قومی احتساب بیورو (NAB)کے ڈائریکٹرجنرلز کی سالانہ کامیاب کانفرنس

قومی احتساب بیورو (NAB)کے ڈائریکٹرجنرلز کی سالانہ کامیاب کانفرنس

  

بدعنوانی ایک ایسی لعنت ہے جو ملک کو دیمک کی طرح چاٹ رہی ہے۔ بدعنوانی کی وجہ سے حقدار کو اس کا حق نہیں ملتا بلکہ ملکی ترقی و خوشحالی کا پہیہ بھی رک جاتا ہے۔ پاکستانی قوم بہترین صلاحیتوں کی حامل ایک ایسی قوم ہے جوہر مشکل وقت اور ہر گھڑی پر نہ صرف اپنے باہمی اختلافات بھلا کر اکٹھی ہو ئی ہے بلکہ پاکستانی قوم نے اﷲتعالی کے فضل و کرم سے نا ممکن کو ممکن بنانے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی جس کا برملا اظہار پوری دنیا نے کیا ہے۔ چاہے وہ 2005 کا زلزلہ ہو، سیلاب کی تباہ کاریاں ہوں یا کوئی اور آفت پاکستانی قوم نے اکٹھے مل کر ہر مشکل کا جس جوانمردی سے مقابلہ کیا ہے اس کی مثال دنیا کی تاریخ میں نہیں ملتی۔پاکستان کو اس وقت جس بڑے چیلیج کا سامنا ہے وہ ہے بدعنوانی۔

بدعنوانی تمام برائیوں کی جڑ ہے جس کو پوری قوم نے مل کر بدعنوانی کے خاتمہ کے لئے اپنا کردار ادا کرنا ہے جہاں تک قومی احتساب بیورو کا تعلق ہے اس کے قیام کا مقصد ملک سے بدعنوانی کے خاتمہ میں مدد فراہم کرنا اور بدعنوان عناصر سے لوٹی ہوئی رقم برآمد کرکے ملکی خزانے میں جمع کروانا ہے۔ قومی احتساب بیورو کے بارے میں چند لوگ یہ تاثردینے کی کوشش کرتے ہیں کہ بدعنوان عناصر سے لوٹی ہوئی رقم کا کچھ حصہ نیب کو ملتا ہے جو کہ سرا سر غلط اور حقائق کے منافی ہے۔ نیب بدعنوان عناصر سے لوٹی ہوئی پوری رقم برآمد کرکے ملکی خزانے میں جمع کرواتا ہے ۔

قومی احتساب بیورو (NAB) کے موجودہ چئیرمین قمر زمان چوہدری کو ان کی ایمانداری ، تجربہ، شاندار اور بے داغ ماضی کی بدولت متفقہ طور پر قومی احتساب بیورو کا چئیرمین منتخب کیا گیا تھا۔ قومی احتساب بیورو کے چئیرمین قمرزمان چوہدرری نے ملک سے بدعنوانی کے خاتمہ کے لیئے جہاں شبانہ روز سخت محنت کی وہا ں انہوں نے ملک سے بدعنوانی کی خاتمہ کے لئے بہترین حکمت عملی(Strategy) ترتیب دی جس پربلا تفریق عمل کرتے ہوئے قومی احتساب بیورو نے بدعنوان عناصر کے خلاف شواہد کی بنیا د پر قانون کے مطابق کاروائی کی اور 264 ارب روپے کی لوٹی ہوئی رقم بدعنوان عناصر سے برآمد کرکے قومی خزانے میں جمع کروائی جو کہ ایک بہت بڑی کامیابی ہے اس کی علاوہ قومی احتساب بیورو کے چئیرمین قمر زمان چوہدری نے قومی احتساب بیورو کو ایک غیر جانبدار اور پروفیشنل ادارہ بنایا جس کا برملا اظہار نہ صرف عوام نے گزشتہ سالوں کی نسبت امسال دوگنا درخواستیں دے کر کیا بلکہ غیر جانبدار اداروں جن میں ٹرانسپرنیسی انٹر ینشل اور پلڈاٹ نے بھی قومی احتساب بیورو کی کاوشوں کا اعتراف کیا ہے ۔ ملک سے بدعنوانی کا خاتمہ پورے ملک کی آواز بن چکا ہے ۔ قومی احتساب بیورو کے چئیرمین قمرزمان چوہدری نے اپنے عہدے کا منصب سنبھالنے کے بعد ادارے میں جہا ں بہت سی نئی اصلاحات متعارف کروائی ہیں وہا ں انہوں نے بدعنوانی کے خاتمہ کیلئے بھی ذاتی دلچسپی اور اپنی بہترین صلاحیتوں اور تجربہ کا استعمال کرتے ہوئے نیب کو ایک متحرک ادارہ بنا دیا ہے جو ہمہ وقت بدعنوان عناصر کے خلاف بلا تفریق قانون کے مطابق کاروائی کرنے کے لئے متحرک ہے۔ قومی احتساب بیورو کے چئیرمین قمر زمان چوہدری بدعنوانی کے خاتمہ کے لئے زیرو ٹالرینس کی پالیسی پر عمل کرتے ہوئے کسی بھی دباؤ اور پریشر کو خاطر میں نہیں لاتے بلکہ میرٹ ، شواہد اور قانون کے مطابق بدعنوان عناصر کے خلاف کاروائی پر یقین رکھتے ہیں۔ بقول شاعر:

کسی کی زیست کے لمحے سنوارنے کے لئے

ہم اپنی ذات کو مد نظر نہیں رکھتے

یہی وجہ ہے کہ قومی احتساب بیورو (نیب) نے قومی احتساب بیورو کے چئیرمین قمر زمان چوہدری کی زیر صدارت نیب ہیڈکوارٹرزمیں نیب کے ڈائریکٹر جنرلز کی بیسویں سالانہ کانفرنس منعقد کی جس میں نیب کے ڈپٹی چیئرمین، پراسیکیوٹر جنرل اکاؤنٹ ایبلٹی اور نیب کے تمام ریجنل ڈائریکٹر جنرلز نے شرکت کی۔ قومی احتساب بیورو کے ڈائریکٹر جنرلز کی سالانہ کانفرنس منعقد کرنے کا بینادی مقصد ایک طرف نیب کے تما م علاقائی دفاتر کی کارکردگی کا جائزہ لینا تھا دوسری طرف بدعنوانی کے خاتمہ کے لئے زیرو ٹالرینس کی پالیسی پر عمل کرتے ہوئے بدعنوانی کے خاتمہ کے لئے نیب کی کوششوں کو مزید مربوط اور منظم انداز میں قانون کے مطابق جاری رکھنے کی منظوری دی گئی ۔

قومی احتساب بیورو کے ڈائریکٹر جنرلز کی سالانہ کانفرنس میں ادارہ کے اندرونی احتساب کے نظام کی منظوری کے علاوہ ایس او پیز (SOPs) کی منظوری دی گئی جبکہ 2000 سے تمام زیر التواء مقدمات پر 31 دسمبر 2015ء تک قانون کے مطابق کاروائی کرنے کی منظوری دی گئی۔ کانفرنس نے قومی احتساب بیورو کے چئیرمین قمر زمان چوہدری کی سربراہی میں نیب کی اگاہی اور تدارک کی مہم ’’کرپشن سے انکار ’’ کو بھی مزیدموئژطریقے سے چلانے کا فیصلہ کیا گیا تا کہ عوام کو بدعنوانی کے مضر اثرات سے بر وقت آگاہی فراہم کی جا سکے ۔

کانفرنس میں بتایا گیا کہ کچھ وجوہات کی بنیاد پر نیب کا کام گذشتہ سالوں میں بری طرح متاثر ہوا جس سے عملہ کی استعداد کار بھی متاثر ہوئی۔ حالات کے تناظر میں سال 2014ء نیب کی بحالی کا سال تھا مسائل اور مشکلات کے جامع تجزیہ کے بعد ادارہ کے کام کرنے کے طریقہ کار اور ڈھانچہ میں قومی احتساب بیورو کے چئیرمین قمر زمان چوہدری کی ہدایت پراصلاحات کا ایک پروگرام شروع کیا گیا جس سے ادارہ میں نہ صرف نئی روح پیدا ہوئی بلکہ اس میں مقاصد کے حصول، پروفیشنل ازم، شفافیت جیسے کردار بھی پیدا ہوئے جو ادارہ کے مختلف شعبوں میں نتائج کے حصول کیلئے بنیادی اہمیت کے حامل ہیں۔ نیب کے موجودہ چئیرمین قمرزمان چوہدری کی ہدائت پر کئے اقدامات کے تحت سی آئی ٹی، ایس او پیز کو موجودہ حالات کے مطابق ڈھالا گیا جن میں انکوائری اور تحقیقات کو مقررہ وقت کے دوران مکمل کرنے کیلئے ذمہ داریوں کو تفویض کیا گیا جبکہ عملہ کی استعداد کار میں بہتری کیلئے تربیت بھی فراہم کی گئی اور اس سے نتائج حاصل ہونا شروع ہو گئے۔ انتظامی سطحوں پر معاونت اور سپروژن کے کام میں مدد ملے گی۔ دو سال کی کاوشوں اور سخت محنت کے بعد نیب ایک بہترین انسداد رشوت ستانی کے ادارہ کی صورت میں سامنے آیا ہے جو اپنی موجودہ افرادی قوت کی ترقی کیلئے تربیت اور ان کو کام کرنے کا بہترین ماحول فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ 110 تحقیقاتی افسران کی بھرتی سے ایک ماڈل ادارہ بن چکا ہے۔ نئے تحقیقاتی افسر جوپولیس ٹریننگ کالج سہالہ میں زیر تربیت ہیں ان کی تربیت کی تکمیل کے بعد تفتیش اور تحقیق کے کام میں مزید آسانی پیدا ہو گی، نیب اب پہلے سے زیادہ بہتر پوزیشن میں اپنا کام کرنے کا اہل ہے، ٹی سی ایس اور ایم اے کیوز پر نظرثانی سے افسران کے کیرئیر پر بھی خوشگوار اثر پڑا ہے نیب کے افسران کی محنت سے گذشتہ دو سال کے دوران شفافیت مقاصد کے حصول، پروفیشنل ازم بڑھانے میں مدد ملی ہے آج کا نیب ایک نیا نیب ہے۔ ڈی جیز کانفرنس میں نئے قائم کردہ مانیٹرنگ اینڈ ایویلوایشن سسٹم پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ اجلاس کے شرکاء کو چیئرمین نیب قمرزمان چوہدری کی ہدایت پر جائزہ اورنگرانی کا موثر نظام وضع کیا گیاہے اس نظام کے تحت تمام شکایات پر پہلے دن سے ہی unique identification number لگایا جا رہا ہے بلکہ انکوائریوں، انوسٹی گیشن، احتساب عدالتوں میں ریفرنس، ایگزیکٹو بورڈ، ریجنل بورڈز کی تفصیل ، وقت اور تاریخ کے حساب سے ریکارڈ رکھنے کے علاوہ موثر مانیٹرنگ اینڈ اولیویشن سسٹم کے ذریعہ اعدادوشمار کا معیاراور مقدار کا تجزیہ بھی کرنے کی ہدایت کی گئی ہے اور قانون کی خلاف ورزی کرنے والے نیب افسران اور اہلکاروں کے خلاف محکمانہ کاروائی کے لئے بھی نظام وضع کیا گیاہے ۔نیب نے شکایات کوجلد نمٹانے کیلئے انفراسٹرکچراورکام کرنے کے طریقہ کار میں جہاں بہتری لائی وہاں شکایات کی تصدیق سے انکوائری اور انکوائری سے لے کر انویسٹی گیشن اوراحتساب عدا لت میں قانون کے مطابق ریفرنس دائر کرنے کے لئے ((10 دس ماہ کا عرصہ مقرر کیا اسکے علاوہ چیئرمین نیب قمرزمان چوہدری کی ہدایت پر قومی احتساب بیورو نے اپنے ہر علاقائی دفتر میں ایک شکایت سیل بھی قائم کیا گیا ۔ نیب نے انویسٹی گیشن آفیسرز کے کام کرنے کے معیاری طریقہ کار کا ازسرنو جائزہ لیا ۔ سینئر سپروائزری افسران کے تجربے اور اجتماعی دانش سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ڈائریکٹر، ایڈیشنل ڈائریکٹر، انویسٹی گیشن آفیسرز اور سینئر لیگل قونصل پر مشتمل سی آئی ٹی(CIT) کا نظام قائم کیاہے جس سے نہ صرف کام کا معیار بہتر ہوگا بلکہ کوئی بھی شخص انفرادی طور پر تحقیقات پر اثرا انداز نہیں ہوسکے گا۔ چیئرمین نیب قمرزمان چوہدری نے ادارے کے اندر بھی احتساب کا عمل شروع کیا اس عمل کے تحت بد دیانت اور غفلت برتنے والوں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔ نیب کے ہیڈکوارٹر میں ایک اینٹیگریٹی منیجمنٹ سیل قائم کیا گیا ہے مذید براں نیب نے افسران، پراسیکیوٹر اور فیلڈ افسران کی کارکردگی کا موثر جائزہ لینے کیلئے آٹو میٹڈ مانیٹرنگ سسٹم قائم ہے جو کہ موجودہ کاغذ پر اعتماد کے نظام اور زیادہ وقت لینے والے رپورٹنگ سسٹم کا متبادل ثابت ہوگا اور سرکاری کام میں کارکردگی اورمعیار میں اضافہ ہوگا۔ کانفرنس میں مقدمات کی قانون کے مطابق ڈسپوزل کیلئے ٹائم لائن کی منظوری دی گئی جس میں شکایت کی تصدیق سے لے کر اس کی تفتیش اور احتساب عدالت میں ریفرنس دائر کرنے کیلئے 10 ماہ کا وقت مقرر کیا گیا ہے۔قومی احتساب بیورو کے یہ ایس او پی(SOP) 10 سال کے بعد تبدیل کر کے ان کو موجودہ ضروریات کے تحت کیا گیا ہے جس میں اقتصادی ، سماجی اور ٹیکنالوجی کے حقائق کو مدنظر رکھا گیا ہے جبکہ اس کے علاوہ قانون کے تحت مقاصد کے حصول کیلئے بھی خصوصی رہنمائی شامل کی گئی ہے۔ نیب کے علاقائی بیورز کی کارکردگی کو مزید بہتر بنایاگیا ہے۔ ڈی جیز کانفرنس میں نیب کے اندرونی احتساب کے نظام کی بھی منظوری دی گئی اور تمام ریجنل بیوروز کو اس پر عمل کرنے کیلئے ہدایات جاری کی گئیں۔ کانفرنس نے نیب کے تمام علاقائی دفاتر کی جانچ پڑتال کے لئے گریڈنگ سسٹم کی بھی منظوری دی ۔ گریڈنگ سسٹم نیب کے تمام علاقائی دفاتر کی سالانہ کارکردگی کا جائزہ لے گا۔اور تمام علاقائی دفاتر کو ان کی خوبیوں اور خامیوں سے آگاہ کرے گا تاکہ وہ اس کو مستقبل میں مزید بہتر بنا سکیں۔

نیب قومی احتساب بیورو کے چئیرمین قمر زمان چوہدری کی قیادت میں بدعنوانی کیخلاف زیرو ٹالرننس کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔ نیب آگاہی اور قانون پر عملدرآمد کے ذریعے ملک بھر میں بلاامتیاز کارروائی جاری رکھے ہوئے ہے اور انسداد بدعنوانی کے خاتمے کیلئے بلاامتیاز اور پیشہ وارانہ اہلیت کے ساتھ اپنے فرائض ادا کرنے کیلئے پرعزم ہے۔ چیئرمین نیب کی ہدایت پر لوگوں کو بدعنوانی کے برے اثرات سے آگاہ کرنے کیلئے آگاہی اور قانون پر عملدرآمد کی بھرپور مہم شروع کی گئی ہے۔ نیب این اے او 1999ء کے سیکشن 33 سی کے تحت بدعنوانی کے خاتمے کیلئے آگاہی اور قانون پر عملدرآمد کا اختیار رکھتا ہے۔ نیب نے بدعنوانی کے خاتمے کیلئے مختلف سرکاری اور غیر سرکاری تنظیموں اور سول سوسائٹی کو شامل کیا ہے۔ کرپشن کے خاتمے کیلئے نیب نے متعدد اقدامات میں بدعنوانی کے برے اثرات سے لوگوں کو آگاہ کرنے کیلئے ملک بھر کے تمام شیڈول بینکوں کی تمام اے ٹی ایم مشینوں پر نیب کا ’’بدعنوانی سے انکار‘‘ کا پیغام درج کیا گیا ہے۔ نیب نے انسداد بدعنوانی کے عالمی دن کے موقع پر ایوان صدر اسلام آباد میں ایک سیمینار منعقد کیا۔ صدر پاکستان ممنون حسین نے اس سیمینار کی صدارت کی۔ نیب نے ایوان صدر میں ایک واک کا اہتمام کیا جس کی قیادت صدر پاکستان نے کی اور زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد نے نیب کی ’’بدعنوانی سے انکار‘‘ مہم میں شرکت کی۔ نیب اور اعلیٰ تعلیمی کمیشن نے مختلف یونیورسٹیوں کے طالب علموں میں آگاہی پیدا کرنے کیلئے مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کئے ہیں اس تعاون کی وجہ سے ملک کی مختلف یونیورسٹیوں میں کردار سازی کی 4 ہزار 30 انجمنیں قائم کی گئی ہیں۔ پاکستان کرکٹ بورڈ نے اس مہم میں نیب کا ساتھ دیا ہے جس کی وجہ سے پاکستان کرکٹ ٹیم نے آئی سی سی ورلڈ کپ 2015ء کی رونگی سے قبل نیب کی ’’سے نو ٹو کرپشن‘‘ مہم میں شرکت کی۔ پاکستان ہاکی فیڈریشن کے تعاون سے پاکستان ہاکی ٹیم نے نیب کے پیغام ’’سے نو ٹو کرپشن‘‘ کو اجاگر کیا۔ سوئی ناردرن گیس پائپ لائن لمیٹڈ، آئیسکو، لیسکو، گیپکو، فیسکو کے تعاون سے یوٹیلٹی بلوں پر نیب کا پیغام ’’سے نو ٹو کرپشن‘‘ پرنٹ کیا گیاہے۔ پاکستان پوسٹ کے تعاون سے انسداد بدعنوانی کے عالمی دن پر خصوصی یادگاری ٹکٹ جاری کیا گیا ہے جس پر نیب کا پیغام ’’سے نو ٹو کرپشن‘‘ درج تھا۔ اسلام آباد ٹریفک پولیس کے تعاون سے تمام ڈرائیونگ لائسنسوں پر نیب کا پیغام ’’سے نو ٹو کرپشن‘‘ درج ہے۔ میریٹ ہوٹل اسلام آباد، سرینا ہوٹل اسلام آباد، اسلام آباد ایئر پورٹ اور بڑے شاپنگ پلازوں کے داخلی دروازوں پر نیب کا ’’سے نو ٹو کرپشن‘‘ کا پیغام درج ہے۔

ڈی جیز کانفرنس میں اس امر پر خوشی کا اظہار کیا کہ نیب راولپنڈی اسلام آباد بیورو میں نیب کی اپنی فرانزک سائنس لیبارٹری قائم کی گئی ہے اس لیبارٹری میں ڈیجیٹل فرانزک، سوالیہ دستاویزات اور فنگر پرنٹ کے تجزیئے کی جدید سہولیات میسر ہیں۔ چیئرمین نیب قمر زمان چوہدری کی ہدایت پر نیب راولپنڈی اسلام آباد بیورو میں فرانزک سائنس لیبارٹری کے قیام اور اسے فعال کرنے کا مقصد معاشرے سے بدعنوانی کے خاتمے کیلئے بڑھتی ہوئی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے نیب کو جدید آلات سے لیس کرنا ہے۔ چیئرمین نیب قمر زمان چوہدری نے نیب کے ڈائریکٹرز جنرلز کی بیسویں سالانہ کامیاب کانفرنس کو نیب کے تمام علاقائی دفاتر اور نیب ہیڈ کوارٹرز کے افسران کے آپس میں رابطے اور ایک دوسرے کے تجربات سے مستفید ہونے کا بہترین موقع قرار دیا اس کے علاوہ انہوں نے اس عزم کا ا ظہار کیا کہ نیب قومی احتساب بیورو کے افسران کی استعداد کارمیں اضافہ کیلئے اسلام آباد میں ملائشیاء کی اینٹی کرپشن اکیڈمی کی طرز پر جدید حطوط پر اینٹی کرپشن اکیڈمی قائم کرنے کا ارداہ رکھتا ہے ۔ قومی احتساب بیورو کے چئیرمین قمر زمان چوہدری ملک سے بدعنوانی کے خاتمہ کے لئے انتہائی سنجیدہ ہیں یہی وجہ ہے کہ کراچی سے خیبر تک بدعنوان عناصر کے خلاف قومی احتساب بیورو قانون کے مطابق بلا تفریق کاروائی کے لئے سرگرم عمل ہے تاکہ بدعنوانی سے پاک پاکستان کا خواب شرمندہ تعبیرہو سکے۔

مزید :

کالم -