امیر جماعت اسلامی کا مطالبہ،وزیراعظم کی تقریر،متنازعہ کیوں؟

امیر جماعت اسلامی کا مطالبہ،وزیراعظم کی تقریر،متنازعہ کیوں؟

تجزیہ :چودھری خادم حسین

لکھنے کے لئے تو بہت کچھ ہے لیکن وزیراعظم محمد نوازشریف کی تقریر اور اس کے فوراً بعد امیر جماعت اسلامی سراج الحق کے مطالبے نے اس موضوع پر بات کرنے پر اکسایا ہے ہم بوجوہ اس پر لکھنے سے گریز کرتے چلے آ رہے ہیں لیکن ان حضرات کے موقف نے مجبور کیا کہ حقیقت پسندی سے کام لیا جائے۔ وزیراعظم محمد نوازشریف نے واجب بات کی کہ پاکستان آئین کے مطابق چلے گا اور کسی کو مذہب کے نام پر کسی کا گلا کاٹنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ اس کے جواب میں امیر جماعت نے مطالبہ کر دیا کہ لبرل کا لفظ واپس لیا جائے بات کہنے سے پہلے یہ واضح کرنا ضروری ہے کہ پاکستان کے آئین کے مطابق ہمارا ملک اسلامی جمہوریہ پاکستان ہے اور اس میں اسلام کے حوالے سے آرٹیکل موجود ہیں۔ جن سے کوئی اختلاف نہیں۔ اب اگر کوئی اعتراض یا بات ہے تو وہ لبرل کے لفظ سے ہوا ہے حالانکہ وزیر اعظم ماشاء اللہ خود بھی راسخ العقیدہ ہیں۔

ہمارے خیال میں پاکستان مسلمانوں کا ملک ہے اور یہی زمینی حقائق ہیں جن سے روگردانی نہیں۔ اگر یہ ملک مسلمانوں کا ہے تو پھر اس کا دین بھی اسلام ہی ہے جو ان حقائق کو نظر انداز کرتا ہے وہ ناکامی کا منہ دیکھتا ہے لیکن اس بات سے انکار مشکل ہے کہ یہاں انتہا پسندی نہیں چل سکتی اور جب کوئی مسلمان لبرل ازم یا سکولر ازم کی بات کرتا ہے تو اس سے اس کی مراد میانہ روی اور غیر فرقہ واریت ہوتی ہے بلاشبہ پاکستان اسلامی جمہوریہ اور مسلمانوں کاملک ہے لیکن یہ کسی فرقے کا نہیں کہ اس کے ماننے والے دوسروں سے جینے کا حق چھین لیں جیسادہشت گرد کر رہے ہیں وہ بھی اسلام ہی کے نام پر بم چلاتے اور خودکش حملے کرتے ہیں اور ان میں ایسی تنظیمیں بھی ہیں جو مخالف مسلک والے کوگردن زدنی قرار دیتی ہیں اس لئے پاکستان ایسی انتہا پسندی کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ یہ سب کا ہے اور اسی لئے اسے لبرل ہونا ہے جس کا مطلب میانہ روی ہے خود ہمارے علماء کرام ایک سے زیادہ فتاویٰ دے چکے کہ دہشتگرد دین اسلام کی غلط تصویر پیش کرتے ہیں ہمارا دین میانہ روی کا دین ہے اس لئے اگر لبرل ازم کی بات ہوتی ہے تو اسے دین ہی کے پیرائے میں میانہ روی تصور کرنا چاہئے انتہا پسندی کسی بھی قسم کی ہو یہ ملک کے لئے بہتر نہیں ہے۔ یہاں بہت سے مسالک ہیں ان سب کو اس پر عمل کرنا چاہئے کہ اپنا مسلک نہ چھوڑو، تو کسی کے مسلک کو برا نہ کہو یہ خود مولانا عبدالستار خان نیازی سے لے کر بڑے بڑے جید عالم تک کہتے چلے آ رہے ہیں اس لئے اگر انتہا پسندی کی مخالفت کی جائے تو اس میں حرج کیا ہے ؟ کیا امیر جماعت اسلامی محترم سراج الحق انتہا پسندی کی حمایت کرتے ہیں؟

اگر یہی درست ہے تو پھر مودی کس طرح مردود ٹھہرا۔ بھارتی وزیر اعظم کی مخالفت اور مذمت بھی تو انتہا پسندی اور اس حوالے سے شیوسینا کی حرکات کی وجہ سے ہو رہی ہے اور ہم بھی اس میں پیش پیش ہیں بلکہ اب تو بھارت میں مودی اور شیوسینا کے خلاف رائے عامہ ہموار ہو رہی ہے دانشور حضرات کھلم کھلا سامنے آ گئے۔ کھلاڑیوں،فنکاروں اور فلمسازوں نے ایوارڈ واپس کر دئیے ہیں اور یہ سارا ڈرامہ جن ریاستی انتخابات کے لئے کھیلا گیا۔ابتدائی رپورٹوں اور سروے کے مطابق اس سے ریاست ’’بہار‘‘ میں بی جے پی کی پوزیشن کمزور ہوئی اور امکانی طور پر نتائج سامنے آئے تو یہ بی جے پی کے خلاف ہوں گے۔ یہ ایک ایسے ملک کا حال ہے جہاں ہندو اکثریت اور اس میں تو ہم پرستی اور انتہاپسندی موجود ہے ایسے میں اگر پاکستان میں آئین اور قانون کے دائرہ کار کی بات کرتے ہوئے لبرل ازم کی حمایت اور انتہا پسندی کی مخالفت کی جائے تو غلط کیا ہے امیر جماعت اسلامی کو بھی اپنے سخت موقف پر نظر ثانی کرنا ہوگی کہ جماعت اسلامی غیر فرقہ واریت کی دعویدار ہے۔

پاکستان کے سیاسی میدان میں تبدیلیاں نظر آ رہی ہیں قومی اسمبلی پیر کو پھر سے سپیکر کا انتخاب کرے گی مسلم لیگ ن نے سابق سپیکر ایاز صادق کو نامزد کیا ہے اور تحریک انصاف نے اپنا امیدوار دے دیا ہے، تاہم پیپلزپارٹی،ایم کیو ایم اور اب مسلم لیگ ق نے ایاز صادق کی حمایت کر دی ہے بلکہ مسلم لیگ ق کے مرکزی رہنما چودھری پرویز الٰہی سرگرم عمل ہیں کہ انتخاب بلا مقابلہ ہو جائے کہ سپیکر’’ایوان کا محافظ‘‘ ہوتا ہے اور ایاز صادق نے اپنے دور میں اس فریضے کو احسن طریقے سے نبھایا تھا۔

بہرحال تحریک انصاف کی ایوان میں دلچسپی کی ہم نے تعریف کی اور اب بھی کرتے ہیں تاہم منتظر ہیں کہ ہماری یہ خواہش پوری ہو کہ عمران خان خود بھی ایوان کی کارروائی میں دلچسپی لینا شروع کریں وہ ایوان میں آئیں کہ ان کے نہ آنے سے بھی خود انہی کی شہرت کو نقصان پہنچتا ہے وہ اپنے رویے میں اتنی تبدیلی تو لا چکے کہ پشاور میں صحافی کو برا کہنے پر اگر مگر کے ساتھ معذرت کرلی ہے ان کی اس معذرت کے ساتھ درخواست پر ہم عمل کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور بہت سی گفتنی اور ناگفتنی کو نظر انداز کر رہے ہیں حالانکہ وقت گزرنے کے ساتھ بہت کچھ کھل رہا ہے۔

اب کیا کہا جائے کہ خبر تو یہ ہے کہ گزشتہ روز پیپلزپارٹی پنجاب کا اجلاس ہوا اس میں بلدیاتی انتخابات کے دوسرے اور تیسرے مرحلے کے لائحہ عمل پر غور ہوا اس اجلاس میں جو ہوا وہ آج کی خبروں میں ہے یہ اجلاس تو چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی طرف سے پنجاب میں ناکامی کا نوٹس لینے پر ہوا ہے اس کے باوجود گلاس توڑا بارہ آنے والی بات ہے۔ بلاول بھٹو زرداری کو اب ہر صورت اہم فیصلے کرنا ہوں گے کہ پارٹی بچ سکے جس کی ضرورت ہے کہ یہاں میانہ روی اور انتہا پسندی کے ٹکراؤ کی کوشش کی گئی ہے۔

مزید : تجزیہ