زلزلہ

زلزلہ
زلزلہ

  



کچھ دن پہلے ایک بڑا زلزلہ آیا ،کچھ جگہوں پر تو کافی تباہی کا باعث بنا اور کچھ جگہوں پر تنبیہہ کرکے چلتا بنا کہ اے بنی آدم ،ذرا ٹھٹک ،سمجھ کہ جس زندگی کے پیچھے تو بھاگ رہا ہے وہ صرف ایک جھٹکے کی مار ہے،جو لوگ بہت زیادہ زندگی میں Involveہوتے ہیں ان کے لئے یہ جھٹکے سپیڈ بریکر کا کام کرتے ہیں۔ اصل میں زندگی اور زندگی کی رعنائیاں انسان کو اس قدرجکڑ لیتی ہیں کہ انسان دنیا میں آنے کا اصل مقصد بھول جاتا ہے ۔اسے نہیں یاد رہتا کہ اسے یہاں عبودیت کے لئے بھیجا گیا ہے۔ عبودیت یعنی اللہ کا بندہ بن کررہنا۔اب سوچنے کی بات ہے کہ اللہ کا بندہ کیسے بنا جاسکتا ہے؟ اللہ کا بندہ بننے کا سادہ سا فارمولا ہے اللہ کے احکامات مانو، احکامات ماننے کے لئے ہمیں پتہ ہونا چاہئے کہ احکامات ہیں کیا تووہ ہمیں قرآن پاک میں مل جائیں گے ۔ان کی مزید وضاحتیں احادیث کی کتب میں درج ہیں،لیکن سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا ہم قرآن کو اسی طرح پڑھتے ہیں جیسے اسے پڑھنے کا حق ہے یعنی اس کو سمجھ کر پڑھنا۔جب قرآن کو سمجھ کر پڑھا جاتا ہے تو صحیح اور غلط کا فرق واضح ہوجاتا ہے، کیونکہ یہ تو الفرقان ہے یعنی اچھائی برائی میں فرق کرنے والا۔ جب انسان کو اچھے برے کا فرق سمجھ آجائے تو اس کو ہرپل جو ایک فیصلہ لینا پڑتا ہے کہ وہ کیا کرے اور کیا نہ کرے اس کے لئے آسان ہوجاتا ہے۔

کسی نے کیا خوب کہا ہے کہ ایک کامیاب انسان وہ ہے جو تمام درپیش معاملات میں صحیح فیصلے کرتا چلا جائے۔صحیح فیصلے کا فہم بھی ہمیں قرآن سے ملتا ہے کیونکہ اس کا اور ہمارا خالق ایک ہی ہے، وہی جانتا ہے کہ ہمارے لئے کامیابیوں کی راہ کون سی ہے اور اس راہ پر ہم نے کیسے چلنا ہے ، کیسے آگے بڑھنا ہے ۔اصل میں حقیقی کامیابیاں بھی وہی ہیں جو ہمارے خالق نے ہماری کامیابیاں کہہ کر ہم سے متعارف کرائی ہیں۔انہی کا میابیوں سے ہوتے ہوئے ہم مفلحون بننے والے ہیں۔باقی جو ہم دنیا کے لحاظ سے اپنی فتوحات سمجھتے ہیں وہ اکثر کچھ عرصہ بعد ہار میں بدل جاتی ہیں۔فائدے اٹھاتے اٹھاتے اکثر انسان نقصان کی طرف چل نکلتا ہے لہٰذا اصل کامیابی اصل جیت وہی ہے جو میرے رب کی نظروں میں کامیابی اور جیت ہے۔آج کے دور میں ہمیں بے شمار چیلنجوں کا سامنا ہے۔زندگی گزارنے کے تقاضے بدل رہے ہیں، انسان کی ترجیحات بدل رہی ہیں ، آج کے انسان کو اللہ کے پیغام کوسمجھنے کی بہت ضرورت ہے، کیونکہ اس کو سیدھی راہ سے بھٹکانے والے بہت سے عناصر ہیں۔جب میں نوجوانوں کو دیکھتی ہوں، ان سے بات کرتی ہوں تو مجھے محسوس ہوتا ہے کہ ان میں اللہ کے پیغام کو سمجھنے کی بہت صلاحیت ہے ،بس ضرورت اس بات کی ہے کہ انہیں قرآن سے متعارف کرا دیا جائے۔

قرآن چونکہ عربی زبان میں ہے تو اگر ہمارے نصاب میں انگلش کی طرح عربی سکھانے کا اہتمام کر دیا جائے تو عربی جاننے کے بعد قرآن پڑھنا اور سمجھنا کچھ مشکل نہیں، کیونکہ اس کو تو میرے اللہ نے پہلے ہی سمجھنے کے لئے آسان بنا دیا ہے، ہر شخص اس کو پڑھ کر سمجھ سکتا ہے، اس سے کامیاب زندگی گزارنے کے لئے حکمت و دانائی کے موتی چن سکتا ہے۔ اگر ہم نے یہ کام نہ کیا یعنی آنے والی نسلوں میں قرآن سمجھنے کی صلاحیت پیدا نہ کی تو یا تو وہ بالکل قرآن سے، اپنے دین سے دور چلے جائیں گے یا دوسروں کی بتائی ہوئی غلط تاویلات کا شکار ہو کر شدت پسند بن جائیں گے۔کچھ عرصہ پہلے مجھے ڈاکٹر ذاکر نائیک کا ایک خطاب سننے کا موقع ملا، بعدمیں ایک نوجوان ان سے سوال کرتا ہے کہ میں ڈارون کی تھیوری کے بارے میں پڑھ کر ملحدہوگیا ہوں،یعنی اللہ تعالیٰ سے انکاری۔ڈاکٹر صاحب نے اس کو بڑے مدلل جوابات دیئے اسے سمجھایا کہ یہ سب تھیوریاں ہیں،ان کو قانون کا درجہ حاصل نہیں،جیسے نیوٹن کے تجربات قانون کے درجے تک پہنچے۔تھیوری کی حیثیت سائنس میں کوئی خاص اہمیت کی حامل نہیں ہوتی ،یہ غلط بھی ہوسکتی ہے اور صحیح بھی ۔اصل میں ہمارے بچے غلطی یہ کرتے ہیں کہ سائنس کے ذریعے اللہ تعالیٰ کے ہونے یا نہ ہونے کو سمجھنا چاہتے ہیں، جبکہ سائنس کا یہ موضوع ہی نہیں وہ تو ابھی اللہ کی بنائی ہوئی کائنات کا بہت معمولی سا ادراک کر پائی ہے۔

کہاں یہ کہ وہ اللہ تعالیٰ کی ذات کو سمجھنے کی جسارت کرسکے، اس لئے بچوں کو اللہ تعالیٰ سے متعارف ہونے کے لئے قرآن کو پڑھنا ہوگا ، سمجھنا ہوگا تبھی وہ اس کائنات کے رب کی عظمت کو پاسکیں گے۔کچھ طاغوتی طاقتوں نے جس کی گرفت میں ہمارے میڈیا سے لے کر ہمارے دانشور اور معاشرے کے بارسوخ طبقات آچکے ہیں،پورے معاشرے کو کنفیوژ کردیا ہے ۔عام انسان کو زندگی کے تقاضے پورے کرنے کے لئے بہت بار ایسی صورت حال کا سامنا ہوتا ہے کہ لگتا ہے اللہ تعالی کی بنائی ہوئی حدوں کو پار کئے بغیر شاید اس مشکل سے نکلنا ممکن نہیں اور یہ تو ہم جانتے ہیں کہ ایسی صورت حال میں صرف ایک چیز انسان کو روکتی ہے وہ ہے تقوی۔ یہ تقوی کی کیفیت کچھ ایسی ہوتی ہے جیسے کہیں خفیہ کیمرے لگے ہوں اور آپ کو تنبیہہ کی جائے کہ کیمرے کی آنکھ آپ کو دیکھ رہی ہے، آپ محسوس کرتے ہیں کہ آپ کو Observe کیا جارہا ہے ، آپ کی فلم بنائی جارہی ہے، بالکل اِسی طرح اللہ تعالی بہت نزدیک سے دیکھ رہے ہیں آپ کی نیت کوObserve کیا جارہا ہے ۔ بس جب یہ کیفیت پیدا ہوتی ہے تو انسان خود بخود غلط راستے پر جاتے جاتے صحیح رستے کی طرف پلٹ آتا ہے، یعنی آزمائش میں کامیاب ٹھہرتا ہے ۔اس سارے معاملے میں صبر کی بہت ضرورت ہوتی ہے اور نماز کے ذریعے، دعاؤں کے ذریعے اللہ تعالی سے مدد مانگتے رہنا بھی انسان کو کامیابی کے زینے طے کراتا ہوا بالآخر منزل مراد تک پہنچا دیتا ہے۔

لیکن ان سارے مراحل سے گزرنے، ایک مضبوط اور متوکل انسان بننے کے لئے پھر کتاب اللہ سے رجوع کرنا پڑے گا۔ وہیں سے یہ ساری طاقت ملے گی۔ جب زلزلے یا اِسی طرح کی دوسری آفات آتی ہیں تو کیڑے مکوڑوں کی طرح مرے ہوئے انسان ، تباہ شدہ بستیاں ، اوندھے منہ گری ہوئی بڑی بڑی عمارتیں انسان کو اس زندگی کی بے وقعتی کا احساس دِلا جاتی ہیں، انسان سوچنے پر مجبور ہوجاتا ہے کہ ہم نے جو زندگی کا اتنا شاندار ڈھانچہ تیار کیا تھا جس میں ہم نے لوگوں کے حق مارے ، ظلم اور بے انصافی اختیار کرتے ہوئے متاع زندگی حاصل کی، اپنے اعمال خراب کرتے ہوئے اللہ کی ناراضگی مول لی ، آخرت کی زندگی کی کوئی پرواہ نہیں کی یعنی اپنی ساری پونجی جو مہلت کی صورت ہمیں ملی تھی وہ ہم نے دنیا حاصل کرنے میں لگا دی، اس کی یہ وقعت ہے کہ ایک جھٹکے کو نہیں سہار سکی بالکل مکڑی کے جالے کی طرح جو دیکھنے میں کتنا شاندار لگتا ہے، لیکن ایک جھٹکے سے اپنا وجودکھو دیتا ہے ۔ اللہ تعالی ہمیں توفیق دے کہ ہم زندگی کی دوڑ میں سرپٹ بھاگتے ہوئے اپنے اس رول کو سمجھ لیں جو ہمارا رب چاہتا ہے کہ ہم اس دُنیا میں ادا کر کے جائیں اور فلاح پانے والوں میں سے ہو جائیں۔

مزید : کالم