پانچ برسوں میں فیکٹری حادثات اور جعلی ادویات سے 270افرا د لقمہ اجل بن گئے

پانچ برسوں میں فیکٹری حادثات اور جعلی ادویات سے 270افرا د لقمہ اجل بن گئے

لاہور(شہباز اکمل جندران//انوسٹی گیشن سیل) لاہور میں گزشتہ پانچ برسوں کے دوران فیکٹریوں کے گرنے ، آتشزدگی ،اور جعلی ادویات کے استعمال سے 2سو 70سے زائد افراد ہلاک ہوئے لیکن کسی ایک بھی ذمے دار کو سزا نہ ہوسکی۔جوہر ٹاؤن کھاڑک بند روڈ ، انارکلی اور ایل ڈی اے پلازہ کے ہلاکت خیز واقعات ہوں یا پی آئی سی اور ٹائنو سیرپ جیسے مجرمانہ غفلت اور لالچ کی آڑ میں انسانی جانیں لینے کے خوفناک کیس ہوں کہیں تو کسی ذمے دار کا تعین ہی نہ کیا گیا اور جہاں ذمے دار ٹھہرایا گیا وہاں بھی کارروائی نہ کی جاسکی۔ پولیس ہو یا ضلعی حکومت ، محکمہ صحت و صنعت ہو یا ایل ڈی اے کسی بھی ادارے نے ذمے داروں کو کیفر کردار تک پہنچانے میں دلچسپی نہ لی۔معلوم ہوا ہے کہ پاکستان کے دل کہلانے والے شہر لاہور میں انسانی زندگیاں کا خلاف فطرت خاتمہ معمول بن گیا ہے۔صوبائی دارالحکومت میں ایک طرف ہزاروں فیکٹریوں کے غیر قانونی یونٹ موجود ہیں۔جن کی بڑی تعداد متعلقہ اداروں میں رجسٹرڈ ہی نہیں ہے۔ بہت سی فیکٹریاں نقشوں کے بغیر تعمیر کی گئی ہیں۔ تو دوسری طرف ایل ڈی اے اور ضلعی حکومت کی مبینہ ملی بھگت اور غفلت کے باعث بہت سے پلازے اور کثیر منزلہ عمارتیں نقشوں کے بغیر تعمیر کی جاچکی ہیں۔اور اس پر مستہزاد یہ کہ شہر میں جعلی ادویات اور ملاوٹ کا ہر کاروبار دھڑلے سے چلتا ہے۔گزشہ پانچ برسون پر نظر ڈالیں تو لاہور شہر میں فیکٹریاں گرنے ، فیکٹریوں میں آتشزدگی اور جعلی ادویات کے استعمال سے مجموعی طورپر 2سو 70سے زائد افراد ہلا ک ہوچکے ہیں۔جن کے بدلے میں دو سو 70تو درکنار کسی ایک بھی ذمے دار کو سزا نہیں دی جاسکی۔ذرائع کے مطابق ستمبر 2011میں لاہور کے علاقے جوہر ٹاؤن میں بورڈ آف ریونیو سوسائٹی کے ایک پانچ منزلہ پلازے کو مسمار کرتے ہوئے ایل ڈی اے کے افسروں کی غفلت اور لاپرواہی کی وجہ سے 4مزدور ہلا ک جبکہ 23زخمی ہوگئے۔جس پر ایل ڈی اے اور وزیر اعلیٰ انسپکشن ٹیم نے الگ الگ انکوائری کی۔ اتھارٹی کے 28افسروں کو شوکار نوٹس جاری کئے گئے۔ لیکن انکوائری رپورٹ میں اتھارٹی کی غفلت سامنے آنے کے باوجود کسی ایک بھی افسر کو قرار واقعی سزا نہ دی گئی۔اور واقعے میں ملوث تمام افراد آج بھی ایل ڈی اے میں پرکشش عہدوں پر تعینات ہیں۔اسی طرح جنوری 2012میں لاہور میں واقعہ صوبے کے سب سے بڑے دل کے ہسپتال پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی کی نسبت پیش آیا ۔ جس میں مبینہ طورپر جعلی ادویات کی فراہمی سے 150سے زائد مریض اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔محکمہ صحت ، پولیس اور وزیر اعلیٰ انسپکشن ٹیم نے واقعے کی انکوائری کی ۔ لیکن تاحال کسی بھی ذمہ دار کو قید میں میں نہیں ڈالا جاسکا۔اور میڈیسن کمپنیوں کے جن ذمے داروں کو گرفتار کیا بھی گیا ۔ انہیں بھی بعد ازاں ضمانتوں پر رہا کردیا گیا۔فروری 2012میں ملتان روڈ لاہور کے علاقے کھاڑک میں میڈیسن بنانے والی ایک کمپنی کا بوائلر پھٹنے سے 24افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے ۔ محکمہ صحت ، ضلعی حکومت ، پولیس اور وزیر اعلیٰ معائنہ ٹیم کی طرف سے واقعے کی الگ الگ انکوائری کی گئی۔ رھائشی علاقے میں فیکٹری کیسے بنی ، ہلاکتوں کا ذمے دار کون تھا۔متعلقہ اداروں نے حکومت اور عوام کی نظروں میں دھول جھونکنے کے لیے فیکٹری مالک سمیت چند ایک لوگوں کے خلاف کارروائی کی لیکن کاری افسر وں سمیت کسی کو بھی سزا نہ دی گئی۔پھر ستمبر2012میں بندروڈ پر ایک جوتا فیکٹری میں لگی آگ سے 23افراد ہلاک ہوگئے۔ لیکن محض اندراج مقدمہ سے آگے بات نہ بڑھی۔2012میں ہی نومبر کے مہینے میں لاہور میں کھانسی کا جعلی سیرپ پینے کی وجہ سے 16سے زائد افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے لیکن کسی کو سزا نہ ہوئی۔پھر مئی 2013میں لاہور میں ایجرٹن روڈ پر واقع12منزلہ ایل ڈی اے پلازہ کی اوپری منزلوں میں آگ بھڑک اٹھی۔ جس سے 23افراد ہلاک ہوئے ۔ اس پر بھی انکوائری کی گئی۔ لیکن کسی کو ذمے دار نہ ٹھہرایا گیا۔ اگرچہ آتشزدگی کے پیچھے کئی کہانیاں بیان کی گئیں کہ میٹرو بس کے روٹ کے منصوبے میں مبینہ کرپشن کو چھپانے کے لیے دانستاً آگ لگائی گئی تاکہ ریکارڈ جل جائے اور ثبوت ختم کئے جاسکیں۔لیکن یہ کہانیاں بھی اپنی موت آپ مرچکی ہیں۔رواں سال جنوری کے ابتدائی دنوں میں لاہور کے علاقے انارکلی میں دم گھٹنے سے 13افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔ 13افراد اپنی جانوں سے گئے ۔ لیکن ضلعی حکومت اور پولیس میں سے کسی کو بھی اس واقعے کی روک تھام کا ذمے دار قرار نہ دیا گیا۔اور اب لاہور کے علاقے سندر کے صنعتی اسٹیٹ میں فیکٹر ی ہی کے زمین بوس ہونے پر 50سے زائد افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔ لیکن ابھی تک کسی محکمے کو فیکٹری کے زمین بوس ہونے کا زمین دار نہیں ٹھہرایا جاسکا۔

مزید : پشاورصفحہ اول