مزید 7لاشیں اور 10زخمیوں کو نکال لیا گیا ، مرنیوالوں کی تعداد 48ہو گئی

مزید 7لاشیں اور 10زخمیوں کو نکال لیا گیا ، مرنیوالوں کی تعداد 48ہو گئی

 مانگامنڈی ،لاہور(نمائندہ خصوصی ،جنرل رپورٹر،کرائم سیل ) سندر انڈسٹریل سٹیٹ میں زمین بوس ہونے والی راچیوت پولی ٖفیکٹری کے ملبے سے چوتھے روز بھی مزید 7افراد کی لاشوں اور 10زخمیوں کو زندہ نکال لیا گیا۔ جاں بحق ہونے والوں کی تعداد48ہو گئی ۔ڈی سی او لاہور کیپٹن (ر) محمد عثمان کا کہنا تھا کہ ریسکیو 1122اور فوج کے جوان ملبہ ہٹا رہے ہیں فیکٹری کے ملبے سے بیشتر افراد کو زندہ نکال لیا گیا ہے، جنہیں طبی امداد کے لئے مختلف ہسپتالوں میں منتقل کیا گیا۔ہسپتالوں میں بھی زخمیوں کی عیادت کے لیے آنے والے افراد کا تانتا بندھا ہوا ہے۔حادثے پر مسلم لیگ (ق) کی جانب سے پنجاب اسمبلی میں قرارداد بھی جمع کرائی گئی ہے۔حادثے میں جاں بحق ہونے والے فیکٹری مالک رانا اشرف کو ماڈل ٹاؤن میں نماز جنازہ کے بعد سپرد خاک کردیا گیا۔ضلعی انتظامیہ کا کہناہے کہ ملبے تلے مزید افراد دبے ہو سکتے ہیں۔ملبہ اٹھانے کے کام میں دو سے تین دن لگیں گے۔تفصیلات کے مطابق راچیوت پولی ٖفیکٹری کے حادثہ میں جی ایم رانا محمد شبیر بھی جان بحق ہو گئے اور آج صبح اس کواس کے گاؤں روسہ میں سپردخاک کر دیا گئے اس کے علاوہ ایک ورکر محمد فیصل کی بھی لاش نکال کر لو احقین کے حوالے کر دی گئی اس کو آج مانگا منڈی کے نواحی گاؤں روسہ بھیل میں سپردخاک کر دیا گیا جس میں سینکڑوں افراد نے شرکت کی۔چوتھے روز لاشیں نکالنے والوں میں سے ایک کی شناخت نہیں ہو سکی 28سالہ نوجوان محمد امین ولد غلام بخش لودھراں کا رہائشی بتایا گیا ہے اس کے علاوہ خانیوال کے رہائشی محمد شاہد کو شیدید زخمی حالت میں نکال لیا ان کا والد اور لواحقین بہت خوش دیکھائی دے رہے تھے اس کے والد نے کہا کہ ہم تو ایک روز قبل شاہد کو اپنے مقامی گاؤں کے قبر ستان میں دفن بھی کر چکے تھے یہ تو ہمارے اللہ تعالیٰ نے ہم پر بہت رحمت کی ہے ملبہ آٹھانے کی نگرانی کرنے والے ریسکیو 1122کے ڈی جی اور سی سی پی او لاہور امین ونیس اور ڈی سی اولاہور کیپٹن (ر) عثمان موقع پر 24گھنٹے ڈیوٹی دے رہے ہیں صوبائی وزیر محنت چوہدری اشفاق سرور نے مثاثرہ فیکٹری کا دورہ کیا سی سی پی او امین ونیس نے بتایا کہ ابھی تک تقریباً104افراد کو زندہ نکلا جا چکا ہے لینٹر میں سوارخ لگاکر کرین کے ذریعے لینٹر کو آٹھا کر اندر دبے ہوئے افراد کو نکال رہے ہیں اس وقت اندر دبے ہوئے افراد کی آوازیں بھی آنا بند ہو چکی ہیں ابھی تک اندر پھنسے نامعلوم افراد کے لواحقین نے کسی کا بھائی کسی کا باپ سڑکوں پر بیٹھ کر گزارہ کر رہے ہیں لواحقین نے نمائندہ روز نامہ ’’پاکستان‘‘سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایک طرف سے تو ہمارے پیارے نہیں مل رہے ہیں دوسری طرف اس جگہ کھانے پینے کی اشیا ء بہت مہنگے داموں سے مل رہی ہیں بلکہ پینے کیلئے پانی بھی نہیں مل رہا ہے آج چوتھے روز کسی قریب گاؤں والے کو خیال آیا تو وہ پورا لوڈ ڈالہ بریانی کے لینچ بکس بھر کے لے آیا اس نے تمام افراد میں تقسیم کیا بعد میں معلوم ہوا کہ نواحی گاؤں مل کا زمیندار 60سالہ شخص نے غیریب عوام کیلئے کھانے کا بندوبست کیا ہے مگر اس نے نمائندہ ’’پاکستان‘‘کو نام نہیں بتایا ہے کہ یہ کام اللہ تعالیٰ کو راضی کرنے کیلئے کر رہا ہوں کسی پر کوئی احسان نہیں کیا ہے موجودہ حکومت نے صرف ملبہ آٹھانے کی طرف توجہ دے رکھی ہے کھانے پینے کی اشیاء کی طر ف کوئی توجہ نہیں دے رہی ہے سیاسی لیڈر ایم پی اے ،ایم این اے ،صوبائی وزا صرف دورہ کرکے واپس چلے جاتے ہیں اس وقت جو ورثاً فیکٹری کے باہر بیٹھے ہیں ان کی امیدیں دم توڑ رہی ہے ایک عمر رسید خواتین رشیدہ بی بی اور محمد اکرم ،ایک 60سالہ شخص نے نمائندہ ’’پاکستان‘‘کو بتایا کہ ہم تو آپ صرف اللہ تعالیٰ سے دعا کر رہے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے کسی معجزے کے انتظار میں بیٹھے ہیں مگر کوئی امید نظر نہیں آرہی ہے کہ ہمارے پیارے اندر دبے ہوئے ہیں وہاں پر ایک شخص نے بتایا کہ اس فیکٹری میں ایک میرا بچہ اور ایک بھانجا کام کرتا تھا جو چوتھے روز بھی نہیں مل سکا ہے ابھی تک امید لگائے بیٹھا ہوں ریسیکو 1122کی گاڑیاں اس وقت 20کے قریب کام کر رہی ہیں اور 5کرین کام کر رہی ہیں فیکٹری کے مالک نے 200مزدورمیں سے صرف 40مزدوں کی شوشل سیکورٹی کروائی گئی تھی یہ بھی بتایا گیا ہے کہ فیکٹری بنانے کیلئے صرف 2منزل بنانے کی منظوری دی گئی تھی ایک مزدور نے بتایا کہ تقریباً10روز قبل 80کروڑ روپے مالیت مشینری لائی گئی ہیں مگر بلڈنگ کی طرف کوئی توجہ مالک رانا محمد اشرف نے نہیں دی سب کچھ لیبر انسپکٹر وں کی ملی بھگت سے کام ہو رہا تھا۔

مزید : صفحہ اول