مقبوضہ کشمیر میں ملین مارچ کو روکنے کے لیے کرفیو اور پابندیاں نافذ

مقبوضہ کشمیر میں ملین مارچ کو روکنے کے لیے کرفیو اور پابندیاں نافذ

سرینگر (اے پی پی) مقبوضہ کشمیر میں قابض انتظامیہ نے ملین مارچ کو روکنے کے لیے سرینگر اور دیگر بڑے قصبوں میں کرفیو اور سخت پابندیاں عائد کردیں ۔ کشمیرمیڈیا سروس کے مطابق مارچ کی کال بزرگ حریت رہنما سید علی گیلانی نے دی اور دیگر حریت پسند رہنماؤں اورتنظیموں نے اس کی حمایت کی ہے ۔ مارچ کا مقصد بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کے دورہ کشمیر کے خلاف احتجاج کرنا ہے۔ قابض انتظامیہ نے لوگوں کو سرینگر کے ٹی آر سی گراؤنڈ میں پہنچنے سے روکنے کے لیے بڑی تعداد میں بھارتی فوجی اور پولیس اہلکار تعینات کررکھے ہیں جبکہ گراؤنڈ کی طرف جانے والے تمام راستوں کو سیل کردیا گیا ہے۔ کرفیو اور پابندیوں کے باوجود لوگ بارہمولہ ، سوپور، کپواڑہ، اسلام آباد، پلوامہ ، کلگام، بانڈی پورہ، پانپورہ اور دیگر علاقوں میں زبردست احتجاجی مظاہرے کررہے ہیں

اور سرینگر کی طرف مارچ کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ تاہم بھارتی پولیس لوگوں کو سرینگر جانے سے روک رہی ہے۔ بارہمولہ کے علاقے سنگھپورہ پٹن اور بانڈی پورہ قصبے میں مظاہرین اور بھارتی پولیس کے درمیان شدید جھڑپیں جاری ہیں۔ انتظامیہ نے مارچ کی قیادت سے روکنے کے لیے تمام حریت رہنماؤں کو ان کے گھروں اور تھانوں میں نظربند کردیا ہے۔ بھارتی وزیر اعظم کے خلاف ریلی نکالنے سے روکنے کے لیے نام نہاد اسمبلی کے رکن انجینئر عبدالرشید کو بھی ان کے گھر میں نظربند کردیاگیا تھا تاہم انہوں نے گھر کے باہر نکل کرسیاہ جھنڈا لہرایا جس کے بعد انہیں گرفتار کرلیا گیا۔ دریں اثناء سرینگر کونریندر مودی کے دورے کے موقع پر ایک قلعے میں تبدیل کیا گیا ہے جبکہ شہر میں موبائل اور انٹرنیٹ سروس معطل ہے۔ لوگوں کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے کے لیے جگہ جگہ کلوز سرکٹ کیمرے نصب کئے گئے ہیں ۔ بھارتی پولیس اور پیراملٹری اہلکاروں نے سرینگر شہر اور سرینگر جموں شاہراہ پر جگہ جگہ ناکے لگارکھے ہیں اور وہاں سے گزرنے والی ہرگاڑی کی تلاشی لی جارہی ہے۔

مزید : عالمی منظر