اسلام آباد اور لاہور میں سرمایہ کاری کانفرنسیں

اسلام آباد اور لاہور میں سرمایہ کاری کانفرنسیں

  

پاکستان کو بیرونی سرمایہ کاری سے محروم کرنے اور اندرون مُلک کاروباری سرگرمیوں کو زک پہنچانے کے لئے نریندر مودی سرکار نے سازشوں کا جال بچھا رکھا تھا۔ اس نے دہشت گردی اور فنڈنگ کے ذریعے پاکستان میں معاشی سرگرمیوں کی راہ میں کانٹے بکھیرنے کے لئے کوئی کسر اُٹھا نہیں رکھی، تاہم حکومت کی مدبرانہ اور بصیرت افروز پالیسیوں اور پاک فوج کے آپریشن ضربِ عضب سے سازشوں کے تمام جال ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو چکے ہیں۔ امریکہ میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس سے خطاب میں وزیراعظم پاکستان میاں محمد نواز شریف نے دُنیا کو بھارت کا اصلی چہرہ دکھا دیا، جس کے بعد دُنیا بھر کے سرمایہ کار پاکستان کے پُرامن تشخص کے دلدادہ نظر آنے لگے ہیں۔ اِسی پس منظر میں حکومتِ پاکستان نے سرمایہ کاری کانفرنس کے انعقاد کا احسن فیصلہ کیا ہے۔ چار اور پانچ نومبر کو اسلام آباد،اس کے بعد چھ اور سات نومبر2015ء کو لاہور میں سرمایہ کاری کانفرنسوں کا انعقاد ہوا۔

وزیراعظم نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس سے خطاب میں بتا دیا تھا کہ قوم کے متحدہ آہنی عزم اور پاک فوج کے آپریشن ضربِ عضب نے دہشت گردوں کی کمر توڑ دی ہے، ان کے ٹھکانوں کو ملیا میٹ اور ان کی خود ساختہ اسلحہ فیکٹریوں کو تباہ و برباد کر دیا ہے۔ رہے سہے دہشت گرد پاکستان کی سرزمین چھوڑنے اور بھاگنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔ کراچی پاکستان کی معاشی سرگرمیوں کے لئے شہ رگ کی حیثیت رکھتا ہے۔ بھارتی ایجنسی ’’را‘‘ کی فنڈنگ اور تربیتی سہولتوں سے کراچی میں بدامنی بڑھی، ٹارگٹ کلنگ، بھتہ خوری اور اغوا برائے تاوان کی وارداتوں میں بے پناہ اضافہ ہوا۔ ان ساری کارروائیوں کا واحد مقصد یہ تھا کہ کراچی اور پاکستان میں امن و امان کے مسائل شدت اختیار کریں۔ صنعتکار اور سرمایہ کار دوسرے ممالک کا رُخ کریں۔ دُنیا کو پیغام دیا جائے کہ پاکستان میں بدامنی کا راج ہے۔ اس میں کسی کا سرمایہ ، مال و جان اور عزت و آبرو محفوظ نہیں، اس لئے سرمایہ کار پاکستان کا رُخ نہ کریں۔ پاک فوج نے آپریشن ضربِ عضب کے ذریعے پاکستان کو دہشت گردوں سے پاک کرنے میں کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ رینجرز نے جان نثارانہ آپریشن کر کے کراچی سے ٹارگٹ کلرز،بھتہ خوروں اور کاروباری مراکز زبردستی بند کرانے والوں کا کافی حد تک صفایا کر دیا ہے۔ کافی پکڑے گئے، اعلیٰ عدالتوں کے فیصلوں کی وجہ سے کئی تختہ دار پر لٹکا دیئے گئے۔

پاکستان میں عدالتیں کسی دباؤ کے بغیر آزادانہ فیصلے کر رہی ہیں۔ کراچی میں لوگ بلا خوف و خطر مارکیٹوں کا رُخ کرتے اور خریداری کرتے ہیں۔کراچی کے تاجروں کی انجمنوں کے رہنماؤں کے مطابق گزشتہ عیدالفطر اور عیدالاضحی کے مواقع پر لوگوں نے اربوں روپے کی خریداری کی۔ دوست مُلک چین نے46ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کے معاہدوں کے ذریعے دُنیا کو پیغام دیا ہے کہ پاکستان امن پسند مُلک ہے، روس نے کراچی سے لاہور تک گیس پائپ لائن بچھانے کا معاہدہ کیا ہے۔ پاک چین اقتصادی راہداری پر عمل درآمد کا آغاز ہو چکا ہے، اس میں بجلی کی فراہمی کے منصوبے شامل ہیں، جن کی تکمیل سے پاکستان میں بجلی کی وافر فراہمی کوئی مسئلہ نہیں رہے گا اور پاکستان میں صنعت کاری کو فروغ دینے میں کوئی مشکل پیش نہیں آئے گی۔ گوادر بندرگاہ کو چین کے صوبہ کاشغر سے ملانے کے بعد پاکستان سرمایہ کاری اور کاروباری سرگرمیوں کے لئے سنگم ثابت ہو گا۔ پاکستان بقائے باہمی کے اصول پر عمل کرتے ہوئے بھارت کو ہمیشہ یہی کہتا رہا ہے کہ ’’جیو اور جینے دو‘‘ کی پالیسی اپنائے۔ لیکن ایسے محسوس ہوتا ہے کہ بھارت کے موجودہ وزیراعظم نریندر مودی کی گھٹی میں پاکستان دشمنی کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی ہے۔ آئے روز دونوں ملکوں کے بارڈروں پر فائرنگ سے بچوں، بوڑھوں اور عورتوں کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔ ان نقصانات کے ساتھ ساتھ بھارتی حکومت پاکستان کو ہشت گرد مُلک ثابت کرنے کی کوشش میں ہمہ وقت مصروف رہتی ہے۔

عالمی فورموں پر پاکستان کے وزیراعظم کے مدبرانہ اور بصیرت افروز رویوں سے پاکستان کا پُرامن اور صاف و شفاف چہرہ نمایاں ہو چکا ہے۔ نریندر مودی نے گوادر بندرگاہ کو ناکام بنانے کے لئے ہزار کوششیں کی ہیں، خود کئی ممالک میں گئے ہیں، لیکن انہیں مُنہ کی کھانا پڑی ہے انہیں سازشوں میں کامیابی نصیب نہیں ہوئی، اس کے مقابلے میں پاکستان کے وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے گوادر بندرگاہ اور چاہ بہار دونوں کو خطے کے ملکوں کی معاشی ترقی کے لئے ناگزیر قرار دیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان کے صلح جُو اور امن پسندانہ رویوں کی وجہ سے دُنیا بھر کے سرمایہ کار پاکستان کو اپنی دلچسپیوں کا مرکز و محور بنا رہے ہیں۔ چار اور پانچ نومبر کو اسلام آباد اور اس کے فوری بعد چھ اور سات نومبر کو لاہور میں بڑی سرمایہ کاری کانفرنسوں کا انعقاد ہوا۔ سرمایہ کاروں کی آمد پاکستان کے پُرامن ماحول پر اعتماد کا اظہار ہے۔ یقینی طور پر پاکستان میں سرمایہ کاری بڑھے گی۔ اس موقع پر ملکی سرمایہ کار بھی بڑی تعداد میں سامنے آئیں گے۔ پاکستان میں کاروباری اور معاشی سرگرمیوں پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔

مزید :

کالم -