” مصر کے اہرام دراصل اناج کو ذخیرہ کرنے کیلئے تعمیر کئے گئے“ بیان پر متوقع امریکی صدارتی امیدوار کو تنقید کا سامنا

” مصر کے اہرام دراصل اناج کو ذخیرہ کرنے کیلئے تعمیر کئے گئے“ بیان پر متوقع ...
” مصر کے اہرام دراصل اناج کو ذخیرہ کرنے کیلئے تعمیر کئے گئے“ بیان پر متوقع امریکی صدارتی امیدوار کو تنقید کا سامنا

  

نیویارک (ویب ڈیسک) اس ہفتے امریکہ میں متوقع صدارتی امیدوار بین کارسن کو اس بات پر خاصی تنقید اور تمسخر کا سامنا کرنا پڑا کہ مصر کے اہرام دراصل اناج کو ذخیرہ کرنے کے لیے تعمیر کئے گئے تھے۔ دنیا بھر کے سکولوں کے بچے بھی جانتے ہیں اہرامِ مصر دراصل فرعونوں کے مزار ہیں لیکن سوال پیدا ہوتا ہے کہ بین کارسن کو یہ خیال کہاں سے آیا کہ زمانہ قدیم میں مصری انھیں گوداموں کے طور پر استعمال کرتے تھے۔ بین کارسن کا یہ بیان بدھ کو اس وقت منظر عام پر آیا جب ایک ویب سائٹ نے ان کی ایک 17 سال پرانی ویڈیو شائع کر دی جس میں وہ مشیگن یونیورسٹی کے طلبا کے ایک مذہبی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہہ رہے تھے کہ اہرام مصر دراصل حضرت یوسفؑ نے تعمیر کئے تھے اور انکا مقصد اناج کو ذخیرہ کرنا تھا۔ مسیحوں کے عہدنامہ ’اولڈ ٹیسٹامنٹ‘ کے مطابق حضرت یوسفؑ کو ان کے بھائیوں نے مصر کے بازار میں فروخت کر دیا تھا، جہاں بعد میں انہوں نے اس وقت کے ایک فرعون کو خوابوں کی تعبیر بتائی اور مصر کے لوگوں کو سات سال طویل قحط کے دوران زندہ رہنے میں مدد دی۔ اگرچہ انجیل میں دی ہوئی حضرت یوسفؑ کی کہانی میں اہرام کا کوئی ذکر نہیں ملتا، تاہم قرونِ وسطیٰ میں لوگوں نے اس کہانی میں قحط کے حوالے سے اہرام کا ذکر بھی کرنا شروع کردیا تھا۔

مزید :

بین الاقوامی -