں ہونی چاہئے تھی۔

’’گفتار ظفرعلی خان ‘‘ میں کئی طرح کی تقریریں ملتی ہیں۔ مثلاً دینی موضوعات پر بھی اظہار خیال ہوا ہے، عالم اسلام کی صورت حال پر بھی روشنی ڈالی گئی ہے اور ملت اسلامیہ ہند کے مسائل و معاملات بھی زیربحث آئے ہیں۔ خاص طورسے مسلمانان ہند کے ہندوؤں اور سکھوں سے تعلقات میں جو نشیب وفراز آتے رہے ہیں ان کا یہ کتاب بہترین آئینہ پیش کرتی ہے۔ آج جو لوگ قیام پاکستان پر حرف اعتراض اٹھاتے ہیں انہیں بطور خاص اس مجموعہ تقاریر کا مطالعہ ضرور کرنا چاہئے۔ مولانا کی تقاریر یہ حقیقت واشگاف کرتی ہیں کہ مسلمانوں نے دوسری اقوام سے اتحاد واتفاق کی فضا برقرار رکھنے کے لئے ہرممکن کوشش کی مگر ان کے اس جذبے کی قدر نہ کی گئی۔ خلافت تحریک کے دور میں مہاتما گاندھی نے وقتی طورپر مسلمانوں کے مطالبات کی حمایت کی لیکن جب ہندی مسلمانوں کے سیاسی حقوق کا سوال پیدا ہوا تو گاندھی اور کانگرس کا رویہ سراسر معاندانہ ہوگیا۔۔۔ذیل میں مولانا کی اس تقریر کی رپورٹنگ پیش کی جاتی ہے جو چکوال میں کی گئی اور جس کے سامعین میں ہندو اور سکھ بھی بڑی تعداد میں شریک ہوئے :

اہلِ چکوال کی دعوت پر جناب مولوی ظفرعلی خان صاحب پیر غلام دستگیر صاحب سیکرٹری خلافت کمیٹی کی معیت میں چکوال پہنچے۔ سارا شہر معزز مہمانوں کے استقبال کے لئے ٹوٹ پڑا۔ خدام خلافت، رضا کار ہندو، مسلمان ، سکھ سب سٹیشن پر جمع ہوگئے۔ اللہ اکبر کے نعروں سے آسمان گونج اٹھا۔ معزز مہمانوں کا جلوس شہر کے بازاروں میں نکلا۔ تمام شہر جھنڈوں اور جھنڈیوں سے آراستہ تھا۔ جلوس مختلف مقامات پر ٹھہرا اور ’’اللہ اکبر‘‘ ہندو مسلمان کی جے، گرونانک کی جے، مہارج تلک کی جے، مہاتما گاندھی کی جے، محمدعلی شوکت علی کی جے، لالہ راجپت رائے کی جے، مولولی ظفرعلی کی جے کے نعرے دور دور تک گونج رہے تھے۔ غرض ہندوؤں اور سکھوں نے بھی مہمانوں کے اعزاز اور احترام میں مسلمانوں کا پوری طرح ساتھ دیا۔۔۔رپورٹر مزید لکھتا ہے کہ کم وبیش بیس ہزار کا مجمع ہوگا۔ دوہزار ہندو مسلمان خواتین بھی جلسے میں شریک ہوئیں۔ مولوی ظفرعلی خان صاحب نے اپنی تقریر میں آدمؑ سے لے کر اب تک تاریخ خلافت بیان فرمائی اور قرآن مجید اور تاریخ کے حوالے دے کر ثابت کیا کہ خلافت اور اس کے تمام متعلقات اس زمانے سے چلے آرہے ہیں جب سے انسان دنیا میں آیا۔ اس کے بعد مولوی صاحب نے ان وعدوں کی طرف اشارہ کیا جو مقامات مقدسہ اور خلافت اسلامیہ کے اقتدار کو برقرار رکھنے کے متعلق حکومت کے ذمہ دار وزراء نے اہل ہند سے کئے تھے اور پھر جب فتح و ظفر نے اتحادیوں کے سرطرۂ افتخار لگادیا تو ان وعدوں کی نہایت بیباکانہ خلاف ورزی کی گئی۔ اس کے بعد مقرر (یعنی مولانا ظفر علی خان ) نے گولڑہ کے بہت بڑے روحانی پیشوا حضرت پیر مہر علی شاہ صاحب کے ساتھ اپنی ملاقات کا تذکرہ حاضرین کو سنایا اور یہ بتایا کہ وہ عدم تعاون کے ہرطرح سے موید ہیں۔ مولوی صاحب نے مذہب ہنود کے متعلق نہایت درخشاں خراج تحسین ادا کیا اور کہا کہ اس مذہب نے انسانیت کی نشو وارتقا میں بہت بڑا حصہ لیا ہے۔ پھر آپ نے ہندو مسلمانوں اور سکھوں سے استدعا کی کہ متفق ومتحد ہوکر حضور جارج پنجم کی زیرحکومت اپنے گھر بار کی حفاظت کریں اور مشرق و مغرب کے اصول کی کشمکش میں جو نازک وقت خلافت پر آن پڑا ہے اس میں اس کی امداد و تعاون کریں۔ (ص:78)۔۔۔اس کے بعد مولانا ظفر علی خان کی راولپنڈی والی ایک تقریر کا اقتباس بھی ملاحظہ فرمائیں جس میں مولانا ہندو مسلم اتحاد کو برقرار رکھنے کے لئے یہاں تک پہنچ جاتے ہیں کہ مسلمانوں کو گائے کی قربانی سے گریز کرنے کی تلقین کرتے نظر آتے ہیں :

’’اب ہندو مسلمانوں میں تفرقہ نہیں پڑسکتا۔ ہندوؤں نے اور مہاتما گاندھی نے مسلمانوں پر جو احسان کئے ہیں ان کا عوض ہم نہیں دے سکتے۔ ہمارے پاس زرنہیں ہے جب جان چاہیں، ہم حاضر ہیں۔ آلہ آباد سنگم میں گنگا اور جمنا ندیاں ازل سے دونوں بہہ رہی ہیں۔ گنگا کا پانی سفید اور جمنا کا نیلا۔ ایک میں لاجورد اور دوسرے میں گویا موتی بکھرے ہوئے ہیں ۔ اس طرح مدت سے یہ ساتھ ساتھ بہہ رہے ہیں پس اسی طرح سے ہندو اور مسلمان آپس میں رہیں۔ مسلمانوں کو قرآن شریف کے مطابق اور ہندوؤں کو شاستروں ویدوں کے اندر جیسا حکم ہے پیروی کرنی چاہئے۔ اس سے باہر اگر کوئی حکم دے تو تم ایسا کہو کہ ہم تمہاری بات نہیں مانیں گے ۔۔۔گائے کشی کی نسبت مولوی صاحب نے فرمایا کہ گائے کی قربانی چھوڑ دو۔ دنبے کی قربانی دو اور عید پر گائے کی قربانی نہ کی جائے۔ 10اگست کو مہاراج تلک کے کریا کرم کا دن ہے۔ مہاراج تلک ہندوستان کے بزرگ انسان تھے۔ یہاں جلسہ میں بوچڑاور قصاب بھی ہوں گے۔ ہندو بھائیوں کا ارادہ ہے کہ اس دن کسی قسم کا گوشت نہ بنایا جائے نہ فروخت کیا جائے۔ اس دن قصاب اپنی دکانیں بند رکھیں جس پر سب مسلمانوں نے اثبات میں جواب دیا۔

سرتسلیم خم ہے جو مزاج یارمیں آئے

کالم کی تنگ دامانی آڑے آرہی ہے ورنہ ہم مولانا کی ان تقریروں کے بھی اقتباسات پیش کرتے جن میں مولانا نے کانگرس اور مہاسبھائی لیڈروں کی مسلم دشمن پالیسیوں کو ہدف تنقید بنایا ہے۔ مولانا کی بعض تقریریں فی الواقع خطابت اور ادب کا شاہکار ہیں۔ جو لوگ ماضی کی خطابت کے تیور دیکھنا چاہیں انہیں چاہئے کہ وہ مولانا کی یہ تقریریں مطالعہ کریں، میدان خطابت میں قدم رکھنے کے شائقین کے لئے خاص طورپر یہ کتاب تحفۂ خاص ہے۔ کتاب کے آغاز میں خازن ٹرسٹ جناب مجیب الرحمان شامی، صدر ٹرسٹ جناب خالد محمود اور سیکرٹری ٹرسٹ جناب راجہ اسد علی خان کی تعارفی تحریریں پڑھنے کے بعد قاری کے ذوق مطالعہ کو ایسی مہمیز ملتی ہے کہ وہ پوری کتاب پڑھے بغیر نہیں رہ سکتا۔ جناب احمد سعید نے ان تقاریر کے پس منظر اور اسلوب بیان پر جو معلومات مہیا کی ہیں ان سے مذکورہ علمی کاوش کی شان دوبالا ہوگئی ہے۔ ہم فاضل مرتب اور منتظمین ٹرسٹ کو مبارکباد پیش کرتے ہیں کہ ان کی سعی سے تاریخ ماضی کا ایک باب روشن ہوگیا ہے۔

مزید : کالم