مصر میں روسی طیارے کی تباہی کی وجہ اس کی تکنیکی خرابی نہیں تھی: فرانسیسی حکام

مصر میں روسی طیارے کی تباہی کی وجہ اس کی تکنیکی خرابی نہیں تھی: فرانسیسی حکام

پیرس (این این آئی)فرانسیسی ایوی ایشن حکام کا کہنا ہے کہ مصر میں گذشتہ ہفتے روسی طیارے کی تباہی کی وجہ اس کی تکنیکی خرابی نہیں تھی۔غیرملکی میڈیا سے گفتگو میں یہ بات ان فرانسیسی حکام نے کہی جو طیارہ حادثے کی وجوہات کے لیے کی جانے والی تحقیقات سے آگاہ ہیں۔دیگر فرانسیسی حکام کا کہنا ہے کہ فلائٹ ڈیٹا ریکاڈر سے اندازہ ہوتا ہے کہ اچانک شدید دھماکے کے نتیجے میں جہاز کریش ہوا اور اس میں سوار تمام 224 افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔اب تک شدت پسندوں کی پکڑی گئی فون کالز سے پتہ چلتا ہے کہ طیارے کی پرواز سے قبل اس میں بم رکھا گیا تھا۔خیال رہے کہ اس سے قبل دولتِ اسلامیہ سے منسلک ایک گروہ نے جہاز کی تباہی کا دعویٰ کیا تھا تاہم انھوں نے یہ نہیں بتایا تھا کہ اس کے لیے انھوں نے کیا طریقہ کار استعمال کیا۔ شدت پسندوں کے اس دعوے کو حکومتِ مصر نے مسترد کر دیا تھا۔اس سے قبل روسی صدر ولادیمیر پوتن نے مصر کے لیے تمام پروازیں معطل کرنے کا اعلان کیا ہے۔برطانیہ نے مصر کے علاقے شرم الشیخ جانے والی پروازوں کو دو دن قبل منسوخ کر دیا تھا جبکہ چند اور ممالک نے بھی اپنے شہریوں کو وہاں جانے سے خبردار کیا ہے۔روسی کمپنی میٹروجیٹ کا ایئر بس اے 320 طیارہ سنیچر کو شرم الشیخ سے سینٹ پیٹرزبرگ جا رہا تھا کہ فضا میں تباہ ہو گیا اور اس میں سوار تمام 224 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ گفتگو میں فرانسیسی تحقیق کاروں نے بتایا کہ فلائٹ ڈیٹا ریکاڈر سے پتہ چلتا ہے کہ ’سب کچھ مکمل طور پر نارمل تھا، اور پھر اچانک کچھ بھی نہ رہا۔اسی قسم کی بات ایک دوسرے تفتیش کار نے فرانس کے ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کہی۔روس کی جانب سے مصر میں پروازیں معطل کرنے کا فیصلہ مصر کی سیاحت کے لیے ایک بہت بڑا دھچکا ہے کیونکہ یہ وہاں کی معیشت کا اہم ذریعہ ہے۔ہر سال مصر آنے والے 30 فیصد سیاحوں کا تعلق روس سے ہی ہوتا ہے۔خیال رہے کہ مصر کی سیاحتی صنعت 2011 میں آنے والے انقلاب اور غیر مستحکم سیاست کی وجہ سے مشکلات کا شکار ہے۔اس وقت 50 ہزار روسی سیاح افراد مصر میں چھٹیاں منانے گئے ہوئے ہیں جنھیں ملک واپس لانا ہوگا۔

مزید : عالمی منظر