آئین و قانون کی حکمرانی:مطلوب و مقصود

آئین و قانون کی حکمرانی:مطلوب و مقصود

  

وزیراعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ اب صرف عوام اور آئین کی مرضی چلے گی، مُلک کو کسی کی مرضی کے مطابق نہیں، آئین اور قانون کے مطابق چلائیں گے، مذہب کے نام پر کسی کو بھی مسلمانوں کے گلے کاٹنے کی اجازت نہیں دیں گے، کنٹینر پر چڑھ کر اپنی سیاسی ریٹنگ بڑھانے والوں کو مایوسی کا سامنا کرنا پڑا ہے، اگر اِن لوگوں میں سیاسی لڑائی کی طاقت نہیں تو وہ حیلوں بہانوں کی بجائے اپنی شکست تسلیم کر لیں۔ وزیراعظم نے کہا مُلک کو دہشت گردوں نے ٹھکانہ بنا رکھا تھا، جس کو چیلنج سمجھتے ہوئے اُن کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اُن کا صفایا کرنے کے لئے آپریشن ضربِ عضب شروع کیا، جس کے مثبت نتائج سامنے آئے۔ دہشت گردوں کے خلاف یہ آپریشن نہیں رُکے گا۔ کراچی میں تمام سیاسی جماعتوں کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کر کے اور اُن کو اعتماد میں لے کر آپریشن شروع کیا، جس سے دوبارہ کراچی روشنیوں کی طرف لوٹنا شروع ہو گیا۔ وزیراعظم نواز شریف نے اِن خیالات کا اظہار سیالکوٹ اور لودھراں میں کسانوں میں امدادی چیک تقسیم کرنے کی تقاریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

وزیراعظم نے آئین و قانون کے مطابق ملکی معاملات چلانے کا جو اعلان کیا ہے وہ خوش آئند ہے، آئین ہی وہ بنیادی دستاویز ہے، جس کی روشنی میں امورِ مملکت چلانے کے لئے قانون سازی کی جاتی ہے، آئین کی شقوں سے متصادم کوئی قانون نہیں بنایا جا سکتا اور اگر مقننہ اِس سلسلے میں صرفِ نظر کرے تو عدالتیں ایسے قانون کو کالعدم کرنے کا اختیار رکھتی ہیں،ہاں البتہ اگر یہ محسوس کیا جائے کہ وقت کے بدلتے تقاضوں کے مطابق آئین کے کسی آرٹیکل میں ردوبدل کرنے یا ختم کرنے کی ضرورت ہے، تو اس کا طریقِ کار بھی آئین کے اندر وضاحت کے ساتھ درج ہے، اس طریقِ کار کو اپنا کر آئینی ترامیم کی جا سکتی ہیں، آئین کو نظر انداز کر کے مملکت کے کسی بھی ادارے کی جانب سے جو بھی ماورائے آئین اقدام اٹھایا جائے گا، عدالتیں اُسے ختم کرنے کا اختیار رکھتی ہیں اور انہیں ختم بھی کیا جاتا رہا ہے، آئین میں اداروں کے اختیارات، فرائض اور حدود و قیود کا تعین بھی وضاحت کے ساتھ کر دیا گیا ہے۔ اگر اِن سب امور کا خیال رکھا جائے اور اُن کی پابندی کی جائے تو امورِ مملکت خوش اسلوبی سے چلتے رہتے ہیں اور مُلک آگے بڑھتا رہتا ہے۔ عوام دُنیا کی برادری میں اپنا سر فخر کے ساتھ بلند کر کے چلتے ہیں اور دُنیا اُن کا آئین پسند شہری کے طور پر احترام کرتی ہے۔

پاکستان کے بعض سیاسی رہنما، دانستہ یا نادانستہ اپنے قول و عمل سے ایسی باتیں کرتے رہتے ہیں، جن سے مترشح ہوتا ہے کہ وہ آئین کو وہ مقام و مرتبہ دینے کے لئے تیار نہیں، جو مملکت کی بنیادی دستاویز کے طور پر اس کا حق ہے، کبھی تو وہ یہ فرما دیتے ہیں کہ آئین کیا ہے؟ دس بیس صفحات کی کتاب، جو کسی وقت بھی پھاڑ کر پھینکی جا سکتی ہے، جنرل پرویز مشرف ایک ماورائے آئین اقدام کے ذریعے برسر اقتدار آئے تھے اپنے تمام عرص�ۂ حکومت میں وہ آئین کو مسلسل نظر انداز کرتے رہے، آئین کی جو بھی شق اُنہیں اپنے ارادوں کی راہ میں حائل نظر آئی انہوں نے اسے عضوِ معطل بنا دیا، جب آئین بحال کیا تو بھی اس کی بعض شقوں کو موثر نہ ہونے دیا گیا، کیونکہ وہ الیکشن کے بعد حکومت سازی میں جس قسم کے سیاسی توڑ جوڑ میں مصروف تھے، یہ شقیں اُن کا راستہ روکتی تھیں، وہ مختلف حربوں، اداروں اور ترغیب و تحریض کے ذریعے سیاسی مخالفین کو اپنے ساتھ ملانے میں مصروف تھے، سیاسی جماعتوں کے ٹکڑے کئے جا رہے تھے اور لطف کی بات یہ ہے کہ یہ سب کچھ ملکی مفاد کے نام پر اور حب الوطنی کے پردے میں کیا جا رہا تھا، جب کوئی اس ضمن میں معترض ہوتا تو جواب یہی دیا جاتا کہ آئین مُلک سے زیادہ اہم نہیں ہے، یہ سوچ اور یہ طرزِ استدلال دراصل ماورائے آئین اقدامات کرنے کا راستہ نکالتا ہے۔ اب جنرل پرویز مشرف کا اقتدار ختم ہو چکا، اُن کی صدارت قِصہۂ ماضی بن گئی، آرمی چیف کی حیثیت سے اُن کا عہد بھی لد گیا، اب وہ ایک باقاعدہ سیاست دان اور ایک سیاسی جماعت کے سربراہ ہیں۔ انتخابات میں حصہ لینا چاہتے ہیں، اور اگر اُنہیں موقع ملے تو وہ دوبارہ برسراقتدار آنے کا حق بھی رکھتے ہیں، لیکن اِس کے لئے انہیں وہ طریقۂ کار اختیار کرنا ہو گا،جو آئین میں برسر اقتدار آنے کے لئے درج ہے، اِس کے لئے پارلیمنٹ کا الیکشن لڑنا اور اس میں اکثریت حاصل کرنا ضروری ہے، دوسرا کوئی طریقہ ماورائے آئین ہو گا، لیکن ستم ظریفی یہ ہے کہ ان کا دل ابھی تک ماضی میں اٹکا ہوا ہے اور وہ اب بھی آئین کی مخالفت حب الوطنی کے نام پر کرنے سے نہیں چوکتے۔

اپنی مُلکی ضروریات کے پیشِ نظر ہر مُلک آئین بناتا ہے، آئین کو تقدیس کا درجہ حاصل ہوتا ہے، مملکت کا کوئی عہدیدار یا ادارہ آئین کی مخالفت کا تصور بھی نہیں کر سکتا، البتہ اگر کسی وقت یہ محسوس کیا جائے کہ بدلتے ہوئے حالات کے مطابق آئین میں ترمیم کی ضرورت ہے، تو ایسا طے شدہ طریقِ کار کے مطابق کر لیا جاتا ہے، پاکستان کے آئین میں اب تک وقتاً فوقتاً اکیس ترامیم ہو چکی ہیں اور ملکی ضروریات کے مطابق آئندہ بھی کوئی ترمیم ہو سکتی ہے، لیکن فیشن کے طور پر آئین کی تضحیک کا رویہ اپنانا کسی طور پر بھی پسندیدہ نہیں ہے، خواہ اِس کا مظاہرہ کسی بھی جانب سے ہو، جو بھی ایسی بات کرے گا، آئین پسند حلقے اِس کا بروقت نوٹس لیں گے۔ ہمارے ہاں یہ بھی فیشن بن گیا ہے کہ اگر کسی کو کسی حکمران کا طرز حکمرانی پسند نہیں یا اُسے کسی حکومت کے ذمہ داروں سے شکایات ہیں تو وہ اِس کے لئے آئینی راستہ اور آئینی جدوجہد اختیار کرنے کی بجائے بے صبری کے مظاہرے پر تُل جاتا ہے اور ایسی حرکتیں کرنا شروع کر دیتا ہے، جن کی وجہ سے مُلک کے اندر امن عامہ کے مسائل پیدا ہوں، جو اس حد تک بے قابو ہو جائیں کہ حکومت اُنہیں سنبھال نہ سکے اور نتیجے کے طور پر فوج کو مداخلت کرنا پڑے، بعض سیاست دان جو بزعم خویش خود کو بہت باخبر سمجھتے ہیں حکومتوں کے خاتمے کی پیش گوئیاں کرتے رہتے ہیں، جو معروضی حالات سے تو مطابقت نہیں رکھتیں، لیکن یہ سیاست دان اپنی تقریروں میں شعلہ بیانی سے باز نہیں آتے، اور لوگوں کو گمراہ کرنے کے ساتھ ساتھ بالواسطہ طور پر آئین کی خلاف ورزی کے بھی مرتکب ہوتے ہیں۔

گزشتہ سال14اگست کو دھرنوں کے ذریعے حکومت تبدیل کرنے کی دو الگ الگ کوششیں شروع ہوئیں، جو ایک مرحلے پر اکٹھی ہو گئیں، وزیراعظم سے استعفا طلب کرنے کا مطالبہ پورا نہ ہونے پر دھرنوں کے شرکا نے وزیراعظم ہاؤس کی طرف مارچ کیا،اِس دوران بار بار اعلان کیا گیا کہ چند گھنٹوں میں کامیابی ملنے والی ہے، یہاں تک کہا گیا کہ وزیراعظم کو گھسیٹ کر وزیراعظم ہاؤس سے نکالا جائے گا۔دھرنوں کے یہ شرکا پارلیمنٹ ہاؤس کے احاطے میں گھس گئے، سپریم کورٹ کو جانے والی سڑک بلاک کر دی، ایوان صدر کے بیرونی گیٹ کو نقصان پہنچایا گیا، سارے علاقے کو قبضے میں لے کر طویل عرصے تک دھرنا دئے رکھا، اِس دوران پارلیمنٹ کا جو اجلاس جاری تھا اور جہاں آئین و قانون کی بالادستی کی بات کی جا رہی تھی،اس پارلیمنٹ کے بارے میں مضحکہ خیز طرزِ عمل اپنایا گیا، تحریک انصاف کے ارکانِ پارلیمنٹ نے استعفے دے رکھے تھے اور روزانہ کنٹینر سے تقریریں ہوتی تھیں کہ ہمارے استعفے کیوں منظور نہیں کئے جاتے،’’تم کون ہوتے ہو، ہمارے استعفے نامنظور کرنے والے، ہم جعلی اسمبلیوں میں نہیں بیٹھ سکتے، جہاں چور اور ڈاکو بیٹھے ہیں‘‘وزیراعظم نواز شریف نے اس طرزِ عمل کا بھی بالواسطہ ذکر کیا ہے اور بتایا ہے کہ مُلک میں عوام اور آئین کی مرضی چلے گی۔

پاکستان میں سینکڑوں دینی اور سیاسی جماعتیں ہیں، لیکن اُن میں سے چند ہی موثر ہیں، پنجاب اور سندھ کے حالیہ بلدیاتی انتخابات کے پہلے مرحلے میں انتخابی نتائج سے ایک بار پھر یہ بات ثابت ہو گئی ہے کہ اکثر جماعتوں کا وجود کاغذی ہے، اُن کی کوئی موثر تنظیم ہے، نہ عوام میں کوئی پذیرائی، ان سے زیادہ تو وہ آزاد امیدوار بہتر رہے جو اپنے اپنے حلقوں میں موجود ذاتی اثرو رسوخ رکھتے تھے اور اس کی بنیاد پر اُنہیں کامیابی بھی حاصل ہوئی جو سیاسی جماعتیں مُلک میں سیاست کرنا چاہتی ہیں، اُنہیں آئین کو مشعلِ راہ بنانا چاہئے، آئینی راستہ اختیار کرنا چاہئے، آئین پر چل کر ہی مُلک و قوم سرخرو ہو سکتے ہیں۔ اگر حکومت اس کے ادارے اور عمال بھی آئینی راستے سے روگردانی کریں تو اُنہیں آئین کا راستہ دکھانے کی ضرورت ہے۔ وزیراعظم نے خود آئین پر چلنے کی بات کی ہے جو خوش آئند ہے، اُنہیں چاہئے کہ وہ اپنی حکومت کو صحیح معنوں میں ایسی حکومت بنائیں، جو آئین سے سرِ مو انحراف نہ کرتی ہو، اس سے نہ صرف حکومت مضبوط ہو گی، بلکہ مُلک بھی مستحکم اور سر بُلند ہو گا۔

مزید :

اداریہ -