پاکستان کو معاف کر دیں!

پاکستان کو معاف کر دیں!
پاکستان کو معاف کر دیں!

  

جب سے عمران خان نے ایک صحافی کو طلاق کے حوالے سے سوال پوچھنے پر ڈانتا ہے یہ بحث چل نکلی ہے کہ کیا کسی سیاسی رہنما کو یہ زیب دیتا ہے کہ سوال پوچھنے پر کسی صحافی کو جھاڑ پلا دے؟بادی النظر میں تو یہ بات درست نظر آتی ہے کہ صحافیوں کو سوال کا حق حاصل ہے، کیونکہ سوال ہی کے ذریعے وہ خبر تک پہنچتے ہیں،مگر ایک سوال یہ بھی ہے کہ صحافیوں کو کیا اس بات کا حق بھی حاصل ہے کہ وہ کسی سیاست دان کی نجی زندگی کے بارے میں سوال کریں؟ جس کا دوسروں سے براہ راست کوئی تعلق نہ ہو۔ اس کا جواب اگرچہ صحافیوں کی طرف سے اثبات میں دیا جا رہا ہے، لیکن اس میں اُس بنیادی اصول کی نفی کی جا رہی ہے، جس میں آئین، اخلاقیات اورتہذیب نے یہ بات طے کی ہے کہ کسی کی نجی زندگی میں دوسرے کو مداخلت کا اختیار نہیں۔ خیر یہ تو ایک جملہ معترضہ تھا۔ عمران خان نے اپنی پریس کا نفرنس میں صحافیوں سے معافی مانگ لی ہے یہ بھی بتا دیا ہے وہ کیوں اس قدر جذباتی ہوگئے تھے۔ ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی کہہ دیا کہ وہ ریحام خان کے خلاف کوئی بات نہیں سُن سکتے، اس لئے اُن کے جذبات کا احترام کیا جائے۔میرا خیال ہے کہ اس کے بعد یہ ایشو ختم ہو جانا چاہئے۔صحافت کا ایک اصول یہ بھی تو ہے کہ اگر کوئی کسی سوال پر ’’نو کمنٹ‘‘ کہے تو دوبارہ اسے مجبور نہیں کیا جاتا کہ وہ اس سوال کا جواب دے،اس لئے میری رائے میں تو عمران خان نے واضح کر دیا ہے کہ وہ ریحام خان اور طلاق کے بارے میں کوئی بات نہیں کرنا چاہتے،اِس لئے اُنہیں اِس حوالے سے معاف کر دینا چاہئے، مگر اس کے باوجود ٹی وی چینلوں پر ریحام خان اور اُن کے درمیان شادی و طلاق کے معاملے پر ٹاک شوز بھی جاری ہیں اور بے مقصد تجزیے بھی۔حتیٰ کہ اُس دن بھی جب لاہور میں فیکٹری کی عمارت گرنے کا واقعہ پیش آیا۔ ٹی وی چینل اُس کی خبر دینے کی بجائے عمران خان کی طلاق کے معاملے کو موضوع بنائے ہوئے تھے۔

مَیں عمران خان کا وکیل نہیں البتہ مجھے اُن سے ہمدردی ضرور ہے۔ دیکھا جائے تو وہ کئی محاذوں پر لڑ رہے ہیں۔ انہوں نے سیاست کے اندر بھی کئی محاذ کھول رکھے ہیں۔ اسٹیٹس کو کی قوتوں کو چیلنج کر کے انہوں نے خود کو تیروں کے نشانے پر لا کھڑا کیا ہے۔ پھر ان کی زندگی میں جو نشیب و فراز آتے رہے ہیں۔ وہ بھی اُن کے لئے پریشانی اور پشیمانی کا باعث ہیں۔ اُن کی مقبولیت پر کسی کو کوئی شک نہیں، انہوں نے قوم کو ایک نئی امید دی اور سیاست کے انداز کو بدل کر ر کھا دیا۔ وہ اِس وقت مُلک کی سب سے بڑی اپوزیشن ہیں اور حکمران جماعت صرف انہیں ہی اپنا مدمقابل سمجھتی ہے۔ وزیراعظم محمد نواز شریف اپنی تقریروں میں اُنہی کو ہدفِ تنقید بناتے ہیں اور اُنہی کے بارے میں اظہارِ خیال کرتے ہیں۔ عوام کو اس بات سے کوئی زیادہ دلچسپی نہیں کہ عمران خان نے ریحام خان کو طلاق کیوں دی، ان کے لئے یہ ایک دھچکا پہنچانے والی خبر ضرور تھی، مگر جلد یہ بات آئی گئی ہو گئی، لیکن پاکستانی میڈیا اس قصے کو زندہ رکھنا چاہتا ہے۔ دوسری طرف عمران خان بھی یہ نہیں چاہتے کہ اُن کو اِس مسئلے پر ہر وقت کٹہرے میں لایا جائے۔ اب اس صورتِ حال میں کیا یہ ضرورہے کہ قیاس آرائیاں کی جائیں اور ایک ایسے معاملے کو جو فریقین کے لئے قابلِ ذکر نہیں، ہاٹ ایشو بنا کر پیش کیا جائے۔ کیا مُلک میں بڑے بڑے مسائل حل ہو گئے ہیں کہ ہم اس امر کا کھوج لگانے میں جُت جائیں کہ طلاق کیوں ہوئی، بالفرض اس کا علم ہو بھی جاتا ہے تو اُس کا عوام کو کیا فائدہ ہو گا؟ایک قومی سطح کے لیڈر کو اگر میڈیا اس اندیشے میں مبتلا کر دیتا ہے کہ اُس سے قومی مسائل کی بجائے نجی مسئلے کے حوالے سے سوال پوچھا جائے گا، تو میرے نزدیک یہ کوئی دانشمندانہ بات نہیں۔ اس کے منفی اثرات ہی مرتب ہوں گے۔

میں اس بات کو تسلیم کرتا ہوں کہ تحریک انصاف تنظیمی لحاظ سے مشکلات کا شکار ہے۔ عمران خان کی گرفت کہیں کہیں بالکل ڈھیلی نظر آتی ہے۔ اصل میں پارٹی کی مقبولیت اور پھیلاؤ دو ایسی وجوہات ہیں، جن کی بنا پر پاکستان تحریک انصاف ایک بحرانی کیفیت میں نظر آتی ہے۔اس میں کچھ حقیقت بھی ہو سکتی ہے کہ تحریک انصاف کے داخلی حالات بھی اس طلاق کا باعث بنے تاہم کلی طور پر یہ کہنا نامناسب ہو گا کہ صرف اِسی وجہ سے عمران خان اور ریحام خان علیحدہ ہو گئے۔ تحریک انصاف اب ایک بڑی جماعت ہے، جب سیاسی جماعتیں پھیل جاتی ہیں تو اُن میں بہت سے بااثر گروہ اور گروپ وجود میں آ جاتے ہیں، جن کی آپس میں رسہ کئی پارٹی کے تنظیمی ڈھانچے کو کمزور کر دیتی ہے۔ یہ بات بالائی سطح سے لے کر نچلی سطح تک موجود ہوتی ہے۔ مثلاً ملتان میں بلدیاتی انتخابات میں مخصوص گروپ کو نوازنے کی وجہ سے پارٹی کارکنوں نے شاہ محمود قریشی کے گھر کا کئی دِنوں تک گھیراؤ کئے رکھا اب پارٹی کا وائس چیئرمین بھی جب کارکنوں کو انصاف نہ دے سکے، انہیں مطمئن نہ کر سکے تو حالات کی سنگینی کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ہر سطح کے کارکن عمران خان سے انصاف کی امید باندھ لیتے ہیں، جبکہ خود عمران خان کے لئے یہ ممکن نہیں کہ وہ پارٹی کے اہم رہنماؤں ،جن میں جہانگیر ترین اور شاہ محمود قریشی قابلِ ذکر ہیں کو بائی پاس کر کے کارکنوں کی بات سن سکیں۔ اب اس قسم کی جماعت میں جو ابھی تنظیمی طور پر مضبوط ہو رہی ہو عمران خان کی شادی کے بعد ان تک پہنچنے کے لئے کچھ گروپ ریحام خان کا راستہ اختیار کرتے ہوں، تو یہ کوئی اچنبھے کی بات نہیں، لیکن میرا ذہن یہ ماننے سے قاصر ہے کہ اس مسئلے پر دونوں میں طلاق ہو گئی ہے۔یہ مسئلہ اگر تھا تو اور بھی کئی طریقوں سے حل کیا جا سکتا تھا۔

کچھ لوگ دور کی کوڑی لا رہے ہیں کہ دوسری شادی سے پہلے عمران خان اتنے جذباتی اور طیش میں آنے والے نہیں تھے، جتنے طلاق کے بعد نظر آ رہے ہیں، پھر وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ جمائما کو طلاق دینے کے بعد عمران خان کی جذباتی کیفیت یہ نہیں تھی جو اب ہے۔ مجھے تو اس حوالے سے کوئی انہونی نظر نہیں آئی۔ ایک شخص جب 62برس کی عمر میں شادی کرتا ہے تو وہ ٹین ایجر نہیں ہوتا۔ پھر وہ شخص ہو بھی قومی سطح کا لیڈر اس سے تو صاف ظاہر ہوتا ہے کہ عمران خان کو اس تعلق کے ٹوٹنے کا شدید دُکھ ہے۔ اُن کی باتوں سے بھی اس کا اظہار ہو چکا ہے، بلکہ انہوں نے تو یہ تک کہہ دیا ہے کہ طلاق دینا ایسے ہی ہے جیسے کسی گھر میں موت واقع ہو جائے۔اب سوال یہ ہے کہ ہمیں ایک ایسے سیاسی رہنما کو جو کروڑوں افراد کی امید بن چکا ہے، مزید پریشان کرنا چاہئے یا اُسے نارمل زندگی کی طرف لانے میں اُس کی مدد کرنی چاہئے۔ اس بات کی اب کوئی اہمیت نہیں رہی کہ طلاق کیوں ہوئی؟ کیونکہ طلاق کی خبر بریک ہو چکی ہے اور دونوں فریقوں نے تسلیم بھی کر لی ہے۔ اس خبر کے بعد تو صرف افواہیں اور قیاس آرائیاں ہی کی جا سکتی ہیں، کیا اُن کی بنیاد پر کسی لیڈر کو بھری پریس کانفرنس میں پریشان کرنا مناسب عمل ہے۔مثلاً یہ افواہ ہے کہ ریحام خان نے عمران خان کو تھپڑ مارا تھا، کیا اس افواہ کی بنیاد پر اُن سے سوال پوچھا جا سکتا ہے، کیا میاں بیوی کے رشتے کی جو نجی نزاکتیں ہوتی ہیں، اُن کے حوالے سے ہم کسی عام آدمی سے بھی ایساسوال پوچھنے کی جرأت کرتے ہیں؟ یہ سب کچھ معمول کے زمرے میں نہیں آتا، اس لئے ایسے غیر معمولی حالات میں کوئی بھی طیش میں آ سکتا ہے، یہ صرف کپتان پر ہی منحصر نہیں۔

دوسری طرف یہ خبریں بھی گردش کر رہی ہیں کہ حکومتی ایجنسیوں نے عمران خان کی شادی اور طلاق کے حوالے سے خفیہ معلومات حاصل کر لی ہیں، جو عمران خان کے خلاف سکینڈلز کی شکل میں سامنے لائی جائیں گی۔ مَیں سمجھتا ہوں کوئی حکومت ایسی حماقت نہیں کر سکتی، کیونکہ ایسی باتوں سے کسی رہنما کی مقبولیت میں کوئی کمی نہیں آتی، البتہ خود حکمرانوں کے لئے ہزیمت و شرمندگی کا سامان پیدا ہو جاتا ہے۔ بہتر یہی ہے کہ سیاستدانوں کی خانگی اور عوامی زندگی کو علیحدہ علیحدہ رکھا جائے، تاکہ سیاست میں وہ کیچڑ اچھال کلچر پیدا نہ ہو جس سے ہم بڑی مشکل سے جان چھڑانے میں کامیاب ہوئے ہیں۔

مزید :

کالم -