اورنج ٹرین کی آڑ میں ثقافتی ورثہ اور آثارِ قدیمہ کو ملیہ میٹ کیا جا رہا ہے،نصیراحمد

اورنج ٹرین کی آڑ میں ثقافتی ورثہ اور آثارِ قدیمہ کو ملیہ میٹ کیا جا رہا ...

  

لاہور(نمائندہ خصوصی)پاکستان پیپلز پارٹی انسانی حقوق ونگ پی پی 144 شالامارباغ کے احتجاجی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے لاہور کے صدر نصیر احمد ، شیخ علی سعید، یامین خان آزاد، میاں اکبر ، ڈاکٹر رانا ارشد، عبدالجبار نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پنجاب حکومت اورنج ٹرین کی آڑ میں لاہور کی سینکڑوں سال پرانے ثقافتی ورثہ اور آثارِ قدیمہ کو ملیہ میٹ کیا جا رہا ہے پنجاب حکومت کے نااہل انجینئروں نے حکومتی ایمہ پر اورنج ٹرین کا ایسا روٹ ترتیب دیا ہے جس میں چوبرجی باغ، مقبرہ خیر النساء ، بدھو کا آواہ، لکشمی مینشن، جی پی اور، شالامار باغ، قدیمی مومن پورہ قبرستان سمیت دیگر تاریخی عمارات کو نقصان پہنچ رہا ہے حکومت کو اورنج ٹرین بنانے کی اتنی جلدی ہے کہ اس میں حکومت کی تمام تر مشینری اور دیگر محکموں کے فنڈ بھی اس بے مقصد پروجیکٹ میں جھونک دیے ہیں ستائیس کلومیٹر کے اس پروجیکٹ پر ایک سو پینسٹھ ارب روپے سے زائد رقم خرچ کی جا رہی ہے ستائیس کلو میٹر میں ستائیس اسٹیشن ہیں اور ہر اسٹیشن یعنی ہر کلومیٹر پر تقریباً چھ ارب روپے سے زائد کا خرچہ کیا جا رہا ہے صحت امن و امان تعلیم اور دیگر محکموں کے فنڈ بھی روک لیے گئے ہیں پنجاب حکومت کی ثقافتی اور تاریخی عمارات کو تباہ کرنے کی پالیسی کامیاب نہیں ہونے دی جائے گی۔ تاریخی ورثہ کے ساتھ ساتھ اس روٹ پر آنے والے ہزاروں خاندانوں کا روزگار چھینا جا رہا ہے جو کہ انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے انہوں نے مطالبہ کیا کہ تاریخی ورثہ اور لوگوں کے روزگار بچانے کے لیے اورنج ٹرین کا روٹ تبدیل کیا جائے تاریخی ورثہ کو محفوظ بنایا جائے ورنہ اس روٹ کے متاثرین سول سوسائیٹی اور عوام کے ساتھ مل کر احتجاج کیا جائے گا۔

مزید :

میٹروپولیٹن 1 -