ہاوسنگ سوسائٹیاں

ہاوسنگ سوسائٹیاں
 ہاوسنگ سوسائٹیاں

  

جب سے انسان نے اجتماعی طور پر رہنا شروع کیا تو اُس کو غاروں اور چھونپٹریوں کی بجائے ہاتھوں سے تعمیر شدہ مکانوں کی ضرورت محسوس ہوئی۔ ابتدائی مکان مٹی یا پتھر سے تعمیر شدہ کمرے ہوتے تھے، جن پر گھاس پھوس یا لکڑی کے تختوں سے بنی ہوئی چھت ہوتی تھی۔ اِن اِبتدائی قسم کے مکانوں کی اندرونی تقسیم عموماً نہیں ہوتی تھی۔بس بڑا سا کمر ہ ہوتا تھا، جہاں چولہا بھی جلتا تھا ، گھریلو جانور بھی اُس کمرے میں سردیوں کی راتیں گذارتے تھے۔ غسل خانے کا اِنتظام آس پاس کے جنگلوں یا کھیتوں میں کھلے آسمان کے نیچے ہو جاتا تھا۔ اِجتماعی مکانوں کی اس قسم کی بنیادی سی تعمیر عموماً دریاوں کے کنارے پر ہوتی تھی ،تاکہ اِنسانوں اور پالتو جانوروں مثلاً گھوڑے، اونٹ، گائے، بھیڑ بکریاں اور گھر کے رکھوالے کتے اپنی پانی کی ضروریات قریبی دریاؤں سے ہی پوری کر سکیں۔ دنیا کے تمام نئے اور پُرانے شہر دریاؤں یا پانی کے قدرتی چشموں کے کناروں پر ہی آباد ہوئے۔ اُن دریاؤں سے فیضیاب ہونے والے قبیلوں کی مشترکہ تہذیبیں بن گئیں جن کو تاریخ دانوں اور جغرافیہ نویسوں نے مختلف نام دیئے جیسے دجلہ اور فرات کی تہذیب، وادیِ سندھ کی تہذیب،گنگا جمنا کی تہذیب، یورپ میں دریائے رائن کی تہذیب سے وابستہ قومیں۔ دریائے نیل کی وادی کی تہذیب ،دنیا کی قدیم ترین تہذیبوں کی اِبتداء کسی نہ کسی دریا کے کنارے سے شروع ہوئی۔ دریا ہی کیوں تہذیبوں کا باعث بنے؟ پہاڑ یا جنگل کیوں نہ بنے۔

دراصل اِنسان اور حیوان کی اہم ترین ضرورت ہوا کے بعد پانی کی فراہمی ہے۔ جن تہذیبوں کی میَں بات کر رہا ہوں اُس زمانے میں پانی کی فراہمی کا آسان ذریعہ دریا تھے یا پھر زیرِزمین سے پانی حاصل کرنے کے لئے اِنسان نے کنواں کھودنا سیکھ لیا تھا۔ پانی نہ صرف اِنسانوں اور حیوانوں کی زندگی کا باعث تھا، بلکہ کھیتی باڑی میں بھی پانی ہی زندگی تھا اور اَب بھی ہے۔ جب نلکے کے ذریعے پانی کی ترسیل کا طریقہ رائج ہوا تو Urbanization نے کمالِ ترقی حاصل کی۔ Tap Water نے اِنسانوں کا رہن سہن بدل دیا۔ اَب مکانوں میں نہ صرف کمرے اور دالان بننے شروع ہو گئے، بلکہ باورچی خانے اور بیت الخلا بھی بننے شروع ہو گئے۔ Tap Water کی بغیر رکاوٹ فراہمی کے لئے ضروری تھا کہ مکان قطاروں میں بنیں اور قطاریں سیدھی ہوں تا کہ پانی کے پائپ بہت زیادہ موڑوں اور جوڑوں سے محفوظ رہیں اور پانی کی ترسیل متواتر ہوتی رہے۔ لامحالہ مکانوں کو قطار میں رکھنے کے لئے گلیاں بن گئیں۔ اِن گلیوں کے کناروں پر نالیاں بنا دی گئیں ،تاکہ مکانوں کے گندے پانی کا نکاس اِن کھلی نالیوں (Open drains) سے ہوتا رہے۔

لیجئے منظم محلوں اور ہاؤسنگ سوسائٹییوں کی ابتداء ہو گئی۔ چونکہ گندے پانی کے نکاس کے لئے ابھی زیرِ زمین پائپ ڈالنے کی ٹیکنالوجی ایجاد نہیں ہوئی تھی، اس لئے آپ میں سے بہت سے قارئین کو یاد ہوگا کہ لاہور ، سیالکوٹ، گوجرانوالہ اور پاکستان کے تمام بڑے شہروں میں مکانوں کے گندے پانی کا نکاس کھُلی نالیوں کے ذریعے ہوتا تھا۔ اِن تمام شہروں کے قریب گندے پانی کے نالے ہوتے تھے۔ (بلکہ اب بھی ہیں) مکانوں کے پانی کا نکاس کھلی نالیوں سے ہوتا ہوا گندے نالوں میں جا گرتا تھااور یہ نالے عموماًکسی دریا میں گندے پانی سمیت جا گرتے تھے یا آہستہ آہستہ نزدیک اور دُور کے کھیتوں کو سیراب کرتے تھے۔ ہمیں ابھی ماحولیات کے بارے میں کوئی آگاہی نہ تھی۔ زیرِ زمین سیوریج سسٹم کی ایجاد تو ہڑپہ اور موئنجوڈیرو کے زمانے میں ہی ہو چکی تھی ،لیکن وہ سائنسی بنیادوں پر نہ تھی۔ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ کا شعبہ ابھی قریباً 200 سال پہلے معرضِ وجود میں آیا ۔ ہمارے ہاں پاکستان میں ابھی بھی WASA کا شعبہ مکمل طور پر خرابیوں سے پاک نہیں ہے۔ بہرحال جب پبلک ہیلتھ انجینئرنگ کا شعبہ بن گیا، سڑکوں اور گلیوں کی تعمیر کی مہارت میسر ہو گئی اور شعبہ تعمیرات سے متعلق مختلف مصنوعات عالمِ وجود میں آ گئیں تو جدید ہاؤسنگ سوسائٹیز کا زمانہ شروع ہو گیا۔

پاکستان میں آج سے 100 سال پہلے منظم بستیوں کے بنانے کا رواج نہیں تھا۔ پختہ اینٹ کے مکان ضرور ہوتے تھے ،لیکن مکان بنانے والے اپنی اراضی کا قلیل سا حصہ بھی سڑکوں یا گلیوں کو سیدھا رکھنے کے لئے نہیں چھوڑتے تھے۔ لہٰذا آپ اندرونِ لاہور کو دیکھ لیں۔ یا مقابلتاً لاہور کی نئی بستیوں اچھرہ، رحمن پورہ یا نواں کوٹ کو دیکھ لیں۔ خم کھاتی ہوئی بے ہنگم اور کم یا زیادہ چوڑی گلیاں اور سڑکیں آپ کو نظر آئیں گی۔ پاکستان کے قیام کے بعد، مکانوں کی تعمیر کے لئے نئی بستیاں حکومت نے ہی بنائیں۔ لاہور کی گلبرگ ، گارڈن ٹاؤن ، مسلم ٹاؤن ، ٹاؤن شپ، سمن آباد، جوہر ٹاؤن، علامہ اقبال ٹاؤن وغیرہ حکومتی ذرائع سے ہی شروع ہوئیں خواہ اُن اِداروں کا نام لاہور امپروومنٹ ٹرسٹ یا لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی تھا۔ 1970 کے بعد پرائیویٹ ہاوسنگ سوسائٹیا ں تجارتی یا اِمدادِ باہمی کی بنیادوں پر بننی شروع ہو گئیں۔ پرائیویٹ سیکٹر میں ہاؤسنگ سوسائٹیاں بنانے والوں کی نظر میں منافع یا تجارت ہوتی تھی۔ اِمدادِ باہمی والے کتنا ہی کہتے رہیں کہ کوآپر یٹو ہاوسنگ سوسائٹیاں بغیر نفع یا نقصان کے اصولوں پر بنتی ہیں، یہ سب غلط ہے۔ ہر سوسائٹی کے 75% پلاٹ لوگ بطور Investment کے خریدتے ہیں۔ پرائیویٹ ہاوسنگ سوسائٹیاں بنانے والوں کی نظر میں یہ ہی ہوتا ہے کہ پلاٹ کے خریدار کو کس طرح زیادہ سے زیادہ منافع ملے ۔ کیا کوئی ماڈل ہاؤسنگ سوسائٹی غریب اور متوسط طبقے کے لئے ابھی تک بنی ہے ۔ حکومت یا حکومتی قسم کے اِدارے بھی امیر سرمایہ کاروں کے لئے سوسائٹیاں بناتے ہیں۔ کیا DHA غریبوں کی کالونی ہے۔ فوج نے ڈیفنس سوسائٹیاں قریباً ہر بڑے شہر میں بنائی ہیں۔ یہ کس کے لئے ہیں۔ یقیناً یہ طبقے کے لئے نہیں ہیں۔ غریب آدمی کے لئے جو ہاوسنگ سوسائٹی پرائیویٹ سیکٹر میں بنے گی وہ یا تو کامیاب نہیں ہو گی اور اگر بن بھی گئی تو اُس میں کوئی سرمایہ کار نہیں آئے گا۔ بڑے شہروں میں خالی اراضی کی پہلے ہی کمی ہے۔ لاہور کو ہی دیکھ لیں۔ اس کے گرد و نواح میں جتنی بھی خالی اراضی پڑی تھی وہاں پوش ہاؤسنگ سوسائٹیاں بن گئیں۔ شہروں کے نزدیک اراضی نہ صرف کمیاب ہوتی ہے، بلکہ مہنگی بھی ہوتی ہے۔ اتنی کمیاب اور مہنگی اراضی پر گلبرگ میں 10-10 کنال کے رہائشی پلاٹ بنا کر غریب کا حق مار دیا گیا۔ گلبرگ سے ذرا اور دُور اراضی پر مزید پوش سو سائٹیاں مثلاً نیو گارڈن ٹاؤن، مسلم ٹاؤن، شاہ جمال، فیصل ٹاؤن، جوہر ٹاؤن، واپڈا ٹاؤن، ویلنشیاء ٹاؤن، بنا دیئے گئے۔ غریب تو اَب اپنا مکان بھائی پھیرو میں یا پھر سرکاری اراضی پر کچی آبادی میں بنا کر رہ سکتا ہے۔

ہاوسنگ سوسائٹیاں کالے دھن کو سفید کرنے کے کام بھی آرہی ہیں۔ یہ تو اب ہوش آیا ہے FBR کو کہ بے نامے پلاٹوں اور اوپن فائلوں پر ہاتھ ڈالنے کی ناکام کوشش کر رہا ہے، جب تک بنے بنائے مکانوں کی شکل میں ہاوسنگ سوسائٹیاں نہیں بنائی جائیں گی، سرمایہ دار طبقہ بھی اور چھوٹی بچتوں کا حامل سرمایہ کار بھی اپنی رقم خالی پلاٹوں میں لگاتا رہے گا۔ ہمارا تجارتی طبقہ ، وکلاء اور ڈاکٹر حضرات پلاٹوں میں سب سے زیادہ سرمایہ کاری کرتے ہیں۔ اس کی دو بڑی وجوہات ہیں۔ بڑی وجہ تو کالے سرمائے کو بے نامی پلاٹوں کی خرید و فروخت میں استعمال کرنا ہوتا ہے، کیونکہ پلاٹ کو جتنے عرصے کے لئے چاہو ملکیت میں رکھو، اس نے نہ چوری ہونا ہے اور نہ ہی گل سٹر کر ضائع ہونا ہے۔ البتہ قبضہ گروپ سے پلاٹ کو محفوظ رکھنا ضروری ہے۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ ہمارے مذہبی عالموں نے زکوۃ کے نصاب میں پلاٹ کو شامل نہیں کیا ہے۔ اس لئے پلاٹوں کی شکل میں سرمائے کی ذخیرہ اندوزی زیادہ ہوتی ہے۔ میَں سمجھتا ہوں کہ مذہبی رہنماؤں نے زکوۃٰ کی روح کو نہیں سمجھا۔ فاضل سرمائے پر ز کوٰۃ لگنی چاہئے۔ پلاٹوں میں فاضل سرمایہ ہی لگایا جاتا ہے۔

ہاؤسنگ سوسائٹیو ں میں اوّلین سرمایہ کاری مکان بنانے والے نہیں کرتے، بلکہ فاضل سرمائے کے مالک کرتے ہیں۔لاہور کی تمام ہاؤسنگ سوسائٹیوں کو دیکھ لیں۔ 80% فی صد مکانات کے مالکان نے پلاٹ5-4 ٹرانزیکشن (Transaction) کے بعد خریدا ہوتا ہے۔ یورپ اور تمام امریکہ میں قانون ہے کہ ہاوسنگ سوسائٹیاں تعمیر شدہ مکانات کی شکل میں ہوں گی نہ کہ پلاٹوں کی شکل میں، اگر ہم بھی یہ قانون بنا دیں تو آپ فوراً دیکھیں گے کہ فاضل سرمائے کے مالک جو پلاٹوں میں سر مایہ کاری کرتے ہیں مارکیٹ سے غائب ہو جائیں گے۔ ہندوستان جو ہمارے ساتھ ہی آزاد ہوا تھا وہاں ہاؤسنگ سوسائٹی کا مطلب ہے تعمیر شدہ اپارٹمنٹس یا Cluster مکانات کا مجموعہ۔ ہمارے ملک کی بد قسمتی ہے کہ کیا قانون ساز اِدارے کیا فوج کے اِدارے اور کیا پرائیویٹ ڈویلپرز، خالی پلاٹوں میں زیادہ دلچسپی رکھتے ہیں۔ بنے بنائے مکان فروخت کرنے کا رجحان بہت کم ہے۔ جو پرائیویٹ یا سرکاری اِدارے مکانات بنا کر فروخت کر رہے ہیں اُن پر عوام کو ابھی اعتماد نہیں ہے۔ معیاری تعمیری سامان اِن مکانوں میں کم ہی استعمال ہوتا ہے۔ 3-2 سال میں دروازے اور کھڑکیاں بوسیدہ ہو کر ختم ہو جاتے ہیں۔ باورچی خانے اور باتھ رومز کی فیٹنگ معیاری نہ ہونے کی وجہ سے مکان کے خریدار کو مکان کی Maintenance پر بھاری اَخراجات کرنے پڑجاتے ہیں۔ قانون کی گرفت ہمارے ملک میں ہے ہی نہیں۔ لہٰذاہاؤسنگ سوسائٹیاں جو امیر طبقے کے لئے بنتی ہیں وہاں تو کچھ معیار نظر آتا ہے ورنہ غریب آدمی بالآخرکچی آبادیوں تک محدود ہو کر رہ جاتا ہے۔

ہم کیسے پاکستانی ہیں کہ یورپ اور امریکہ کی خرافات اور پُرتعیش رہن سہن تو فوراً اپنا لیتے ہیں ، ویلنٹائن ڈے ہو یا برتھ ڈیز منانا ہو۔ پلازے، مال اور فاسٹ فوڈ کے سٹورز بنانا ہو ۔ ہم گوروں کی طرح تعمیر شدہ مکانوں کی سوسائٹیاں بنانا نہیں سیکھتے۔ آج اگر قانون بن جائے کہ زمین کی Horizental (اُفقی) ڈویلپمنٹ نہیں ہو گی تو لا محالہ ہاوسنگ بطور اِنڈسٹری کے لاکھوں ملازمتیں مہیا کرنے کا ذریعہ بن جائے گی۔ مکان بنانے کا ہر قسم کا میٹریل کسی نہ کسی کارخانے میں تیار ہو گا۔ بلڈنگ میٹریل میں صرف اینٹ ، سیمنٹ یا لکٹری نہیں آتے۔غسل خانوں، باورچی خانوں اور ڈرائینگ رومز کا سامان ، آرائش ، بجلی کی تاریں، سویچ، پنکھے، چولہے، فرج اور ائیرکنڈشنرزبھی بالواسطہ بلڈنگ میٹریل کا حصہ ہیں۔ جب ملکی قانون کے تحت صرف تعمیر شدہ مکانوں کی ہاوسنگ سوسائٹیاں بنائی جائیں گی تو بلڈنگ میٹریلز کے معیار کا اِنڈکس بھی بنایا جائے گا، یعنی مکانوں کے دروازے ، کھڑکیاں اور کمروں کی پیمائش پورے ملک کے لئے Standardise کر دی جائے گی۔ جیسا کہ مغربی ممالک میں ہے۔جب بلڈنگ میٹریل کی بہت سی اشیاء ایک Standard اور پیمائش کے تحت بنیں گی تو اُن کی Mass production ہو گی جو بالآخر قیمتوں میں ارزانی لائے گی۔ مکان کی تعمیر پر کم لاگت آئے گی۔ دراصل ہماری قوم شوباز ہے۔ ہمارا ہر فرد اپنے مکان کی تعمیر میں اپنی اِمارت اور اپنا ذوقِ تعمیر دِکھانا چاہتا ہے۔ اس وجہ سے ہمارے نظا مِ تعمیر میں مقرر شدہ معیاری اصول نہیں لائے جا سکتے، جس کی وجہ سے Mass production نہیں ہو سکتی۔ ہمارے قانون ساز اِدارے مغرب کے بہتر نظامِ تعمیر کو رائج کرناہی نہیں چاہتے۔

مزید :

کالم -