طلاق کے بعد یہ ایک کام حرام ہے،سعودی سکالر نے واضح اعلان کر دیا

طلاق کے بعد یہ ایک کام حرام ہے،سعودی سکالر نے واضح اعلان کر دیا
طلاق کے بعد یہ ایک کام حرام ہے،سعودی سکالر نے واضح اعلان کر دیا

  

ریاض(مانیٹرنگ ڈیسک) شادی کے دعوتی کارڈز تو دنیا بھر میں رشتہ داروں اور احباب کو بھیجے جاتے ہیں مگر سعودی عرب میں طلاق کی تقریب میں شرکت کے دعوت نامے بھیجنے کی روایت بھی پڑ چکی ہے۔ اکثرمردوخواتین اپنی طلاق کو ایک پروقارتقریب میں شادی کی طرح مناتے ہیں۔سعودی عرب میں زیادہ تر خواتین طلاق کی تقریبات منعقد کروا رہی ہیں۔ لیکن اب شاید سعودی عرب میں بڑھتے اس رجحان میں کچھ کمی آ سکے کیونکہ شاہ عبدالعزیز یونیورسٹی کے اسلامک گورننس سسٹم کے پروفیسر حسن صفر کی طرف سے طلاق کی تقریبات کو شرعاً حرام قرار دے دیا گیا ہے۔

پروفیسر حسن صفر کا کہنا ہے کہ اس طرح کی تقریبات شہریوں میں شادی کے حوالے سے مایوسی پھیلا رہی ہیں۔ لوگ سوچنے لگے ہیں کہ شادی کرنا کوئی ناخوشگوار کام ہے۔انہوں نے کہا کہ طلاق کی تقریب کا انعقاد شریعت کی تعلیمات کے خلاف ہے۔ طلاق لینے والے جوڑوں کو قرآن مجید کی تعلیمات کو نہیں بھولنا چاہیے۔انہیں طلاق کے بعد بھی ایک دوسرے کی عزت کرنی چاہیے کیونکہ اللہ تعالیٰ سب دیکھ رہا ہے۔اس طرح کی تقریبات منعقد کرنا اسلام اور مسلمانوں کا شیوہ نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر شوہر بیوی سے برا سلوک کرتا تھا تو بیوی کو طلاق پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنا چاہیے مگر اس طرح کی تقریبات منعقد کرنا کسی طور درست نہیں۔انہوں نے ملک کے ممتاز علماءکرام سے مطالبہ کیا کہ وہ اس حوالے سے فتویٰ جاری کریں۔ جس سے طلاق لینے والے جوڑوں کو رہنمائی ملے اور وہ آئندہ ایسی تقریبات کے انعقاد سے گریز کریں۔

مزید :

ڈیلی بائیٹس -