’’جمہوری اور لبرل پاکستان‘‘

’’جمہوری اور لبرل پاکستان‘‘
’’جمہوری اور لبرل پاکستان‘‘

  

’’عوام کا مستقبل جمہوری اور لبرل پاکستان میں ہے‘‘۔ یہ الفاظ کسی وجاہت مسعود،ایازا میر یا نجم سیٹھی کے قلم کا شہکار ہیں نہ کسی مولانا فضل الرحمان مد ظلہ العالیٰ ایسے جادو بیاں خطیب کا خطبہ۔پرسوں پرلے روز پوٹھو ہار کی سر زمیں پر وزیراعظم نے سرمایہ کاری کانفرنس میں ارشاد فرمائے ہیں۔تیقن اور قطعیت کے ساتھ کہنا تو مشکل ہے کہ میاں صاحب کے دماغ میں لبرل ازم سے فی الحقیقت مراد کیا ہے؟لیکن قطعی کوئی کلام نہیں کہ مسلم لیگ کے چوٹی کے قائدین و عمائدین علاقائی تعصب ،تنگ نظری،قدامت پسندی اور محدودسوچ کے مظہر وعلمبردار ہو نہیں سکتے کہ یہ چیز ان کی جبلت و سرشت میں ودیعت ہی نہیں کی گئی۔ملک کی بانی جماعت اپنے سواد اعظم کے احساسات و خیالات کی شروع ہی سے نقیب رہی ہے اور رہے گی۔جن لوگوں کی ہماری ابتدائی دانشوری پر نگاہ ہے وہ جاناکئے کہ لیگ کی تدوین وتشکیل ،فکرو نظراور صورت گری میں بے شمار تاریخی،تہذیبی،نظری اور سیاسی عوامل نے حصہ لیا۔تب سے اب تک اس کے دو وصف نمایاں طور پراور نکھر کرسامنے آئے۔۔۔اولاًقیام پاکستان میں مسلمانوں کے علیحدہ قومی تشخص کااحساس اور ثانیاًنظریاتی معاملات میں اعتدال۔لیگ کب انقلاب کی علمبردارتھی کہ اس کا ایمان ارتقا پر تھا،یہ مثالیت پسند نہیں حقیقت پسندی کی حامی تھی اور ہے ۔اس جماعت کو جب جب اور جو جوقیادت نصیب ہوئی۔۔۔سب کے سب میانہ روی کے علمبردار رہے۔

مذہب کے ضمن میں لیگ کا بطورجماعت رویہ جذباتی وابستگی کا رہا لیکن ذہنی تحفظات کے ساتھ۔نظام سیاسیات کے باب میںیہ جماعت کسی ایسی تعبیر و تاویل کی پیروی نہیں کر سکتی جو انتہا پسندی یا غیر حقیقت پسندی پر موقوف ہو۔تمام سیاسی جماعتوں میں سب سے بڑھ کر یہی جماعت ہے جومذہب کے سلسلے میں حقیقی،فکری اورعملی مشکلات کا ادراک اور احساس رکھتی ہے۔اس جماعت میں وہ لوگ زیادہ ملا کئے جو اسلام کے عملی نفاذمیں رکاوٹوں کا جائز شعور رکھتے اور کماحقہُ آگاہی پاتے ہیں۔یاددہانی کی ضرورت کیسی کہ مسلم لیگ۔۔۔جماعت اسلامی نہیں۔جماعت کا فہمِ اسلام اور ہے اور لیگ کا فہمِ اسلام چیزے دیگراست۔مسلم لیگ کو سوسوالزام دیئے جا سکتے ہیں پر قدامت پرستی ،تنگ نظری اور انتہا پسندی کا طعنہ نہیں دیا جا سکتا ۔اصل مسئلہ اور معمہ یہ نہیں کہ میاں صاحب کے دل و دماغ میں لبرل ازم کا مقصدکیا ہے؟ظاہرو باہر ہے سیاسیات سے آشنا جانتے ہیں کہ نظامِ مملکت کا پانی مرتا کہاں ہے۔۔۔سیدھی اورصاف سی حقیقت کہ پانی نشیب میں ہی اترتا اور یہیں مرتا ہے۔میاں صاحب کو بھی جانے دیجئے اور لغت کو بھی۔۔۔کہ لغت تو ہمیں یہی بتاتی ہے کہ لبرل ازم کے معنی آزادخیال،خودمختار ،جمہوری اور معاشی اصطلاحات کا حامی کے ہیں۔

دائیں بازو کے دانشوروں کی ثقہ علمی مجلسوں میں کہ جہاں اسلام پسندوں کا راج ہوتا ہے،یہ لوگ لبرل ازم کے نام سے یوں خوف کھاتے ہیں کہ بس مت پو چھئے۔سچ پوچھئے تو معاملہ یہیں ہے ۔انہی محفلوں سے فکر و نظر کے حامی اٹھیں اور لسانی و صرفی نحوی موشگافیوں سے ماورا غور کریں کہ لبرل ازم آخر ہے کیا ؟متعدد اقوام و ملل کے سماج میں اس سوال کے جواب مختلف واقع ہوئے ہیں۔لبرل ازم ،سیکولرازم اور جمہوریت کی کوئی ایک ایسی تعریف جس کے درست اور صائب ہونے پر باتکرار اصرار کیا جائے ۔۔۔فی الاصل یہ تینوں کی بنیادی روح اور جوہری منشاء کے منافی ہو گا۔کوئی مخصوص طبقہ یا گروہ یہ حق کیسے پا سکتا ہے کہ وہ ان مختلف الخیال الفاظ کے حتمی معنی متعین کر تا پھرے۔کسی حقیقی بات کو شیاطین کے وساوس یا دشمنوں کی سازش کہہ کر رد کردینا۔۔۔کم از کم اس غیر علمی دلیل کی علمی دنیا میں پذیرائی نہیں ہو سکتی۔لبرل ازم کے خلاف لمبی چوڑی اور تھکا دینے والی بحثوں کے باوجود ہمارے ان نیم دانشوروں کے ہاتھ ہنوز کچھ نہیں آیا۔

بعض اصطلاحات پر ناک بھوں چڑھانے والے نیم خواندہ دانشوروں کو معلوم ہوناچاہئے کہ رواں صدی میں لسانیات کے ضمن میں بعضے ایسے نظریے سامنے آئے جو ہمیں بتایا کئے کہ کسی متن میں وہی کچھ نہیں ہوتا جس کا اظہارالفاظ کیا کئے۔۔۔کیونکہ ہر قاری کے دل و دماغ میں الفاظ کی جہت اور معنی کی پرت مختلف ہوتی ہے۔بااسالیب مختلف یوں کہئے کہ پڑھنے والامحض متن ہی نہیں پڑھتابلکہ اپنے ذہنی رجحانات واحساسات کو بھی متن میں پڑھنے کی سعی بلیغ کرتا ہے اور یہ ایک ایسا غیر محسوس عمل ٹھہراکہ جس سے بچنا مشکل ہی نہیں ناممکن بھی ہے ۔وزیر اعظم کی گفتگو کے بعد شاید اب وقت آیا چاہتا ہے کہ ہم لبرل ازم کو نئے مکانی اور زمانی تناظر میں سمجھنے کی ازسر نو کوشش کریں ۔معنی کی ان پرتوں اور تہوں تک پہنچیں جہاں ہمارے دانشور بوجوہ پہنچنے سے عاجز اور قاصر رہے ۔آخر لبرل ازم کا معنی اورمفہوم وہی کیوں لیا اور سمجھا جائے جو محترم سراج الحق نے سمجھا ہے۔مختلف اور متعدد الفاظ کہ جن کا ریاست ،سماجیات سیاسیات اورحرب و ضرب سے رشتہ ناتہ ہو وہ مردہ نہیں ہوتے کہ وہ مسلسل نمو پذیر ہوتے ہیں۔جو لوگ الفاظ کو معنی کا ایسا مجموعہ سمجھتے ہیں جو لغت کے سانچے سے اپنی آخری شکل میں نکل چکا ۔۔۔پھر وہ مجبور ہوتے ہیں کہ الفا ظ کے معنی اور مفہوم مخصوص تاریخی تناظر میں ہی متعین کریں۔ایسا کرنے سے الفاظ اور اس کے معنی ہی منجمد نہیں ہوتے بلکہ سماجی ارتقا اور انسانی بلوغت بھی ماؤف ہو کر رہ جاتی ہے ۔احبار و رہبان نے جب بھی مذہب کے نام پر نظام جبر کے قیام کی سعی نا محمود کی یا جب مذہب کے حوالے سے انسانی عقل پر پہرہ بٹھانے یا تالا لگانے کا غیر مسعود کام کیا گیا ۔۔۔اس صورتحال نے سیاسیات اور سماجیات دونوں کو تہہ و بالا ہی کیا ہے یارو۔

مزید : کالم