حکومت کا چالیس ارب کے نئے ٹیکس لگانے کا فیصلہ ظالمانہ اور عوام دشمن ہے ، سراج الحق

حکومت کا چالیس ارب کے نئے ٹیکس لگانے کا فیصلہ ظالمانہ اور عوام دشمن ہے ، سراج ...

  

ل

اہور (پ ر) جماعت اسلامی پاکستان کے امیر سراج الحق نے کہا ہے کہ حکومت آئی ایم ایف سے قرضہ لینے کی خاطر چالیس ارب روپے کے نئے ٹیکس لگانے کا فیصلہ ظالمانہ اور عوام دشمن ہے۔ ہم ضمنی بجٹ اور ٹیکس لگانے کو مسترد کرتے ہیں اور سینیٹ و قومی اسمبلی میں اس کے خلاف آواز اٹھائیں گے۔ جماعت اسلامی کے مرکزی میڈیا سیل کے مطابق وہ المرکز اسلامی میں چارسدہ سے تعلق رکھنے والے سینکڑوں افراد کی شمولیت کے موقع پر منعقدہ تقریب کے بعد پریس کانفرنس کر رہے تھے۔پریس کانفرنس میں جماعت اسلامی کے صوبائی امیر مشتاق احمد اور چارسدہ کے امیر مصباح اللہ بھی موجود تھے۔تقریب سے جماعت اسلامی میں شامل ہونے والے قومی وطن پارٹی کے تحصیل صدر نے بھی خطاب کیا۔سراج الحق نے مختلف جماعتوں سے مستعفی ہوکر ولی محمد کی قیادت میں جماعت اسلامی میں شامل ہونے والوں کا خیر مقد م کیا اور ان کو جماعت اسلامی کا جھنڈا پیش کیا اور ہار پہنائے۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سراج الحق نے کہا کہ زلزلہ آئے ہوئے آج 12واں دن ہے لیکن مرکزی اور صوبائی حکومتوں نے جانی اور مالی نقصان کا سروے اب تک مکمل نہیں کیا ہے۔انھوں نے کہا کہ جماعت اسلامی متاثرین کے لیے20کروڑ روپے فراہم کرنے کا اعلان کیا اور اب تک ہم نے12کروڑ روپے خرچ کردیے ہیں اور تمام متاثرہ علاقوں میں ہمارے الخدمت فاؤنڈیشن کے ہزاروں خدائی خدمت گار دس اضلاع میں دن رات امدادی کام میں مصروف ہیں۔انھوں نے امداد دینے والے اداروں اور شخصیات کا شکریہ ادا کیا جن کے تعاون سے امدادی اور بحالی آپریشن جاری ہے۔سراج الحق نے کہا کہ ملک میں کرپٹ لوگوں کے ایک گروپ نے وسائل پر قبضہ کررکھا ہے اور غریبوں کی حالت بہتر بنانے میں رکاوٹ ہے۔انھوں نے کہا کہ ولی محمد خان اور ان کے ساتھیوں نے سوچ سمجھ کر جماعت اسلامی میں شمولیت کا اعلان کیا اور اپنے علاقہ میں مجھے بڑے جلسہ عام میں شرکت کی دعوت دی ہے۔میں ان کی دعوت قبول کرتا ہوں اور ان کی دعوت پر ضرور جاؤں گا۔سراج الحق نے کہا کہ زلزلہ زدہ علاقوں میں بہت زیادہ نقصان ہوا ہے لیکن افسوناک امر یہ ہے کہ صوبائی اور مرکزی حکومت نے ابھی تک ان علاقوں کو آفت زدہ قرار نہیں دیا۔ میں ان سے پوچھتا ہوں کہ آفت کس کو کہتے ہیں اور یہ مصیبت زدہ بھائیوں کی مدد کب کریں گے۔ انھوں نے کہا کہ گھروں کا بے پناہ نقصان ہوا ہے ۔ان کویک مشت ادائیگی کی جائے ،وہ بہادر لوگ ہیں اپنے گھر خود بنا لیں گے۔سراج الحق نے کہا کہ جماعت اسلامی ایک پروگریسو پارٹی ہے اور پاکستان کا مستقبل ہمارا ہے۔ ولی محمد خان کی قیادت میں اتنے زیادہ لوگوں کی شمولیت اس بات کازندہ ثبوت ہے۔دریں اثنا قومی وطن پارٹی چارسدہ کے تحصیل صدر ولی محمد خان نے اپنے 150ساتھیوں سمیت جماعت اسلامی میں شمولیت کا اعلان کردیا ،شمولیت کا اعلان امیر جماعت اسلامی سینیٹر سراج الحق کی موجودگی میں المر کز الاسلامی پشاور میں کیا ۔اس موقع پرقومی وطن پارٹی سے مستعفی ہو کر جماعت اسلامی میں شمولیت اختیار کرنے والے ولی محمد خان نے کہا کہ زندگی کا اہم حصہ میں نے جن لیڈروں کے زیر سایہ گزارا ہے آخر میں پتہ چلا کہ ان کا عوام سے کوئی سرو کار نہیں۔انھوں نے کہا کہ چارسدہ میں ہم نے کام کرکے قومی وطن پارٹی کو کامیاب کرایا لیکن اس کے ارکان اسمبلی نے عوام کو یک سر نظر انداز کیا اور اپنے مفادات کے حصول میں لگ گئے۔انھوں نے کہا کہ ہم نے بار بار پارٹی قیادت کو توجہ دلائی لیکن ان پر کوئی اثر نہیں ہوا ۔انھوں نے الزام لگایا کہ سینیٹ الیکشن میں قومی وطن پارٹی کے ایک ایم پی اے نے تین بار ووٹ بیچا۔باضمیر لوگوں کی ایسی پارٹی میں کوئی جگہ نہیں۔ہم دوستوں نے طویل مشاورت کے بعد متفقہ طور پر فیصلہ کیا کہ پختونوں کے حقوق کی پاسدار ی سراج الحق کی قیادت میں جماعت اسلامی کرے گی۔ شفافیت اس کے رہنماؤں اور کارکنوں کا طرہ امتیاز ہے۔ولی محمد خان کے ساتھ جماعت اسلامی میں شمولیت اختیار کرنے والوں کے نام یہ ہیں :سعود جان عمرزئی، جہانگیر کوڈا خیل،منظور ننگیالے، شیر خان اتمانزئی،اجمل خان نوید حلیم آباد،جان محمد اتمانزئی،ڈاکٹر خلیل وردگ،شاہ جہان خان اتمانزئی۔امین جان رجڑ ،ذاکر حلیم آباد،حیات خان،جمیل خان،مزمل شاہ اور جہانگیر شاہ اور دیگر شامل ہیں۔امیر جماعتِ اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے کہا ہے کہ بھارت ظلم و جبر کے ذریعے کشمیریوں کے حق خود ارادیت کو دبا نہیں سکتا۔ کشمیری عوام اپنے مستقبل کا خود فیصلہ کریں گے۔ سید علی گیلانی اور دیگر کشمیری رہنماؤں کی قیادت میں جاری جدوجہدِ آزادی کی بھرپور حمایت کرتے ہیں۔ وہ دن دور نہیں جب کشمیری عوام حقِ خود ارادیت کی جدوجہد میں کامیاب ہونگے۔ اقوامِ متحدہ اور بین الاقوامی برادری کشمیر کے حوالے سے بین الاقوامی معاہدوں پر عمل درآمد کے حوالے سے آگے آئیں اور اپنا کردار ادا کریں۔ بھارت غاصبانہ قبضے اور 7 لاکھ افواج کے ذریعے لاکھوں کشمیریوں کا قتلِ عام کرکے بھی کشمیریوں کے حق آزادی کو دبا نہیں سکا۔جماعت اسلامی کے مرکزی میڈیا سیل کے مطابق ان خیالات کا اظہار انہوں نے سید علی گیلانی کی درخواست پر آج اہلِ کشمیر کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کے لیے اسلام آباد میں نکالی گئی احتجاجی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ پاکستانی حکومت کا فرض ہے کہ وہ اہلِ کشمیر کی اخلاقی، سیاسی اور سفارتی حمایت کے حوالے سے جدوجہد تیز کرے اور اس سلسلے میں بین الاقوامی رائے عامہ کو ہموار کرنے کے لیے اپنا کردار ادا کرے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کشمیری عوام پر ظلم و جبر کے پہاڑ توڑ چکا، لیکن بین الاقوامی برادری کے کان پر جوں تک نہ رینگی۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کی موجودہ مودی سرکار کے دورِ حکومت میں فسطائیت کی حکمرانی ہے، اور وہاں پر تمام اقلیتیں غیر محفوظ ہیں۔ شیوسینا جیسی بنیاد پرست ہندو تنظیموں نے مسلمان، عیسائی، سکھ اور دیگر اقلیتوں کا بھارت میں جینا دوبھر کردیا ہے۔ اس کے باوجود بین الاقوامی برادری خاموش تماشائی کا کردار ادا کررہی ہے۔ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کی دعویدار بھارت کی مودی سرکار مسلمانوں سے تعصبت پر مبنی رویہ اپنائے ہوئے ہے، اور غیر ہندووں کے خلاف ان کے جارحانہ عزائم اور نفرت انگیز کارروائیوں میں دن بہ دن اضافہ ہوتا چلا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دنیا میں کہیں بھی ظلم و جبر کے ذریعے لوگوں کو زیادہ دیر دبایا نہیں جاسکا ہے۔

لاہور( لیڈی رپورٹر) امیر جماعت اسلامی سینیٹر سراج الحق نے جماعت اسلامی حلقہ خواتین پاکستان کے تحت سہ روزہ تربیت گاہ برائے ناظمات اضلاع ،نگران شعبہ جات اور ادارہ جات سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ترکی میں اسلامی حکومت کے قیام و انقلاب میں خواتین نے موثرکرداد ادا کیا جسکے نتائج آج پوری دنیا دیکھ رہی ہے ۔انہوں نے مزید کہا کہ جماعتِ اسلامی حلقہ خواتین قابلِ فخر ہیں اور ان کی محنت اور کوششوں سے اسلام کی بہار پاکستان میں بھی آئے گی سلام جس معاشرے اور ریاست کے قیام میں تمام انسانوں کی فلاح اور خوشخبری دیتا ہے۔اسکی بنیاد معروف کے اخلاق اور تربیت کے اصول پر ہے اس اصول پر عمل سے معاشرے میں عدل ،اخوت،بھائی چارہ حقوقِ انسانی کا احترام ہو گا اورا سکی تربیت اور جدو جہد کا دوسرا نام اقامتِ دین ہے جو تما م انبیاء کا مشن اور مقصدِ حیات رہا ہے۔اسی مقصد کو اجاگر کرنے کرنے کیلئے اور اسلامی پاکستان ،خوشحال پاکستان کیلئے سعی و جدو جہد بہتر کرنا ہی ہم سب کی زمہ داری ہے۔ناظمات سے افتتاحی خطاب کرتے ہوئے جنرل سیکریٹری دردانہ صدیقی نے کہا کہ للہ کا احسانِ عظیم ہے کہ اللہ نے ہمیں انسان بنا کر بہترین اجتماعیت سے جوڑ دیا ہے اور ہمیں اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لانا چاہئے کیونکہ صالحیت اور صلاحیت کا فقدان کا بوجھ تحریک نہیں اٹھا سکتی ۔ناظماتِ اضلاع کو ہدایات دیتے ہوئے کہا کہ ناظمہ کی محنت و جانفشانی ہر تحریک کی کامیابی کا انحصار ہے ذرا سی لاپرواہی بھی بڑے خطرے کا پیش خیمہ ہو سکتی ہے ۔ تربیت گاہ سے مرکزی ذمہ داران کلثوم رانجھا ،روبینہ فرید،ڈاکٹر حمیرا طارق ،کوثر مسعود،عالیہ منصور اور دیگر افراد نے

مزید :

صفحہ اول -