مودی کا دورہ مقبوضہ کشمیر ، 80ہزار کروڑ روپے کے پیکیج کا اعلان کانفرنس نے مسترد کر دیا

مودی کا دورہ مقبوضہ کشمیر ، 80ہزار کروڑ روپے کے پیکیج کا اعلان کانفرنس نے ...

  

 سری نگر (اے این این، آئی این پی) بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے دورۂ سری نگر کے موقع پر مقبوضہ کشمیر میں ترقیاتی منصوبوں کے لئے 80 ہزار کروڑ روپے کے پیکج کا اعلان کیا، جسے حریت کانفرنس نے مسترد کر دیا، حریت رہنماؤں نے نریندر مودی کے دورے کے خلاف احتجاج کی اپیل کی جس پر مقبوضہ کشمیر، آزاد کشمیر اور پاکستان سمیت دنیا بھر میں مظاہرے کئے گئے۔ بھارتی وزیراعظم کی سری نگر آمد پر پوری وادی کو فوجی چھاؤنی میں تبدیل کر دیا گیا، اس کے باوجود لوگ سڑکوں پر نکل آئے، پاکستانی پرچم لہرائے اور نریندر مودی کے خلاف نعرہ بازی کی۔ تفصیل کے مطابق ہفتے کے روز سری نگر کے شیر کشمیر سٹیڈیم میں جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے مقبوضہ کشمیر کیلئے 80 ہزار کروڑ روپے کے پیکیج کا اعلان کیا اور کہا ہم کشمیرکو دوبارہ جنت بنانا چاہتے ہیں، کشمیر کے لئے لیے مجھے دنیا سے کسی مشورہ کی ضرورت نہیں، کسی کے تجزیے کی ضرورت نہیں ہے۔ ریاست میں روزگار کے نئے مواقع پیدا کیے جائیں گے اور سیاحتی شعبے کو فروغ دینے کے لیے بھی اقدامات کیے جائیں گے۔ ریاست میں بنیادی ڈھانچے کو بہتر بنانے اور ڈیجیٹل سہولیات مہیا کرنے پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔ جموں و کشمیر کی ایک بڑی تعداد کو انٹرنیٹ کی سہولت حاصل نہیں ہے۔ ان سارے خوابوں کو پورے کرنے کے لیے نئی دہلی حکومت اس ریاست کے لیے بارہ ارب ڈالر کی امداد کا اعلان کرتی ہے۔انہوں نے کہاکہ یہ پیکج تو صرف آغاز ہے دہلی کا خزانہ ہی نہیں دل بھی آپ کا ہے۔ میں کشمیر میں ان دنوں کو واپس لانا چاہتا ہوں جب بھارت کا ہر فرد کشمیر آنے کے لیے بیتاب رہتا تھا۔ کشمیر نے بہت کچھ برداشت کیا ہے، ہم اسے دوبارہ جنت بنانا چاہتے ہیں۔ میری دلی خواہش ہے کہ یہ پیکج کشمیری عوام کی قسمت تبدیل کرنے کے کام آئے، یہ پیسہ جدید کشمیر بنانے میں لگنا چاہیے۔ میں اس ریاست کو اس کی پہلے والی شان و شوکت اور فخر واپس دینا چاہتاہوں۔ انہوں نے کہا کہ دلوں کو جوڑنے والی صوفی ثقافت یہیں سے پیدا ہوئی تھی اور جو ہندوستان کا مزاج ہے کشمیر کا مزاج اس سے مختلف نہیں ہو سکتا۔ اس موقع پر مقبوضہ کشمیر کے کٹھ پتلی وزیر اعلی مفتی محمد سعید، مرکزی وزیر نتن گڈکری اور جیتندر سنگھ بھی موجود تھے۔حریت پسندسیاسی اورعسکری تنظیموں نے بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کے کشمیر کیلئے اعلان کردہ 80 ہزار کروڑ روپے کا پیکیج یکسرمسترد کرتے ہوئے کہاہے کہ کشمیریوں نے بھارت کے تسلط سے نجات کی منزل پر پہنچ کر دم لینے کاعزم کررکھاہے ،مودی پیکج کے لالچ دے کرجدوجہدآزادی کودبا سکتے ہیں نہ اس سے لاکھوں شہداء کی قربانیوں کوبھلایاجاسکتاہے۔ کل جماعتی حریت کانفرنس کے چیئرمین اوربزرگ کشمیری رہنماء سیدعلی شاہ گیلانی نے سری نگرمیں ملین مارچ سے ٹیلی فونک خطا ب کرتے ہوئے کہا کہ سات لاکھ بھارتی فوج اور ایک لاکھ پولیس کو وسیع اختیارات دے کر عملاً پوری وادی کو جیل میں تبدیل کر دیا گیا ، بھارت کشمیریوں کا حق آزاد ی زیادہ عرصے تک نہیں دبایا جا سکتا ، کشمیری اپنی منزل پر پہنچ کر دم لیں گے ۔کل جماعتی حریت کانفرنس (میرواعظ گروپ)کے چیئرمین میرواعظ عمرفاروق اورجموں وکشمیرلبریشن فرنٹ کے چیئرمین محمدیاسین ملک نے اپنے الگ الگ بیانات میں مودی کے دورے کے موقع پرلوگوں کوملین مارچ میں شرکت سے روکنے کیلئے لگائی گئی پابندیوں اورپکڑدھکڑکی شدیدمذمت کی۔میرواعظ عمرفاروق نے کہا یہ افسوسناک امرہے کہ کشمیرکے نام نہادحکمران نئی دہلی میں اپنے آقاؤں کوخوش کرنے کیلئے عوام کی زندگی کواجیرن بنارہے ہیں۔انہوں نے عالمی برادری پرزوردیاکہ وہ کشمیرمیں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کانوٹس لے۔یاسین ملک نے کہاکہ کٹھ پتلی انتظامیہ نے حریت پسندرہنماؤ ں اورکارکنوں کوگرفتارکرکے اپنی شکست تسلیم کرلی ہے۔ متحدہ جہاد کونسل کے سربراہ اورحزب الماہدین کے سپریم کمانڈرسید صلاح الدین نے ایک احتجاجی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مودی کی جماعت ہندوستان میں فسادات کرنے کی ذمہ دارہے جس میں ہزاروں مسلمانوں کو شہید کیا گیا ۔ کشمیری مسئلہ کشمیر کے بنیادی فریق ہیں اوران سے ملاقات کر نا پاکستانیوں کا حق ہے ، ہم اس پر بھارتی اعتراض کو مسترد کرتے ہیں ، بھارتی مصنفوں کے شکر گزار ہیں جنہوں نے اپنے ایوارڈ ز واپس کر کے بھارت کا اصل چہرہ بے نقاب کردیا۔ نریندر مودی مقبوضہ کشمیر کے دورے پر خصوصی طیارے میں سرینگر ایئر پورٹ پہنچے جہاں سے انھیں سخت سکیورٹی میں شیر کشمیر کرکٹ اسٹیڈیم پہنچایا گیا جہاں گورنر مقبوضہ کشمیر این این ووہرا،وزیر اعلیٰ مفتی سعید اور ریاست کے وزراء سمیت اعلیٰ حکام نے ان کا استقبال کیا۔ اس موقع پر مقبوضہ وادی میں سکیورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے تھے۔سید علی گیلانی،میر واعظ عمر فاروق،یاسین ملک،شبیر شاہ اور ایاز اکبر سمیت سینکڑوں قائدین کو گھروں میں نظر بند رکھا گیا تھا جبکہ ہزاروں کارکنان کو گرفتار کر کے تھانوں اور حراستی مراکز میں پہنچا دیا گیا۔ نریندر مودی کی کشمیر آمد پر وادی کشمیر میں کرفیو کا سماں رہا،سونی گلیاں ،ویران سڑکیں اور جگہ جگہ فوجیوں کی تعیناتی اس بات کا ثبوت بھی کہ بھارت معصوم کشمیریوں پر تسلط جمانے کیلئے کس حد تک چلا جاتا ہے، کٹھ پتلی حکومت نے احتجاج کا بنیادی حق دینے کی بجائے حریت رہنماؤں سمیت 2ہزار افراد کو گرفتار کر لیا، مودی کی سری نگر آمد کے موقع پر رکن مقبوضہ کشمیر اسمبلی انجینئر رشیدسمیت متعدد افراد نے سیاہ پرچم لہرا دیئے جبکہ کئی افراد نے فضا میں سیاہ غبارے چھوڑے جس پر انھیں گرفتارکرلیا گیا ۔ مودی کی آمد پر سکیورٹی کے نام پر پوری وادی میں لینڈ لائن، موبائل اور انٹرنیٹ سروس معطل کر دی گئی۔ کل جماعتی حریت کانفرنس کے چیرمین سید علی گیلانی کی جانب سے بھارتی وزیر اعظم مودی کی سرینگر آمد کے خلاف بطور احتجاج ملین مارچ کے اعلان پر وزیراعظم چودھری عبدالمجید کی جانب سے مکمل حمایت پر پاکستان، آزادکشمیراور دنیا بھر میں کشمیری عوام کی جانب سے زبردست احتجاجی مظاہرے کئے گئے ۔اس سلسلے میں اسلام آبادمیں تمام سیاسی ،مذہبی جماعتوں اور حریت قائدین نے احتجاجی مظاہرہ کیا، انہوں نے اقوام متحدہ کے مبصر مشن تک مارچ کیا اور احتجاجی یاداشت پیش کی جس میں کشمیریوں کے لئے حق خود ارادیت کا مطالبہ کیا گیا۔ اس موقع پر آزاد کشمیر کے وزراء ماجد خان ، ،محمد حسین سرگالہ ،کنونیر حریت کانفرنس غلام محمد صفی مشیر وزیراعظم سید عزادار شاہ کاظمی ،عامر ذیشان جرال ، ،جماعت اسلامی کے عبدالباری ،مسلم لیگ (ن) کے بشیر احمد ،مسلم کانفرنس کے عبدالرازق ،حریت قائدین غلام نبی شال،الطاف حسین وانی ،محمود ساغر ،فاروق رحمانی ،عبدالحمید لون ،پی پی پی راولپنڈی کے صدر رشید احمد شاہ کاظمی اور ماریہ ترانہ نے خطاب کیا ۔انہوں نے کہا کہ نریندر مودی انسانیت کا قاتل ہے ،حق خودارادیت کشمیریوں کامسلمہ حق ہے ۔ اقوام متحدہ اپنی قراردادوں کے مطابق مسئلہ کشمیرکو پرامن طریقے سے حل کرے بصورت دیگر جنوب ایشیاء میں ہولناک تباہی آسکتی ہے۔بھارت 68 برسوں سے کشمیریوں پرجوظلم وبربریت ڈھارہاہے اور طاقت کے بل بوتے پرکشمیریوں کونشانہ بنارہاہے اس کی مثال دنیامیں نہیں ملتی۔انہوں نے کہا کہ حق خودارادیت کے حصول تک کشمیری اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔ شہداء کشمیر نے جن عظیم مقاصد کے لیے جانوں کے نذرانے پیش کیے تھے وہ تاریخ کا حصہ ہیں۔ شہداء کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی اور مقبوضہ کشمیرجلد بھارت کے پنجہ استبدار سے آزاد ہوگا۔

مزید :

صفحہ اول -