شاہینوں نے طویل عرصہ بعد گوروں کو دھول چٹادی

شاہینوں نے طویل عرصہ بعد گوروں کو دھول چٹادی

 پاکستان کرکٹ ٹیم نے چا ر سال کے بعد ایک مرتبہ دوبارہ انگلینڈ کے خلاف ٹیسٹ سیریز اپنے نام کرلی ۔اس تاریخی کامیابی کو کرکٹ کی تاریخ میں اس لئے بھی یاد رکھا جائے گا کیونکہ اس کامیابی کے ساتھ ہی پاکستان کی ٹیم دس سال کے بعد آئی سی سی کی ورلڈ ٹیسٹ رینکنگ میں دوسرے نمبر پر آگئی ہے پاکستان ٹیم کے لئے یہ بہت بڑے اعز از کی بات ہے اور یہ سب پاکستانی ٹیم اورخاص طور پر سپنرز باؤلرز کی بدولت ہے جس میں یاسر شاہ کا کردار ناقابل فراموش ہے جنہوں نے سیریز میں اپنی بہترین باؤلنگ کا مظاہرہ کیا جس کی بدولت ان کو اس ٹیسٹ سیریز میں کامیابی دلوانے کا کریڈٹ ملا بہرحال اب پاکستان اور انگلینڈ کی کرکٹ ٹیموں کے درمیان چار ون ڈے میچوں پر مشتمل سیریز کا پہلا میچ 11 نومبر کو شیخ زید سٹیڈیم، ابوظہبی میں کھیلا جائے گا۔ میچ مصنوعی روشنیوں میں کھیلا جائے گا اور پاکستانی وقت کے مطابق شام چار بجے شروع ہوگا۔ قومی کرکٹ ٹیم تین ٹیسٹ میچوں کی سیریز میں انگلینڈ کو 2-0 سے 1شکست دے چکی ہے۔ دونوں ٹیموں کے درمیان سیریز کا دوسرا ون ڈے 13 نومبر، تیسرا 17 نومبر جبکہ چوتھا اور آخری ون ڈے 20 نومبر کو کھیلا جائے گا۔ اس کے بعد دونوں ٹیموں کے مابین تین ٹی 20 میچوں کی سیریز کھیلی جائے گی، پہلا میچ 26 نومبر، دوسرا 27 نومبر جبکہ تیسرا اور آخری میچ 30 نومبر کو کھیلا جائے گا۔پاکستان کی ٹیم اس وقت ون ڈے سیریز جیتنے کے لئے بھی فیورٹ بن چکی ہے اور ٹیسٹ سیریز میں کامیابی کے بعد جس طرح کھلاڑیوں کے حوصلے بلند ہوئے ہیں اس کا اس کو ضرور فائدہ ملے گا لیکن اس کے باوجود انگلش کرکٹ ٹیم آسان حریف نہیں ہے ٹیم کو اسی جوش و جذبہ کی ضرورت ہے جو ٹیم نے ٹیسٹ سیریز میں جاری رکھا کپتان مصباح الحق نے تو بطور ٹیسٹ کپتان اپنے فرائض احسن طریقہ سے سرانجام دئیے اب اظہر علی کی باری ہے کہ وہ ون ڈے سیریز میں ٹیم کو فتوحات کیسے دلواتے ہیں شائقین کرکٹ کی نظریں اب اظہرعلی کی کارکردگی کی جانب مبذول ہے ۔ ون ڈے سیریزبلاشبہ پاکستان کے لئے آسان ہدف نہیں ہے اور اس سے نمٹنے کے لئے پوری ٹیم کو اسی طرح یک جان ہو کر کھیلنے کی ضرورت ہے ۔دوسری جانب انگلینڈ کرکٹ ٹیم کے مایہ ناز فاسٹ باؤلر سٹورٹ براڈ رواں برس ٹیسٹ میچز میں 50 وکٹیں لینے والے پہلے باؤلر بن گئے ، براڈ نے پاکستان کیخلاف جاری آخری ٹیسٹ کی دوسری اننگز میں کپتان مصباح الحق کو آؤٹ کر کے یہ اعزاز حاصل کیا۔ شارجہ ٹیسٹ کے چوتھے روز براڈ جب میدان میں اترے تو انہیں رواں سال ٹیسٹ میچز میں پچاس وکٹیں مکمل کرنے کے لئے ایک وکٹ درکار تھی، انہوں نے مصباح الحق کو ایل بی ڈبلیو آؤٹ کر کے 50وکٹیں مکمل کیں اوررواں سال ٹیسٹ میچز میں یہ اعزاز حاصل کرنیوالے پہلے باؤلر بن گئے۔ دوسری جانب ٹیسٹ کرکٹ میں سال 2015ء کے دوران بیٹنگ میں زیادہ رنزبنانے کا اعزاز انگلینڈکے ایلسٹر کک کے پاس ہے۔انہوں نے 13 میچوں کی 24۱ننگز59میں کی اوسط سے 1357 رنزبنائے جن میں3سنچریاں اور8نصف سنچریاں شامل ہیں۔انکازیادہ سے زیادہ انفرادی سکور263 رنز ہے۔دوسرے نمبر پر انگلینڈکے جو روٹ نے 13 میچوں کی24۱ننگزمیں 61.33 کی اوسط سے 13288رنزبنائے جن میں 3 سنچریاں اور9نصف سنچریاں شامل ہیں۔انکازیادہ سے زیادہ انفرادی سکور182رنزناٹ آؤٹ ہے۔تیسرے نمبر پر آسٹریلیا کے اسٹیون اسمتھ نے 9 میچوں کی 16۱ ننگز میں 73. 35 کی اوسط سے 1027رنزبنائے جن میں4سنچریاں اور 3نصف سنچریاں شامل ہیں۔انکازیادہ سے زیادہ انفرادی سکور 215 رنزہے۔چوتھے نمبرپرپاکستان کے یونس خان نے 8 میچوں کی 14 ۱ننگز میں 60.69 کی اوسط سے789رنزبنائے جن میں3سنچریاں اور ایک نصف سنچری شامل ہے۔انکازیادہ سے زیادہ انفرادی سکور171رنزناٹ آؤٹ ہے۔ پانچویں نمبرپرآسٹریلیا کے ڈیوڈ وارنر نے 9 میچوں کی 16۱ ننگز49کی اوسط سے784 رنز بنائے جن میں 2 سنچریاں اور3نصف سنچریاں شامل ہیں۔انکازیادہ سے زیادہ انفرادی سکور 163 رنزہے۔دوسری جانب پاکستان کر کٹ بورڈنے انگلینڈ کے خلاف ون ڈے سیریز کے لئے قومی سکواڈ کا اعلان کر دیا،انگلینڈ کے خلاف ٹیسٹ سیریزمیں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کر نے والے مایہ ناز بلے یونس خان کو محنت کا پھل مل گیا، مڈل آرڈر بیٹسمین کو 9 ماہ بعد نمائندگی مل گئی۔تفصیلات کے مطابق پی سی بی نے انگلینڈ کیخلاف ون ڈے سیریز کیلئے قومی ٹیم کا اعلان کر دیا ہے ۔ اعلان کردہ اسکواڈ میں بڑی تبدیلی یونس خان کی شمولیت کی ہے جو ٹیسٹ میچوں میں کامیابی کے بعد ٹیم میں واپس آئے ہیں۔ یونس خان نے آخری دفعہ رواں سال مارچ میں ورلڈکپ میں ملک کی نمائندگی کی۔ نوجوان آل راؤنڈر ظفر گوہر کو پہلی بار ٹیم میں شامل کر لیا گیا۔سولہ رکنی ٹیم میں کپتان اظہر علی کے علاوہ احمد شہزاد ، محمد حفیظ ، یونس خان، شعیب ملک ، بابر اعظم ، محمد رضوان ، سرفراز احمد ، انور علی ، عامر یامین ، یاسر شاہ ، ظفر گوہر ، وہاب ریاض ، محمد عرفان ، راحت علی ، بلال آصف ون ڈے ٹیم میں شامل ہیں۔ پاکستان اور انگلینڈ کے درمیان چار ون ڈے میچوں کی سیریز گیارہ نومبر سے شروع ہو گی۔دوسری جانب پاکستانی ہیڈ کوچ وقار یونس کا کہنا ہے کہ عالمی کرکٹ کی ’’ٹاپ‘‘ ٹیم انگلینڈ کو ہرانا اطمینان بخش بات ہے ،انہوں نے واضح کیا کہ کنڈیشنز خواہ کیسی بھی کیوں نہ ہوں لیکن اس کامیابی کا حصول انتہائی اہم ہے ،طویل فارمیٹ میں کھلاڑیوں کو مستحکم ہوتا دیکھ کر پُرجوش ہوں،تمام بیٹسمینوں اور بالر نے بہترین کارکردگی کی بدولت اپنا کردار بخوبی نبھایا، پہلے ٹیسٹ سے محرومی کے بعد دو میچوں میں 15 وکٹیں لینے پر یاسر شاہ کو بھرپور خراج تحسین پیش کرتے ہوئے انہوں نے حریف ٹیم کو بھی فراموش نہیں کیا اور کہا کہ انگلش سائیڈنے سخت مقابلہ کیا جس کی توقع بھی تھی مگرمصباح الحق اور یونس خان کے بعد حالات کافی سخت ہوں گے۔تفصیلات کے مطابق قومی کرکٹ ٹیم کے ہیڈ کوچ وقار یونس انگلینڈ کیخلاف دو،صفر سے سیریز جیت کر بہت زیادہ خوش ہیں جن کا کہنا ہے کہ وہ ٹیم کو مستحکم انداز سے آگے بڑھتے ہوئے دیکھ کر پرجوش ہیں جنہوں نے طویل فارمیٹ میں انگلینڈ کی اس ٹاپ ٹیم کو دو، صفر سے ہرایا جو ایشز سیریز جیت کر آئی تھی۔ اگست دو ہزار چھ میں کچھ عرصے کیلئے عالمی رینکنگ میں دوسرے نمبر پر فائز ٹیم نے اس کامیابی کے ساتھ ایک بار پھر دوسری پوزیشن پر قبضہ جما لیا اور وقار یونس کا ماننا ہے کہ نوجوان کھلاڑی پاکستان کا مستقبل ہیں جنہوں نے سینئرز کے ساتھ مل کر ٹیم کو کامیابی سے ہمکنار کرایا اور انہیں ہر کی کارکردگی پر فخر ہے۔ ہیڈ کوچ کے مطابق جس طرح مصباح الحق، یونس خان، اسد شفیق، محمد حفیظ اور سرفراز احمد نے بیٹنگ کے دوران بہترین کھیل پیش کیا اسی طرح بالنگ اٹیک کی سربراہی کرتے ہوئے لیگ اسپنر یاسر شاہ نے اپنا موثر کردار نبھایاجو پہلے ٹیسٹ سے محرومی کے باوجود دو ٹیسٹ میچز میں پندرہ وکٹیں لینے میں کامیاب ہوئے۔انہوں نے شکست خوردہ انگلش ٹیم کو بھی سراہنے سے گریز نہ کرتے ہوئے کہا کہ الیسٹر کک کی زیر قیادت انگلش ٹیم نے ڈٹ کر مقابلہ کیا جس کی انہیں پہلے سے توقع بھی تھی ۔

***

مزید : ایڈیشن 1