سانحہ سندر،ریسکیو1122اور ضلعی انتظامیہ 8گھنٹے ’’سربراہی ‘‘ کیلئے لڑتی رہی

سانحہ سندر،ریسکیو1122اور ضلعی انتظامیہ 8گھنٹے ’’سربراہی ‘‘ کیلئے لڑتی رہی

لاہور(شعیب بھٹی )سانحہ سندر،ضلعی انتظامیہ کی کارکردگی کھل کر سامنے آ گئی فیکٹری زمین بوس ہونے کے 8 گھنٹوں بعد تک انتظامیہ کے افسران ملبے تلے دبے افراد کی زندگیاں بچانے کی بجائے ریسکیو ٹیموں کی "سربراہی" کے معاملہ میں الجھے رہے،جبکہ ریسکیو کے عمل کے دوران پیشہ ورانہ مہارت کی کمی کی وجہ سے کئی زندہ بچ جانے والے افراد کی جانیں چلی گئیں ۔ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ سانحہ سندر میں سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن میں ضلعی انتظامیہ کی ریسکیو ٹیموں کے مابین شدید قسم کے اختلافات موجود ہیں ۔بدھ کے روز 4بجکر 50منٹ پر سندر انڈسٹریل ایریا میں زمین بوس ہونے والی پلاسٹک بیگ فیکٹری تک پہلی ریسکیو ٹیم واقعہ ہونے کے ایک گھنٹے کے بعد پہنچی ،ریسکیو 1122 کے 3اہلکاروں نے جائے وقوعہ پر پہنچ کر حالات کا جائزہ لیتے ہوئے کنٹرول روم کو حالات سے آگاہ کرتے ہوئے مزید ریسکیورز بھیجنے کا کہا جس کی اطلاع فوری طور پر ضلعی انتظامیہ سمیت دیگر ریسکیو اداروں کو دی گئی ۔ذرائع کے مطابق سانحہ کی مکمل معلومات حاصل ہو جانے کے بعد ضلعی انتظامیہ کے افسران کے مابین یہ بحث شروع ہو گئی کہ ریسکیو آپریشن کو کون کنٹرول کرے گا ،8 گھنٹے طویل رابطوں کے بعد ڈی سی او لاہور اورڈی جی ریسکیو کی سربراہی میں مشترکہ ٹیم بنائی گئی جو درجنوں ریسکیورز کے ساتھ جائے وقوعہ پر پہنچے اور انہوں نے ریسکیو آپریشن کا آغاز کر دیا ۔ذرائع کے مطابق اگر فوری طور پر ریسپانس کیا جاتا اور ریسکیو آپریشن شروع کر دیا جاتا تو کئی زندگیوں کو بچایا جا سکتا تھا۔بعد ازاں ریسکیو اہلکاروں کی جانب سے نہایت غیر پیشہ ورانہ انداز میں ملبہ اٹھانے کا عمل شروع کیا گیا اور ملبہ کو ایک کرین کی مدد سے اوپر سے اٹھایا جاتا رہاجس کی وجہ سے کئی مرتبہ نہ صرف ملبہ کے ٹکرے کرین سے نیچے گر ے جن کی وجہ سے نہ صرف مزید وزن ملبہ تلے دبے ہوئے افراد پر پڑا بلکہ اس عمل میں زیادہ وقت بھی صرف ہوا ۔اگر ریسکیو آپریشن عمارت کے ملبہ کے کسی کونے سے شروع کیا جاتا اور اطراف سے ملبہ ہٹا کر لوگوں کو نکالنے کی کوشش کی جاتی تو اس عمل میں نہ صرف وقت بچتا بلکہ کئی قیمتی جانوں کو بھی بچا لیا جاتا ۔

مزید : صفحہ اول