پاک فوج کی جنگی صلاحیتوں کا اعتراف

پاک فوج کی جنگی صلاحیتوں کا اعتراف

چیف آف آرمی سٹاف جنرل راحیل شریف نے کہا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف کامیابیاں پاک فوج کی صلاحیتوں کا منہ بولتا ثبوت ہیں، پاک فوج کا شمار دنیا کی بہترین افواج میں ہوتا ہے، اس نے سب سے زیادہ جنگیں لڑیں، مربوط تربیت جنگی تیاریوں کی روح ہے، یہ میدان جنگ میں ہمیشہ مثبت نتائج اور کامیابی کا زینہ بنتی ہے۔ معیار برقرار رکھنے کے لئے محنت کرنا ہوگی، پاک فوج کے جوان سب سے زیادہ فٹ ہیں۔ انہوں نے ان خیالات کا اظہار فوجی صلاحیتوں کے جائزہ کی چیمپئن شپ تقریب میں خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ پاک فوج نے قیام پاکستان کے بعد سے لے کر اب تک ملک کو درپیش بیرونی اور اندرونی خطرات کا جرأت مندی اور بہادری سے مقابلہ کیا، دشمنوں نے قیام پاکستان کے ساتھ ہی ملک کے لئے گوناگوں مسائل پیدا کر دئیے تھے، بھارت نے پاکستان کے حصے میں آنے والا فوجی سازو سامان، اثاثے اور نقد رقوم تک روک لی تھیں۔ اس بے سرو سامانی کے عالم میں پاک فوج نے بہت تھوڑے ہی عرصے میں خود کو منظم کیا اور اپنے آپ کو اس قابل بنایا کہ جلد ہی بعد ملک کی سلامتی کو درپیش خطرات کا مقابلہ کیا۔ بھارتی حملوں کو ناکام بنایا، مسلط کی جانے والی جنگوں میں اپنی صلاحیتوں کو منوایا، اور اس وقت دہشت گردی کے خطرے سے بھرپور انداز میں نپٹ رہی ہے۔ ملک کو اس وقت اصل خطرہ اندرونی دہشت گردوں سے ہی ہے۔ ان حالات کا مقابلہ حکمت عملی، تدبر اور ضرب عضب سے کیا جا رہا ہے۔ پاک فوج کے افسر اور جوان اس پر مبارک باد کے مستحق ہیں، اور سب سے زیادہ تحسین کے حق دار خود چیف آف آرمی سٹاف جنرل راحیل شریف ہیں، جو اس ساری حکمت عملی کے پس پردہ محرّک قوت ہیں۔

یوم اقبالؒ کی چھٹی کا مسئلہ

کل یوم اقبال ہے، اس روز تصور پاکستان کے خالق علامہ اقبال کی ولادت ہوئی، کئی برسوں سے اس روز عام تعطیل ہوتی تھی، جو اس بار ختم کر دی گئی۔ اقبالؒ کے پوتے منیب اقبال نے تائید کر دی کہ خود مفکرِ پاکستان چھٹی کے خلاف تھے، اِس سلسلے میں کونسل آف پاکستان نیوز پیپرز ایڈیٹرز کے صدر محترم مجیب الرحمن شامی نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ مُلک میں چھٹی کے تصور ہی کو ختم کرنا چاہئے کہ قوم اب ہر خوشی اور ہر صدمے کے موقع پر چھٹی مانگتی ہے۔انہوں نے تجویز کیا کہ صرف عیدین کی چھٹیاں دی جائیں، اس کے ساتھ ہی وہ یہ پوچھتے ہیں کہ وزارتِ داخلہ نے ایسی کسی ہدایت سے انکار کیا ہے تو یہ پتا کرنا چاہئے کہ یہ حکم کس نے جاری کیا۔ہم محترم مجیب الرحمن شامی کی تجویز پر صاد کرتے ہیں کہ جب ماؤزے تنگ دُنیا سے رخصت ہوئے تو چینی قوم نے ان کے جانے کا غم کام کام اور کام کر کے منایا تھا۔ یوں پیداوار بڑھا دی تھی، اِس لئے ہمارے مُلک میں بھی چھٹیاں اے پی این ایس کے مطابق سال میں صرف چھ دو، دو عیدین، ایک یوم عاشورہ اور ایک عید میلاد النبیؐ پر ہونا چاہئے۔ باقی چھٹیاں منسوخ کر دی جائیں تاکہ قوم کام کرے، یوں بھی سرکاری ملازمین کی چھٹیوں کا استحقاق ہے۔

مزید : اداریہ