ہائیکورٹ کی ایڈمنسٹریشن کے رکن ججز کا79نئے ایڈیشنل سیشن ججوں کے تقرر کے طریقہ کا ر پر اختلاف

ہائیکورٹ کی ایڈمنسٹریشن کے رکن ججز کا79نئے ایڈیشنل سیشن ججوں کے تقرر کے ...

  

 لاہور(سعید چودھری )پنجاب کی ماتحت عدالتوں میں 79نئے ایڈیشنل سیشن ججوں کے تقرر کی منظوری کے معاملہ پر لاہور ہائی کورٹ کی ایڈمنسٹریشن کمیٹی کے رکن جسٹس صاحبان کے درمیان اختلاف رائے کا انکشاف ہوا ہے ۔ذرائع کے مطابق موجودہ چیف جسٹس مسٹر جسٹس اعجاز الاحسن ،مسٹر جسٹس خالد محمود خان اور مسٹر جسٹس شاہد حمید ڈار نے ان آسامیوں پربھرتیوں کے عمل اور طریقہ کارپر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے ان کی منظوری دینے کی مخالفت کی اور ایڈمنسٹریشن کمیٹی کے میٹنگ منٹس میں اختلافی نوٹ دیا ۔ذرائع کے مطابق اس وقت کے چیف جسٹس مسٹر جسٹس منظور احمد ملک کی سربراہی میں 21اکتوبر کو ایڈمنسٹریشن کمیٹی کا اجلاس شروع ہوا تو کمیٹی کے 7میں سے مذکورہ3جج صاحبان نے ان تقرریوں کے طریقہ کار کے حوالے سے عدم شفافیت کا نکتہ اٹھایا جس کے بعد کمیٹی کے ارکان کے سواتمام عدالتی عملے کو کمیٹی روم سے نکال دیا گیا۔ذرائع کا کہنا ہے کہ ایڈیشنل سیشن جج کے امتحان میں پاس ہونے والے 143امیدواروں کا 7اکتوبر تک انٹرویو کا شیڈول جاری کیا گیا ۔3اکتوبر کو لاہور ہائی کورٹ کے سابق چیف جسٹس ڈاکٹرجاوید اقبال کی وفات کے باعث اس روز انٹرویو نہیں ہوئے ۔بعد میں 3اکتوبر اور 7اکتوبر کے شیڈول میں شامل امیدواروں کو ٹیلی فون کے ذریعے اطلاع دے کر 6اکتوبر کو انٹرویو کے لئے طلب کیا گیا اور اسی رات ساڑھے9بجے کے قریب انٹرویو کا عمل مکمل کرکے 82کامیاب امیدواروں کے نتیجہ کا اعلان بھی کردیا گیا ۔ذرائع کے مطابق ان آسامیوں پر سول ججوں کو امتحان دینے کی اجازت نہ ملنے کے باعث انہوں نے بھرتیوں کے عمل کو سپریم کورٹ میں چیلنج کررکھا تھا اور اس کیس کی سماعت کے لئے 7اکتوبر کی تاریخ مقرر تھی ۔6اکتوبر کو کامیاب ہونے والے امیدواروں کے نتیجہ کے باعث سول ججوں کی درخواست سپریم کورٹ نے 7اکتوبر کو غیر موثر قرار دے دی ۔معلوم ہوا ہے کہ نئے بھرتی ہونے والے ایڈیشنل سیشن ججوں میں سے ایک کیخلاف جعلی چیک دینے کے مقدمات درج ہیں ۔ایک ممتحن نے اپنی قریبی عزیزہ کا امتحانی پرچہ خود ہی چیک کیا جو بعد میں ایڈیشنل سیشن جج کا انٹرویو بھی پاس کرنے میں کامیاب ہوگئیں۔ذرائع نے الزام لگایا ہے کہ 2014ء میں بھرتی ہونے والے ایک سول جج کی خدمات واپس پراسیکیوشن ڈیپارٹمنٹ کے حوالے کردی گئیں جس کے باعث وہ بھرتیوں کے لئے درخواست دینے کے اہل ہوگئے اور بعد میں ایڈیشنل سیشن ججوں کے امتحان میں کامیاب ہوگئے ۔ذرائع نے 3ایسے ایڈیشنل سیشن ججوں کے تقرر کا بھی انکشاف کیا ہے جو جولائی میں ہونے والے سول ججوں کے امتحان میں ناکام ہوگئے تھے ۔لاہور ہائی کورٹ کی ایڈمنسٹریشن کمیٹی کے اجلاس میں مسٹر جسٹس اعجاز الاحسن ،مسٹر جسٹس خالد محمود خان اور مسٹر جسٹس شاہد حمید ڈار نے بھرتی کے "پراسس "پرتحفظات کا اظہار کیاجبکہ اس وقت کے چیف جسٹس مسٹر جسٹس منظور احمد ملک ،انٹرویو کمیٹی کے سربراہ مسٹر جسٹس سید منصور علی شاہ ،مسٹر جسٹس سردار طارق مسعود اور مسٹر جسٹس محمد یاور علی نے ان تقرریوں کی منظوری کے حق میں ووٹ دیا ۔ذرائع کے مطابق اجلاس میں متفقہ فیصلہ کے لئے اختلافی نوٹ لکھنے والے 3ججوں کو آمادہ کرنے کی کوشش بھی کی گئی ان کے انکار کے بعد اکثریت رائے کی بنیاد پر ان ایڈیشنل سیشن ججوں کے تقرر کی منظوری دی گئی ۔قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ موجودہ چیف جسٹس مسٹرجسٹس اعجاز الاحسن اور عدالت عالیہ کی نئی ایڈمنسٹریشن کمیٹی اس معاملے کو "ری اوپن "نہیں کرسکتی تاہم ان ایڈیشنل سیشن ججوں کی کنفرمیشن کے معاملہ میں سخت موقف اختیار کرنے کی مجاز ہے ۔

مزید :

صفحہ اول -