نریندرمودی گپ بازی کے عالمی چیمپئن

نریندرمودی گپ بازی کے عالمی چیمپئن

  

تجزیہ : قدرت اللہ چودھری

  اگر تو بھارتی وزیراعظم نریندر مودی گپ بازی کے کسی عالمی مقابلے میں شریک تھے تو انہیں دوسری مرتبہ اول انعام کا مستحق قرار دینا چاہئے جنہوں نے اپنے مقبوضہ کشمیر کے دور ے کے موقع پوری ریاست کو کرفیو اور جیل خانے میں تبدیل کرنے کے بعد جو تقریر کی اس میں ریاست کے لئے 80ہزار کروڑ کے ترقیاتی پروگرام کا اعلان کیا۔ مودی کو گپ بازی کا پہلا انعام اس وقت ملنا چاہئے تھا جب انہوں نے وزیراعظم بننے کے تھوڑے عرصے بعد ہی یہ اعلان کیا تھا کہ بیرون ملک بھارتیوں کی جو دولت جمع ہے وہ واپس لاکر ہر ہندوستانی کے اکاؤنٹ میں 15لاکھ روپے جمع کرادیئے جائیں گے، معلوم نہیں اس وقت ان کے ذہن میں بھارتیوں کی بیرون ملک جمع دولت کا کیا تصور تھا لیکن بہرحال یہ سب کچھ خواب و خیال ثابت ہوا، اور کسی کے اکاؤنٹ میں ایک پیسہ تک جمع نہیں ہوسکا۔ جب گپ بازی ہی کرنا تھی تو لگے ہاتھوں انہوں نے بھارت کو چین سے بھی زیادہ تیزی سے ترقی کرتی ہوئی معیشت قرار دے دیا اور کہا کہ وہ جہاں کہیں جاتے ہیں، انہیں بتایا جاتا ہے کہ تیزی سے ترقی کے معاملے میں بھارت اپنے ہمسائے چین کو بھی پیچھے چھوڑ گیا ہے، اپنے دورۂ چین کے موقع پر اگر مودی نے اس کا ذکر چینی صدر شی چن پنگ سے بھی کردیا ہوتا تو انہیں ’’شاباش ‘‘ مل جاتی۔

ہزاروں کشمیریوں کی گرفتاری، جگہ جگہ ناکوں اور وادی کے طول وعرض میں کرفیو کا سماں پیدا کرکے انہوں نے سری نگر کے شیر کشمیر سٹیڈیم میں جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے کشمیر کو دوبارہ جنت بنانے کا اعلان کیا اور کہا کہ مجھے دنیا سے کسی مشورے یا تجزیئے کی ضرورت نہیں وہ کسی کا مشورہ مانیں یا نہ مانیں لیکن انہیں اتنا تو معلوم ہونا چاہئے کہ ماضی میں بھی بڑی بڑی رقوم کے ترقیاتی پیکجوں کا اعلان ہوتا رہا ہے لیکن یہ تیر کبھی نشانے پر نہیں لگا۔ کشمیر کا معاملہ بنیادی طورپر سیاسی ہے، اور سیاسی اقدامات سے ہی حل ہوگا۔ کشمیر کے لوگ استصواب رائے کا مطالبہ کررہے ہیں، وہ حریت وآزادی کی بات کررہے ہیں، اپنے لئے حق خود ارادیت طلب کررہے ہیں اور آپ ان کی آواز کو سکوں کی جھنکار میں دبانا چاہتے ہیں، ایسے لگتا ہے مودی کو مسئلہ کشمیر کا سرے سے کوئی ادراک ہی نہیں، وہ عام الیکشن سے پہلے ہی کشمیر کی حیثیت بدلنے کے اعلانات بھی کرتے پھرتے تھے پھرانہوں نے وہاں بی جے پی کی حکومت بنانے کی کوشش کی، ان کی جماعت کو ریاست میں سادہ اکثریت بھی نہ مل سکی تھی لیکن اس کے باوجود ان کی خواہش تھی کہ حکومت ان کی جماعت کی بنے ۔ پیپلزڈیموکریٹک پارٹی اکثریتی جماعت تھی لیکن اسے حکومت نہ بنانے دی گئی، سودے بازی یہ کی جارہی تھی کہ مخلوط حکومت بنائی جائے اور وزیراعلیٰ کا تعلق بی جے پی سے ہو،ورنہ گورنر راج لگادیا جائے گا، جب مفتی محمد سعید نے ان کا یہ مطالبہ نہ مانا تو انہوں نے ریاست میں گورنر راج لگادیا، اس دوران سودے بازی کی کوششیں تیز کردی گئیں، لیکن کامیابی نہ ہوئی، تو گورنر راج کے خاتمے کے بعد مفتی سعید کو مجبوراً وزیراعلیٰ ماننا پڑا۔

اگر مودی کا یہ خیال ہے کہ اتنی بڑی ترقیاتی رقم کے اعلان سے کشمیریوں کی آواز کو دبانا ممکن ہوسکے گا تو یہ ان کی تاریخ سے عدم واقفیت اور خام خیالی کی دلیل ہے۔ ایسا لگتا ہے 80ہزار کروڑ روپے کے ترقیاتی پیکیج کی گپ اسی طرح ثابت ہوگی جس طرح ہر بھارتی کے اکاؤنٹ میں 15لاکھ روپے جمع کرنے کی بات کی گئی تھی۔

نریندر مودی نے 12۔ارب ڈالر کے جس ترقیاتی پیکج کا اعلان سری نگر میں کیا اس میں خصوصی طورپر کہا گیا کہ (مقبوضہ) کشمیر میں بعض علاقے ایسے ہیں جہاں انٹرنیٹ کی سہولت دستیاب نہیں ہے، ان علاقوں کو ترقی یافتہ علاقوں کے برابر لایا جائے گا، لطف کی بات یہ ہے کہ جب وہ یہ اعلان کررہے تھے اس وقت کشمیر میں لینڈ لائن ٹیلی فون، موبائل سروس اور انٹرنیٹ سروس معطل تھی۔ سید علی گیلانی اور دوسری حریت قیادت سمیت دوہزار سے زیادہ کشمیری جیلوں میں تھے، راشد انجینئر کو بھی گرفتار کیا گیا تھا جنہوں نے کشمیر میں گاؤ کے ذبیحہ پر پابندی کی کھل کر مخالفت کی، اور نتیجے کے طورپر شیوسینا کے غنڈوں کا سامنا کیا جنہوں نے ان کے چہرے پر سیاسی مل دی۔پابندی کے لئے جو انتہا پسندہائی کورٹ گئے ان کی بات بہاں بھی نہ مانی گئی۔

مودی نے کہا وہ کشمیر میں ان دنوں کو واپس لانا چاہتے ہیں جب بھارت کا ہرفرد کشمیر آنے کے لئے بے تاب رہتا تھا، لیکن سوال یہ ہے کہ کشمیر جنت نظیر کو انگار وادی میں کس نے بدلا؟سیاح کشمیر میں اس وقت آتے تھے جب یہ پھولوں کی وادی تھی ،سری نگر کی جھیل میں شکارے تیرتے تھے ،لیکن جب ریاست میں سات لاکھ سے زیادہ بھارتی فوجی تعینات کردیئے گئے جنہوں نے وادی کو جہنم زار بنادیا اور ہزاروں کشمیری نوجوانوں کو گھروں سے پکڑ کر شہید کردیا، ان حالات میں لہولہوکشمیر کو دیکھنے کے لئے کون کشمیر جاتا؟ مودی اگر چاہتے ہیں کہ لوگ پہلے کی طرح کشمیر میں آئیں، تو کشمیر کے مسئلے کی تہہ تک پہنچیں یہ سیاسی مسئلہ ہے یہ دانشمندانہ سیاسی تدبر سے ہی حل ہوگا۔ ترقیاتی پیکج کے ذریعے کشمیر کا مسئلہ حل نہیں ہوسکتا ، یہ اقتصادی مسئلہ نہیں، ڈیڑھ کروڑ انسانوں کے حق خودارادیت کا مسئلہ ہے۔ مودی اسے شعبدہ بازی کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کر دیکھیں انہیں بہرحال ناکامی ہوگی ، مودی نے کہا ’’دلوں کو جوڑنے والی صوفی ثقافت یہیں سے پیدا ہوئی تھی جو ہندوستان کا مزاج ہے ‘‘یہ کہتے ہوئے وہ بھول گئے کہ آج کل شیوسینا بھارت میں جوکچھ کررہی ہے وہ کس خطے کی ثقافت کا مظہر ہے؟

مزید :

تجزیہ -