فرانزک رپورٹس کی تیاری میں تاخیر ،انصاف کی فراہمی میں رکاوٹ بن گئی

فرانزک رپورٹس کی تیاری میں تاخیر ،انصاف کی فراہمی میں رکاوٹ بن گئی

لاہور(بلال چودھری)فرانزک سائنس کی رپورٹس صوبے میں فراہمی انصاف کے عمل میں تاخیر کا باعث بننے لگیں ۔پنجاب فرانزک سائنس ایجنسی پولیس کی طرف سے بھیجے جانے والے کیسوں میں کئی کئی ہفتوں کے بعد رپورٹس جاری کرتی ہے جس کے باعث تفتیشی افسر قانون کے مطابق 14دن کے اندر کیس کا چالان نہیں پیش کر پاتا ہے ۔جس کی وجہ سے ایک مقدمہ کی تفتیش میں کئی ماہ لگ جاتے ہیں اور ملزمان کو فرار ہونے کا موقع مل جاتا ہے سنگین جرائم میں ملوث ملزمان اوراشتہاریوں کی بڑی تعداد کے پکڑے نہ جانے کی وجہ سے صوبائی دارالحکومت میں بھی جرائم کی شرح بڑھ رہی ہے ،واضح رہے کہ فرانزک سائنس لیبارٹری کے ماہرین نے پہلے سال شواہد خوداکھٹے کرنے کے ساتھ ساتھ پولیس کو بھی ثبوت اکھٹے کرنے کی تربیت دی تھی لیکن اس کے باوجود تاحال پولیس کی جانب سے جائے وقوعہ پر اکثر اوقات غفلت کا مظاہرہ کیا جاتا ہے جس کے باعث دہشت گردی سمیت دیگرسنگین جرائم میں ملوچ ملزمان تک رسائی ممکن نہیں ہوپاتی ہے جبکہ پولیس اہلکاروں کے پاس جائے وقوعہ سے شواہد اکٹھے کرنے کی معمولی نوعیت کی ٹریننگ ہونے کی وجہ سے اکثر شواہدضائع ہو جاتے ہیں جس کی وجہ سے ماہرین کو اہم مقدمات میں جائے وقوعہ پر خود جا کر شواہد اکٹھے کرنے پڑتے ہیں ،جبکہ فرازنزک لیبارٹری کے پاس ہزاروں کی تعداد میں کیس آنے کی وجہ سے مقدمات کی رپورٹ آنے میں دو سے تین ماہ لگ جانا معمول کی بات بن گیا ہے ۔ذرائع کے مطابق محکمہ پولیس کی سستی اور کاہلی کے باعث جائے وقوعہ سے اکثر اوقات شواہد اکھٹے نہ کرسکنے پر دہشت گردوں سمیت دیگر سنگین جرائم میں ملوث ملزمان تک پہنچنے میں ناکامی کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔بدقسمتی سے ابھی بھی پولیس کی حد تک تو صورتحال یہ ہے کہ اکثر شواہد جن سے مجرموں تک پہنچنے میں مدد مل سکتی ہے پولیس اہلکاروں کے اپنے ہی ہاتھوں ضائع ہوجاتے ہیں جس کی وجہ سے ملزم تک پہنچنے میں انتہائی دشواری کا پیش آتی ہے

مزید : صفحہ آخر